کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سودے میں دھوکہ ہو جانا
حدیث نمبر: 6321
عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْمَغْبُونُ لَا مَحْمُودٌ ، وَلَا مَأْجُورٌ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ أَبُو هِشَامٍ الْقَنَّادُ ؛ قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَا يَكَادُ يُعْرَفُ ، وَلَمْ أَجِدْ لِغَيْرِهِ فِيهِ كَلَامًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ نے ارشاد فرمایا : ” دھوکہ ہو جانا ، نہ تو قابل تعریف ہے اور نہ ہی اجر کا باعث ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوہشام قناد ہے ۔ امام ذہبی فرماتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے تاہم میں نے امام ذہبی کے علاوہ کسی اور کا اس کے بارے میں کوئی کلام نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6321
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6322
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْمَغْبُونُ لَا مَحْمُودٌ ، وَلَا مَأْجُورٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ وَلَيْسَ فِي الْمِيزَانِ أَحَدٌ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دھوکہ دیا جانا نہ تو قابل تعریف ہے اور نہ ہی اجر کا باعث ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ہشام ہے بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ محمد بن ہشام بن عروہ ہے ۔ ” میزان “ میں ایسے کسی شخص کا ذکر نہیں ہے ، جس کا نام محمد بن ہشام ہو اور وہ ضعیف ہو اس روایت کے بقیہ حال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6322
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 6323
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " غَبْنُ الْمُسْتَرْسِلِ حَرَامٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ الْأَعْمَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” مسترسل ( یعنی جو سودا کرتے ہوئے قیمت کو مجہول رکھے ، اُس ) کا غبن ، ( یعنی دھوکہ ) حرام ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عمیرنا بینا ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6323
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7576)»