حدیث نمبر: 6306
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ ، فَمَنِ اتَّقَاهَا كَانَ أَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ أَوْشَكَ أَنْ يَقَعَ فِي الْحَرَامِ كَالْمُرْتِعِ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَ الْحِمَى ، وَهُوَ لَا يَشْعُرُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں تو جو شخص ان سے بچ کے رہتا ہے ، وہ اپنے دین اور اپنی عزت کو بچا لیتا ہے اور جو شخص مشتبہ چیزوں میں مبتلا ہو جاتا ہے ، تو عنقریب وہ حرام میں مبتلا ہو جائے گا جیسے چراگاہ کے ارد گرد چرنے والا جانور چراگاہ کے اندر بھی جا سکتا ہے اور اسے اس بات کا پتہ بھی نہیں چلتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6306
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (2889)»