حدیث نمبر: 5990
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا ضَحَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ مِنْ أُضْحِيَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص قربانی کرے تو وہ اپنی قربانی میں سے ( یعنی اس کا گوشت ) کھائے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5991
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِيَأْكُلْ كُلُّ رَجُلٍ مِنْ أُضْحِيَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : رُبَّمَا أَخْطَأَ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر شخص کو اپنی قربانی ( کا گوشت ) کھانا چاہیئے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ بیان کرتے ہیں : یہ بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ بیان کرتے ہیں : یہ بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 5992
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ ، عَنْ أُمِّهِ ، وَجَدَّتِهِ أُمِّ عَطَاءٍ قَالَتَا : وَاللَّهِ لَكَأَنَّنَا نَنْظُرُ إِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ حِينَ أَتَانَا عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ بَيْضَاءَ فَقَالَ : أَيَا أُمَّ عَطَاءٍ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ قَدْ ] نَهَى الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَأْكُلُوا مِنْ لُحُومِ نُسُكِهِمْ فَوْقَ ثَلَاثٍ . قَالَ : قُلْتُ : بِأَبِي [ أَنْتَ ] وَأُمِّي فَكَيْفَ نَصْنَعُ بِمَا أُهْدِي لَنَا ؟ فَقَالَ : " أَمَّا مَا أُهْدِيَ لَكُنَّ فَشَأْنُكُنَّ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن عطاء بن ابراہیم نے اپنی والدہ اور اپنی نانی ( یا دادی ) ام عطاء کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے وہ دونوں خواتین بیان کرتی ہیں یہ منظر اس وقت بھی ہماری نگاہ میں ہے کہ ہم سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہی تھیں جب وہ اپنے سفید خچر پر سوار ہو کر آئے اور بولے : اے اُم عطاء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اس بات سے منع کر دیا ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنی قربانی کے گوشت کو کھائیں میں نے دریافت کیا : میرے ماں باپ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ) قربان ہوں ہمیں جو تحفے کے طور پر جو گوشت دیا جاتا ہے اس کا کیا کریں ؟ تو انہوں نے فرمایا : جو چیز تمہیں تحفے کے طور پر دی جاتی ہے تم اسے استعمال کر سکتے ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے عبداللہ بن عطاء نامی شخص کو ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے عبداللہ بن عطاء نامی شخص کو ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔