عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ ، فَمَنْ تَوَقَّاهُنَّ كَانَ أَتْقَى لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ ، وَمَنْ وَاقَعَهُنَّ يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَ الْكَبَائِرَ ؛ كَالْمُرْتِعِ إِلَى جَانِبِ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ ، وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى ، وَحِمَى اللَّهِ حُدُودُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ امور ہیں جو شخص ان سے بچ کے رہتا ہے وہ اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کر لیتا ہے اور جو شخص ان میں مبتلا ہو جاتا ہے ، تو قریب ہے کہ وہ کبیرہ گناہوں میں بھی واقع ہو جائے اس کی مثال چرنے والے کی مانند ہے ، جو چراگاہ کے ارد گرد چر رہا ہوتا ہے ، تو عنقریب وہ چراگاہ کے اندر داخل ہو جاتا ہر بادشاہ کی مخصوص چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی مخصوص چراگاہ اس کی مقرر کردہ حدود ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ ، فَمَنِ اتَّقَاهَا كَانَ أَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ أَوْشَكَ أَنْ يَقَعَ فِي الْحَرَامِ كَالْمُرْتِعِ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَ الْحِمَى ، وَهُوَ لَا يَشْعُرُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں تو جو شخص ان سے بچ کے رہتا ہے ، وہ اپنے دین اور اپنی عزت کو بچا لیتا ہے اور جو شخص مشتبہ چیزوں میں مبتلا ہو جاتا ہے ، تو عنقریب وہ حرام میں مبتلا ہو جائے گا جیسے چراگاہ کے ارد گرد چرنے والا جانور چراگاہ کے اندر بھی جا سکتا ہے اور اسے اس بات کا پتہ بھی نہیں چلتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ فَدَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ " . ¤ وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ سَعْدُ بْنُ زُنْبُورٍ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَجْهُولٌ ، وَإِسْنَادُ الصَّغِيرِ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
انہوں نے معجم صغیر میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے ” حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے ، تو تم اس چیز کو چھوڑ کر جو تمہیں شک میں مبتلا کرتی ہو اس چیز کی طرف چلے جاؤ جو تمہیں شک میں مبتلا نہیں کرتی ہے “ ۔ معجم اوسط کی سند میں ایک راوی سعد بن زنبور ہے ابوحاتم کہتے ہیں : وہ مجہول ہے معجم صغیر کی سند حسن ہے ۔