کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بازار کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 6324
عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ أَنْ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ؛ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ مَوْضِعًا لِلسُّوقِ أَفَلَا تَنْظُرُ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : " بَلَى " . فَقَامَ مَعَهُ حَتَّى جَاءَ مَوْضِعَ السُّوقِ فَلَمَّا رَآهُ أَعْجَبَهُ وَرَكَضَهُ بِرِجْلِهِ وَقَالَ : " نِعْمَ سُوقُكُمْ فَلَا يَنْتَقِضُ ، وَلَا يُضْرَبَنَّ عَلَيْهِ خَرَاجٌ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ أَبِي الْحَسَنِ الْبَرَّادِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں نے بازار میں ایک جگہ دیکھی ہے اگر آپ اسے ملاحظہ فرما لیں ( تو مناسب ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے پھر آپ اس کے ساتھ اٹھ کر گئے یہاں تک کہ بازار کی جگہ پر تشریف لے آئے جب آپ نے وہ جگہ دیکھی تو آپ کو وہ جگہ پسند آئی آپ نے اپنا پاؤں وہاں رکھا اور فرمایا : تمہارے بازار کی جگہ اچھی ہے یہ نہ تو ناقص ہو گی اور نہ ہی اس پر خراج عائد ہو گا “ ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے
یہ روایت اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسن بن علی بن حسن ابوحسن براد ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6324
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (264/19)»
حدیث نمبر: 6325
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ ؟ قَالَ : " لَا أَدْرِي " . ¤ فَلَمَّا أَتَاهُ جِبْرِيلُ قَالَ : " يَا جِبْرِيلُ ، أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي حَتَّى أَسْأَلَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ . قَالَ : فَانْطَلَقَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّكَ سَأَلْتَنِي : أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ ؟ فَقُلْتُ : لَا أَدْرِي ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ : أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ ؟ فَقَالَ : أَسْوَاقُهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ هَكَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! شہروں میں کون سا حصہ سب سے زیادہ برا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم پھر جب سیدنا جبرائیل علیہ اسلام آپ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا : جبرائیل شہروں میں کون سا حصہ زیادہ برا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم میں اس بارے میں اپنے پروردگار سے دریافت کروں گا راوی بیان کرتے ہیں : پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام چلے گئے پھر جتنا اللہ کو منظور تھا اتنی دیر کے بعد وہ آئے اور بولے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ نے مجھ سے دریافت کیا تھا شہروں میں کون سا حصہ زیادہ برا ہے ؟ تو میں نے بتایا تھا کہ مجھے نہیں معلوم ، میں نے اپنے پروردگار سے سوال کیا کہ شہروں میں کون سا حصہ زیادہ برا ہے ؟ تو اس نے فرمایا : وہاں کے بازار ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6325
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (7403) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1545 و 1546) اخرجه احمد فى المسند (81/4)»
حدیث نمبر: 6326
وَقَالَ الْبَزَّارُ ، عَنْ جُبَيْرٍ : إِنَّ رَجُلًا قَالَ : أَيُّ الْبُلْدَانِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ؟ وَأَيُّ الْبُلْدَانِ أَبْغَضُ إِلَى اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَا أَدْرِي حَتَّى أَسْأَلَ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . فَأَتَاهُ فَأَخْبَرَهُ : " أَنَّ أَحَبَّ الْبِقَاعِ إِلَى اللَّهِ الْمَسَاجِدُ وَأَبْغَضَ الْبِقَاعِ إِلَى اللَّهِ الْأَسْوَاقُ " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ، وَأَبِي يَعْلَى ، وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
امام بزار نے سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : ایک شخص نے دریافت کیا : شہروں کا کون سا حصہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے اور شہروں کا کون سا حصہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم میں اس بارے میں جبرائیل سے دریافت کروں گا جب سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ حصہ مساجد ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ حصہ بازار ہیں “ ۔ امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن محمد بن عقیل کا معاملہ مختلف ہے وہ حسن الحدیث ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6326
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1252)»
حدیث نمبر: 6327
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِجِبْرِيلَ : " أَيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي . قَالَ : فَسَلْ عَنْ ذَلِكَ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ ، فَبَكَى جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، وَلَنَا أَنْ نَسْأَلَهُ ؟ هُوَ الَّذِي يُخْبِرُنَا بِمَا يَشَاءُ . فَعَرَجَ إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ أَتَاهُ ، فَقَالَ : خَيْرُ الْبِقَاعِ بُيُوتُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ . قَالَ : فَأَيُّ الْبِقَاعِ شَرٌّ ؟ فَعَرَجَ إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ : شَرُّ الْبِقَاعِ الْأَسْوَاقُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا : زمین کا کون سا حصہ زیادہ بہتر ہے ؟ انہوں نے جواب دیا مجھے نہیں معلوم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس بارے میں اپنے پروردگار سے دریافت کرنا تو سیدنا جبرائیل رو پڑے اور بولے : اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم اس سے سوال کریں گے ؟ وہ جو چاہتا ہے ہمیں اس کے بارے میں بتا دیتا ہے پھر وہ آسمان کی طرف بلند ہوئے پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : زمین کا سب سے بہترین حصہ زمین میں موجود اللہ کے گھر ( یعنی مساجد ) ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اور زمین کا کون سا حصہ زیادہ برا ہے ؟ وہ پھر آسمان کی طرف چلے گئے ، پھر واپس آئے اور بتایا : زمین کا سب سے برا حصہ ، بازار ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبید بن واقد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6327
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6328
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَكُنْ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ السُّوقَ ، وَلَا آخِرَ مَنْ يَخْرُجُ مِنْهَا فَفِيهَا بَاضَ الشَّيْطَانُ وَفَرَّخَ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " فَإِنَّهَا مَعْرَكَةٌ " . أَوْ قَالَ : " مَرْبَضُ الشَّيْطَانِ ، وَبِهَا يَنْصِبُ رَايَتَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى : الْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ ، فَإِنْ كَانَ هُوَ الْجَرْمِيَّ فَهُوَ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَفِي الثَّانِيَةِ : يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم بازار میں داخل ہونے والے سب سے پہلے فرد نہ بننا اور وہاں سے نکلنے والے سب سے آخری فرد نہ بننا ، ( کیونکہ ) اس ( بازار ) میں شیطان انڈے دیتا اور بچے دیتا ہے “ ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” وہ معرکہ ( یعنی میدان جنگ ) ہے “ راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ” شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہے ، اور یہیں وہ اپنا جھنڈا نصب کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے پہلی روایت میں ایک راوی قاسم بن یزید ہے اگر تو یہ جرمی ہے ، تو پھر یہ ثقہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں دوسری روایت میں ایک راوی یزید بن سفیان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6328
درجۂ حدیث محدثین: إسناده پہلی
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6131)»
حدیث نمبر: 6329
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ غَدَا إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ أُعْطِيَ رُبُعَ الْإِيمَانِ ، وَمَنْ غَدَا إِلَى السُّوقِ أُعْطِي رَايَةَ إِبْلِيسَ ، وَهُوَ مَعَ أَوَّلِ مَنْ يَغْدُو وَآخِرَ مَنْ يَرُوحُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْسُ بْنُ مَيْمُونٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص ( صبح کے وقت ) صبح کی نماز کے لئے جاتا ہے اسے ایک چوتھائی ایمان عطا کر دیا جاتا ہے اور جو شخص صبح کے وقت بازار کی طرف جاتا ہے اسے شیطان کا جھنڈا دے دیا جاتا ہے اور یہ جھنڈا صبح کے وقت سب سے پہلے جانے والے شخص اور شام کے وقت سب سے آخر میں آنے والے شخص کے ساتھ ہوتا ہے “ ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبیس بن میمون ہے اور وہ ضعیف اور متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6329
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6146)»
حدیث نمبر: 6330
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الشَّيَاطِينَ تَغْدُو بِرَايَتِهَا إِلَى الْأَسْوَاقِ فَيَدْخُلُونَ مَعَ أَوَّلِ دَاخِلٍ وَيَخْرُجُونَ مَعَ آخَرِ خَارِجٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” شیاطین اپنے جھنڈے لے کر بازاروں کی طرف جاتے ہیں اور پہلے داخل ہونے والے شخص کے ساتھ ( بازار میں ) داخل ہوتے ہیں اور آخری نکلنے والے شخص کے ساتھ ( بازار سے ) نکلتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6330
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7618)»
حدیث نمبر: 6331
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ خَرَجَ إِلَى السُّوقِ ، وَإِذَا رَجُلٌ يَقُولُ : قَوْمٌ يَقْتَتِلُونَ فِي السُّوقِ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ فِتْنَةً مُضِلَّةً ! قَالَ : لَيْسَ هَذَا بِالْفِتْنَةِ الْمُضِلَّةِ ، وَلَكِنَّ هَذَا قَرْنُ الشَّيْطَانِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَيَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ لَيْسَ بِأَهْلٍ أَنْ يُرْوَى عَنْهُ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن معاویہ بیان کرتا ہے : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بازار کی طرف گئے وہاں ایک شخص یہ کہہ رہا تھا ۔ کچھ لوگوں کا بازار میں جھگڑا ہو گیا ہے میں نے آج کے دن کی طرح کبھی بھی گمراہ کرنے والا فتنہ نہیں دیکھا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ گمراہ کرنے والا فتنہ نہیں ہے بلکہ یہ شیطان کا سینگ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور یزید بن معاویہ اس بات کا اہل نہیں ہے کہ اس سے روایت نقل کی جائے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6331
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9187)»
حدیث نمبر: 6332
وَعَنْ بِلَادِ بْنِ عِصْمَةَ قَالَ : بَيْنَا أَنَا أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ إِذْ رَأَيْتُ جَمَاعَةً فَذَهَبْتُ ، ثُمَّ رَجَعْتُ فَقَالَ : إِيَّاكَ وَكُبَّةَ السُّوقِ ، فَإِنَّهَا كُبَّةُ الشَّيْطَانِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَجَاهِيلُ . ¤
محمد محی الدین
بلاد بن عصمہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا اسی دوران میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا میں چلا گیا جب میں واپس آیا تو انہوں نے فرمایا : تم بازار کے ہجوم یا بوجھ ) سے بچ کے رہو ! کیونکہ وہ شیطان کا ہجوم ( یا بوجھ ) ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس میں مجہول راوی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6332
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8545)»