کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو خراب کاریگر ہو
حدیث نمبر: 6318
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُوءَ الْحِرْفَةِ فَقَالَ : " رَبِّ صَغِيرًا " . فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ : " مُهْرًا أَوْ غُلَامًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْبَكْرِيُّ ؛ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : وَاهِي الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خراب کاریگری کی شکایت کی ، تو آپ نے فرمایا : تم چھوٹے ( بچے ) کی تربیت کرو میں نے آپ سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو آپ نے فرمایا : خواہ گھوڑے کا بچہ ہو یا لڑکا ہو ، جب وہ چھوٹا ہو ، تو تربیت کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یزید بکری ہے ابوحاتم کہتے ہیں : یہ واہی الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6318
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 6319
وَعَنْ غَسَّانَ بْنِ الْأَغَرِّ النَّهْشَلِيِّ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَدِمَ بِعِيرٍ لَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَهِيَ تَحْمِلُ طَعَامًا فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا أَعْرَابِيُّ ، مَا تَحْمِلُ ؟ " . قُلْتُ : أُجَهِّزُ قَمْحًا . قَالَ لِي : " مَا تُرِيدُ ؟ " . قُلْتُ : أُرِيدُ بَيْعَهُ فَمَسَحَ رَأْسِي ، وَقَالَ : " أَحْسِنُوا مُبَايَعَةَ الْأَعْرَابِيِّ " . ¤
محمد محی الدین
غسان بن اغر نہشلی بیان کرتے ہیں میرے والد نے مجھے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے کہ وہ اپنے اونٹ کو لے کر مدینہ منورہ آئے وہ اس پر اناج لاد کر لائے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا : اے دیہاتی ! تم نے کیا لادا ہوا ہے ؟ میں نے کہا: میں نے گندم تیار کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کیا چاہتے ہو ؟ میں نے عرض کی : میں اسے فروخت کرنا چاہتا ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور ( لوگوں سے ) فرمایا : دیہاتی کے ساتھ اچھی طرح سے سودا کرنا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6319
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5294)»
حدیث نمبر: 6320
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ غَسَّانَ بْنِ الْأَغَرِّ النَّهْشَلِيِّ ، حَدَّثَنَا عَمِّي زِيَادُ بْنُ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِيهِ حُصَيْنِ بْنِ قَيْسٍ أَنَّهُ حَمَلَ طَعَامًا إِلَى الْمَدِينَةِ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَلَهُ طَرِيقٌ تَأْتِي فِي بَيْعِ الْحَاضِرِ لِلْبَادِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : غسان بن اغرنہشلی بیان کرتے ہیں : میرے چچا زیاد بن حصین نے اپنے والد سیدنا حصین بن قیس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ مدینہ منورہ گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم صواف ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس روایت کے مختلف طرق آگے چل کر شہری کے دیہاتی کے لئے کوئی چیز فروخت کرنے سے متعلق باب میں آئیں گے اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6320
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3559)»