کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: دھوکے کا سودا اور جس ( قسم کے سودے ) سے منع کیا گیا ہے
حدیث نمبر: 6353
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَشْتَرِ السَّمَكَ فِي الْمَاءِ ، فَإِنَّهُ غَرَرٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مَوْقُوفًا ، وَمَرْفُوعًا ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ كَذَلِكَ ، وَرِجَالُ الْمَوْقُوفِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي رِجَالِ الْمَرْفُوعِ شَيْخُ أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ السَّمَّاكِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّتُهُمْ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پانی میں موجود مچھلی نہ خریدو کیونکہ یہ دھوکہ ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ” موقوف “ اور ” مرفوع “ ( دونوں طرح سے ) نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ” موقوف “ روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور ” مرفوع “ روایت کے رجال میں امام أحمد کے استاد محمد بن سماک ہیں میں نے کسی کو ان کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ” موقوف “ اور ” مرفوع “ ( دونوں طرح سے ) نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ” موقوف “ روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور ” مرفوع “ روایت کے رجال میں امام أحمد کے استاد محمد بن سماک ہیں میں نے کسی کو ان کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 6354
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکے کے سودے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 6355
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکے کے سودے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 6356
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا إِسْمَاعِيلَ بْنَ أَبِي الْحَكَمِ الثَّقَفِيَّ ؛ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ أَحَدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکے کے سودے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف اسماعیل بن ابوالحکم ثقفی کا معاملہ مختلف ہے اسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے کسی نے اس کے بارے میں کلام نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف اسماعیل بن ابوالحکم ثقفی کا معاملہ مختلف ہے اسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے کسی نے اس کے بارے میں کلام نہیں کیا ہے ۔