حدیث نمبر: 6357
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الشِّغَارِ ، وَعَنْ بَيْعِ الْمَجَرِ ، وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ ، وَعَنْ بَيْعِ كَالِئٍ بِكَالِئٍ ، وَعَنْ بَيْعِ آجِلٍ بِعَاجِلٍ . ¤ قَالَ : وَالْمَجَرُ مَا فِي الْأَرْحَامِ . ¤ وَالْغَرَرُ : أَنْ تَبِيعَ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ . ¤ وَكَالِئٌ بِكَالِئٍ : دَيْنٌ بِدَيْنٍ . ¤ وَالْآجِلُ بِعَاجِلٍ : أَنْ يَكُونَ لَكَ عَلَى الرَّجُلِ أَلْفُ دِرْهَمٍ فَيَقُولَ الرَّجُلُ : أُعَجِّلُ لَكَ خَمْسَمِائَةٍ وَدَعِ الْبَقِيَّةَ . ¤ وَالشِّغَارُ : أَنْ يُنْكِحَ الْمَرْأَةَ بِالْمَرْأَةِ لَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے ، مجر فروخت کرنے سے ، دھوکے کے سودے سے ، کالی کے عوض میں کالی کے سودے سے ، اور ادھار کے بدلے میں نقد سودے سے منع کیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : مجر سے مراد وہ چیز ہے ، جو ( جانور کے ) پیٹ میں موجود ہو ۔ دھوکے کے سودے سے مراد یہ ہے کہ آپ ایسی چیز فروخت کر دیں جو آپ کے پاس ہے ہی نہیں ۔ کالی کے عوض میں کالی سے مراد یہ ہے کہ ادھار کے بدلے میں ادھار کا سودا کیا جائے ۔ تاخیر کے بدلے میں جلدی کا سودا یہ ہے کہ آپ نے کسی شخص سے ایک ہزار درہم لینے ہیں اور وہ شخص یہ کہے کہ میں آپ کو پانچ سو درہم جلدی ادا کر دیتا ہوں آپ باقی رقم چھوڑ دیں ۔ شغار یہ ہے کہ عورت کے عوض میں عورت کے ساتھ نکاح کر لیا جائے اور ان دونوں کا کوئی مہر نہ ہو ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6358
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا تَلَامَسُوا ، وَلَا تَبَايَعُوا الْغَرَرَ ، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَمَنِ اشْتَرَى شَاةً مُحَفَّلَةً فَلْيَحْلِبْهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، فَإِنْ رَدَّهَا فَلْيَرُدَّهَا بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آپس میں مصنوعی بولی: نہ لگاؤ بیع ملامسہ نہ کرو دھوکے کا سودا نہ کرو شہری شخص دیہاتی کے لئے کوئی چیز فروخت نہ کروائے اور جو شخص کوئی محفلہ بکری خرید لیتا ہے ، تو وہ تین دن تک اس کا دودھ دوہے گا پھر اگر وہ چاہے ، تو کھجور کے ایک صاع کے ہمراہ اسے واپس کر دے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6359
وَعَنْ زَامِلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ يَوْمَ الْفِطْرِ إِلَى الْعِيدِ عَنْ يَمِينِهِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَعَنْ يَسَارِهِ عُمَرُ - أَوْ قَالَ : ابْنُ عُمَرَ - فَلَمَّا فَرَغَ مَرَّ عَلَى بَابِ أَبِي كَثِيرٍ - أَوْ كَبِيرٍ - وَاللَّحَّامُونَ بِفِنَائِهَا وَالنَّاسُ حَدِيثُو عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَقَالَ : " كَيْفَ تَبِيعُونَ ؟ " . قَالُوا : كَذَا وَكَذَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ ، وَلَا تَخْلِطُوا مَيْتَةً بِمَذْبُوحَةٍ عَلَى النَّاسِ . أَيُّهَا النَّاسُ احْفَظُوا : لَا تَحْتَكِرُوا ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا تُلْقُوا السِّلَعَ ، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلَا يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَأْذَنَ لَهُ ، وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ الْأُخْرَى لِتَكْتَفِئَ إِنَاءَهَا وَلِتُنْكَحَ ، فَإِنَّ رِزْقَهَا عَلَى اللَّهِ تَعَالَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ صَهْبَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
زامل بن عمرو نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : عیدالفطر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف تشریف لے گئے آپ کے دائیں طرف سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے اور بائیں طرف سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے جب آپ فارغ ہوئے تو آپ کا گزر باب ابوکثیر ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) باب ابوکبیر کے پاس سے ہوا جس کے باہر گوشت فروخت کرنے والے لوگ موجود تھے لوگ اس وقت زمانہ جاہلیت کے قریب تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کیسے فروخت کر رہے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اتنے ، اتنے کے عوض میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم جیسے چاہو ویسے فروخت کرو لیکن لوگوں کے لئے ذبح شدہ جانور کے ساتھ مردار کو نہ ملا دینا اے لوگو ! حفاظت کرو تم ذخیرہ اندوزی نہ کرو تم مصنوعی بولی: نہ لگاؤ تم ( منڈی سے باہر ) سامان ( کے قافلے ) سے نہ ملو ، شہری شخص دیہاتی کے لئے کوئی چیز فروخت نہ کرے کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ بھیجے جب تک وہ بھائی اسے اجازت نہیں دے دیتا اور کوئی عورت دوسری عورت کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے حصے کے برتن کو خود حاصل کر لے اور اس کے ساتھ نکاح کر لیا جائے کیونکہ اس عورت کا رزق اللہ تعالیٰ کا ذمہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صہبان ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صہبان ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 6360
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى ، ثُمَّ أَدْبَرَ فَاتَّبَعَهُ أُبَيٌّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، وَاتَّبَعْتُهُمْ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى اللَّحَّامِينَ عِنْدَ دَارِ أَبِي كَثِيرٍ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَسْلَخُوا ذَبِيحَتَكُمْ حَتَّى تَمُوتَ ، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا تَلَقَّوُا السِّلَعَ ، وَلَا تَحْتَكِرُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ صَهْبَانَ أَيْضًا ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عیدالفطر یا شاید عیدالاضحی کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی پھر آپ واپس تشریف لائے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آپ کے پیچھے تھے ان حضرات کے پیچھے میں بھی تھا یہاں تک کہ ہم دار ابوکثیر کے پاس گوشت فروخت کرنے والوں تک پہنچ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم اپنے ذبیحہ کی کھال اس وقت تک نہ اتارو جب تک وہ مر نہیں جاتا اور کوئی شخص کسی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور تم آپس میں مصنوعی بولی: نہ لگاؤ اور تم ( منڈی تک پہنچنے سے پہلے ) سامان سے نہ ملو اور تم ذخیرہ اندوزی نہ کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن صہبان ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن صہبان ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 6361
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَهْلُ الْمَدَايِنِ الْحُبَسَاءُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ رِدْءُ الْمُسْلِمِينَ وَثَغْرُهُمْ فَلَا تَغْلُوا عَلَيْهِمْ ، وَلَا تَحْتَكِرُوا ، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلَا يَسِمِ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَتِهِ ، وَلَا تَكْتَفِئِ الْمَرْأَةُ إِنَاءَ أُخْتِهَا ، وَكُلٌّ رِزْقُهُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شہروں کے لوگ اللہ کی راہ میں پابند ہوتے ہیں ، تو تم ان کے خلاف چیزیں مہنگی نہ کرو ، اور تم ذخیرہ اندوزی نہ کرو اور شہری شخص دیہاتی کے لئے کوئی چیز فروخت نہ کرے اور کوئی شخص اپنے بھائی کی بولی: پر بولی: نہ لگائے اور اس کی شادی کے پیغام پر شادی کا پیغام نہ بھیجے اور کوئی عورت اپنی بہن کے برتن کو خود حاصل نہ کر لے ہر ایک کا رزق اللہ تعالی کے ذمہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حماد بن عبدالرحمن ہے اور وہ منکر الحدیث ہے اور مجہول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حماد بن عبدالرحمن ہے اور وہ منکر الحدیث ہے اور مجہول ہے ۔
حدیث نمبر: 6362
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَحِلُّ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ بِطَلَاقِ أُخْرَى ، وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَبِيعَ عَلَى بَيْعِ صَاحِبِهِ حَتَّى يَذَرَهُ ، وَلَا يَحِلُّ لِثَلَاثَةِ نَفَرٍ يَكُونُونَ بِأَرْضِ فَلَاةٍ إِلَّا أَمَّرُوا عَلَيْهِمْ أَحَدَهُمْ وَلَا يَحِلُّ لِثَلَاثَةِ نَفَرٍ يَكُونُونَ بِأَرْضِ فَلَاةٍ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” یہ بات حلال نہیں ہے کہ کسی عورت کے ساتھ دوسری عورت کی طلاق ( کی شرط ) کے ہمراہ نکاح کیا جائے گا اور آدمی کے لئے یہ بات حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے ساتھی کے سودے پر سودا کرے جب تک وہ دوسرا شخص اس کو چھوڑ نہیں دیتا اور تین افراد کے لئے یہ بات حلال نہیں ہے کہ جب وہ کسی ویرانے میں موجود ہوں تو انہوں نے کسی کو امیر نہ بنایا ہو اور تین افراد کے لئے یہ بات حلال نہیں ہے کہ جب وہ تنہا موجود ہوں تو ان میں سے دو افراد ایک کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی میں بات چیت کریں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6363
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْجَلَبِ وَالْجَنَبِ ، وَنَهَى عَنِ اللَّمْسِ ، وَالنَّجْشِ مَعَ الْبَيْعِ ، وَنَهَى أَنْ يَبْتَاعَ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ، أَوْ يَخْطُبَ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ ، وَغَيْرُهُ مِنْهُ : " لَا جَلَبَ ، وَلَا جَنَبَ " . ¤ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” جلب “ اور ” جنب “ سے منع کیا ہے ، آپ نے بیع ملامسہ سے منع کیا ہے اور آپ نے سودے کے ہمراہ مصنوعی بولی: لگانے سے منع کیا ہے اور اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر کوئی سودا کرے یا اپنے بھائی کی شادی کے پیغام پر اپنا شادی کا پیغام بھیج دے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اس میں سے یہ حصہ نقل کیا ہے : ” جلب اور جنب نہیں ہو گا “ ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6364
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْجَلَبَ ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ، وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صُحْفَتِهَا ، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كُتِبَ ، وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ ، وَالْغَنَمَ لِلْبَيْعِ فَمَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً ، فَإِنَّهُ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ إِنْ رَدَّهَا رَدَّهَا بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ " . ¤ قُلْتُ : لِابْنِ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ : النَّهْيُ عَنِ النَّجْشِ ، وَالتَّلَقِّي . وَلَهُ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ ، وَابْنِ مَاجَهْ حَدِيثٌ فِي الْمُصَرَّاةِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِيهِ : " رَدَّ مِثْلِي أَوْ مِثْلَ لَبَنِهَا قَمْحًا " بَدَلَ التَّمْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ ابْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شہری شخص دیہاتی کی چیز فروخت نہیں کروائے گا تم ( منڈی تک پہنچنے سے پہلے ) سوداگروں سے نہ ملو اور تم مصنوعی بولی: نہ لگاؤ اور تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے بھائی کے شادی کے پیغام پر اپنی شادی کا پیغام نہ بھیجے اور کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے پیالے میں موجود چیز کو خود حاصل کر لے اس عورت کو وہ چیز ملے گی جو اس کے نصیب میں ہو گی اور تم اونٹنیوں یا بکریوں کا انہیں فروخت کرنے کے لئے تصریہ نہ کرو جو شخص کوئی تصریہ والی بکری خریدتا ہے ، تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہو گا ( یا تو وہ اس کو رکھ لے یا پھر ) اگر وہ چاہئے ، تو اسے واپس کر دے اور اس کے ہمراہ کھجور کا ایک صاع واپس کرے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، جو بولی: لگانے اور ( منڈی سے باہر سوداگروں سے ) ملنے کی ممانعت کے بارے میں ان کے حوالے سے امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ نے ایک حدیث نقل کی ہے ، جو تصریہ والے جانور کے بارے میں ہے تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ اس کے دودھ کی دو مثل ، ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایک مثل ، جتنی گندم واپس کرے گا “ یعنی ۔ انہوں نے کھجور کی جگہ گندم کا لفظ استعمال کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔