مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ اجْتِنَابِ الشُّبُهَاتِ . باب: مشتبہ چیزوں سے اجتناب کرنا
عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ ، فَمَنْ تَوَقَّاهُنَّ كَانَ أَتْقَى لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ ، وَمَنْ وَاقَعَهُنَّ يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَ الْكَبَائِرَ ؛ كَالْمُرْتِعِ إِلَى جَانِبِ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ ، وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى ، وَحِمَى اللَّهِ حُدُودُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ امور ہیں جو شخص ان سے بچ کے رہتا ہے وہ اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کر لیتا ہے اور جو شخص ان میں مبتلا ہو جاتا ہے ، تو قریب ہے کہ وہ کبیرہ گناہوں میں بھی واقع ہو جائے اس کی مثال چرنے والے کی مانند ہے ، جو چراگاہ کے ارد گرد چر رہا ہوتا ہے ، تو عنقریب وہ چراگاہ کے اندر داخل ہو جاتا ہر بادشاہ کی مخصوص چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی مخصوص چراگاہ اس کی مقرر کردہ حدود ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔