کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: تین دن کے بعد ( قربانی کا گوشت ) کھانے کا جائز ہونا
حدیث نمبر: 5993
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، وَعَنِ الْأَوْعِيةِ ، وَأَنْ تُحْبَسَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا ، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْآخِرَةَ وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِيهَا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ كُلِّ مَا أَسْكَرَ . وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَحْبِسُوهَا بَعْدَ ثَلَاثٍ فَاحْتَبِسُوا مَا بَدَا لَكُمْ " . ¤ قُلْتُ : لِعَلِيٍّ فِي الصَّحِيحِ : إِنَّهُ نَهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ - فَقَطْ - مِنْ غَيْرِ إِذْنٍ فِيهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ النَّابِغَةُ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يُوَثِّقْهُ ، وَلَمْ يُجَرِّحْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اور مخصوص برتنوں سے منع کیا تھا اور تین دن کے بعد قربانی کا گوشت رکھنے سے منع کیا تھا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : پہلے میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کرو کیونکہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہیں اور میں نے تمہیں برتنوں سے منع کیا تھا اب تم پی لو اور میں تمہیں ہر اس چیز سے منع کرتا ہوں جو نشہ کر دے اور میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع کیا تھا اب جتنا تمہیں مناسب لگے تم سنبھال کے رکھو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ میں صرف یہ روایت مذکور ہے کہ آپ نے قربانی کے گوشت سے منع کیا تھا اس میں اجازت دینے کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نابغہ ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس کی توثیق نہیں کی ہے اور اس پر جرح بھی نہیں کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نابغہ ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس کی توثیق نہیں کی ہے اور اس پر جرح بھی نہیں کی ہے ۔
حدیث نمبر: 5994
وَعَنْ زُبَيْدٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَتَى أَهْلَهُ فَوَجَدَ قَصْعَةً مِنْ قَدِيدِ الْأَضْحَى فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ فَأَتَى قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ فَقَالَ : " إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ لَا تَأْكُلُوا الْأَضَاحِيَّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ لِتَسَعَكُمْ ، وَإِنِّي أُحِلُّهُ لَكُمْ فَكُلُوا مِنْهُ مَا شِئْتُمْ ، وَلَا تَبِيعُوا لُحُومَ الْهَدْيِ وَالْأَضَاحِيِّ ، [ وَكُلُوا ] وَتَصَدَّقُوا ، وَتَمَتَّعُوا بِجُلُودِهَا ، وَلَا تَبِيعُوهَا ، وَإِنْ أُطْعِمْتُمْ مِنْ لَحْمِهَا فَكُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ " . ¤ وَقَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : عَنْ أَبِي سَعِيدٍ [ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَالْآنَ ] فَكُلُوا وَاتَّجِرُوا وَادَّخِرُوا " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ يَسِيرٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ . ¤
محمد محی الدین
زبید بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اپنے اہل خانہ کے پاس آئے ۔ انہوں نے قربانی کے گوشت کا بنا ہوا قدید کا پیالہ پایا تو اسے کھانے سے انکار کر دیا پھر وہ سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا : میں نے پہلے تمہیں یہ ہدایت کی تھی کہ تم تین دن سے زیادہ ( قربانی کا ) گوشت نہ رکھنا اس کی وجہ یہ تھی کہ تاکہ تمہارے لئے گنجائش ہو جائے ( یعنی زیادہ لوگوں کو گوشت مل جائے ) اب میں اسے تمہارے لئے حلال قرار دیتا ہوں جتنا چاہو اس میں سے کھا لو البتہ ہدی اور قربانی کے گوشت کو فروخت نہ کرنا تم کھا لو صدقہ کرو اس کی کھال استعمال کرو لیکن اسے فروخت نہ کرنا اور اگر تمہیں اس کے گوشت میں سے کھلایا جاتا ہے ، تو اگر تم چاہو تو اس کو کھا لو “ انہوں نے اس حدیث کے بارے میں یہ کہا: ہے کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات منقول ہے ۔ ” اب تم اسے کھاؤ تجارت کرو اور زخیرہ کرو “ ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا معمولی سا حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے
یہ روایت ” مرسل “ ہے لیکن سند کے اعتبار سے صحیح ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے
یہ روایت ” مرسل “ ہے لیکن سند کے اعتبار سے صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 5995
وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ : أَخْبَرْتُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ ، وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ - ، وَلَمْ يُبَلَّغْ أَبُو الزُّبَيْرِ هَذِهِ الْقِصَّةَ كُلَّهَا - أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ أَتَى أَهْلَهُ فَوَجَدَ قَصْعَةَ ثَرِيدٍ مِنْ قَدِيدِ الْأَضْحَى فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ . فَأَتَى قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ فِيمَنْ حَجَّ فَقَالَ : " إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ " . فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي إِسْنَادِ جَابِرٍ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ غَالِبُ رِوَايَتِهِ عَنِ التَّابِعِينَ . ¤
محمد محی الدین
ابن جریج بیان کرتے ہیں : میں نے یہ بات بیان کی کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور ابوزبیر نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ابوزبیر کو یہ پورا واقعہ پتہ نہیں چلا تھا ( واقعہ یہ ہے ) سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے ۔ انہوں نے قربانی کے گوشت کے ثرید کا پیالہ پایا تو اسے کھانے سے انکار کر دیا وہ سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں یہ بات بیان کی ، تو انہوں نے انہیں بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج کے موقع پر کھڑے ہوئے تھے اور آپ نے ارشاد فرمایا : میں نے پہلے تمہیں یہ حکم دیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ والی روایت کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اور ابن جریج نے زیادہ تر تابعین سے روایات نقل کی ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ والی روایت کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اور ابن جریج نے زیادہ تر تابعین سے روایات نقل کی ہیں ۔
حدیث نمبر: 5996
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَانَا أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ نُسُكِنَا فَوْقَ ثَلَاثٍ . قَالَ : فَخَرَجْتُ فِي سَفَرٍ ، ثُمَّ قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي وَذَلِكَ بَعْدَ الْأَضْحَى بِأَيَّامٍ . قَالَ : فَأَتَتْنِي صَاحِبَتِي بِسَلْقٍ قَدْ جَعَلَتْ فِيهِ قَدِيدًا فَقُلْتُ لَهَا : أَنَّى لَكِ هَذَا الْقَدِيدُ ؟ قَالَتْ : مِنْ ضَحَايَانَا . فَقُلْتُ لَهَا : أَلَمْ يَنْهَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَنْ نَأْكُلَهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ ؟ قَالَ : فَقَالَتْ : إِنَّهُ قَدْ رَخَّصَ لِلنَّاسِ بَعْدَ ذَلِكَ [ قَالَ : فَلَمْ أُصَدِّقْهَا حَتَّى بَعَثْتُ إِلَى أَخِي قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، وَكَانَ بَدْرِيًا أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ . قَالَ فَبَعَثَ إِلَيَّ أَنْ كُلْ طَعَامَكَ ، فَقَدْ صَدَقَتْ ، قَدْ أَرْخَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِينَ فِي ذَلِكَ ] . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ فِي الصَّحِيحِ ، وَإِنَّمَا أَخْرَجْتُهُ لِحَدِيثِ امْرَأَتِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہمیں اس بات سے منع کرتے تھے کہ ہم تین دن سے زیادہ اپنی قربانی کا گوشت کھائیں راوی بیان کرتے ہیں : میں ایک سفر پر چلا گیا پھر میں اپنے گھر واپس آیا تو یہ عیدالاضحی کے کچھ دن گزرنے کے بعد کی بات ہے میری بیوی میرے پاس ایک برتن لے کے آئی جس میں اس نے قدید تیار کیا تھا میں نے اس سے دریافت کیا : یہ قدید تمہارے پاس کہاں سے آیا ہے اس نے جواب دیا یہ ہماری قربانی کے گوشت کا ہے میں نے اس سے کہا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع نہیں کیا کہ ہم تین دن سے زیادہ اس کو کھائیں اس خاتون نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد لوگوں کو اجازت دے دی ہے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے اس کی بات کی تصدیق نہیں کی میں نے اپنے بھائی قتادہ بن نعمان کو پیغام بھیجا وہ بدری صحابی ہیں میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے جوابی پیغام بھیجا کہ تم اپنا کھانا کھا لو اس خاتون نے صحیح بیان کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اس بارے میں رخصت عطا کر دی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے میں نے اس روایت کو اس لیے نقل کیا ہے کیونکہ یہ روایت ان کی اہلیہ کے حوالے سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5997
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَنَهَيْتُكُمْ أَنْ تَخْتَبِئُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَاحْبِسُوا وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الظُّرُوفِ فَانْتَبِذُوا فِيهَا وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكِرٍ " . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي طُرُقٌ فِي هَذَا الْمَعْنَى فِي الْأَشْرِبَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ فَرْقَدٌ السَّبَخِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کرو اور میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت سنبھال کر رکھنے سے منع کیا تھا اب تم سنبھال کے رکھو اور میں نے تمہیں مخصوص برتنوں سے منع کیا تھا اب تم ان میں نبیذ تیار کرو لیکن ہر نشہ آور چیز سے اجتناب کرنا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس مفہوم کی روایت کے مختلف طرق مشروبات سے متعلق باب میں آگے آئیں گے اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فرقد سبخی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فرقد سبخی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5998
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ أُمِّهِ أُمِّ سُلَيْمَانَ ، وَكِلَاهُمَا كَانَ ثِقَةً قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلْتُهَا عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْهَا ، ثُمَّ رَخَّصَ . قَدِمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنْ سَفَرٍ فَأَتَتْهُ فَاطِمَةُ بِلَحْمٍ مِنْ ضَحَايَاهَا فَقَالَ : أَوْلَمَ يَنْهَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَتْ : إِنَّهُ قَدْ رَخَّصَ فِيهَا . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ عَائِشَةَ فِي الصَّحِيحِ خَالِيًا عَنْ حَدِيثِ فَاطِمَةَ وَلِذَلِكَ ذَكَرَهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِ فَاطِمَةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَمْ تَرْوِ أُمُّ سُلَيْمَانَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ . قُلْتُ : وُثِّقَتْ كَمَا نُقِلَ فِي الْمُسْنَدِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سلیمان بن ابوسلیمان ، اپنی والدہ اُم سلیمان کے حوالے سے نقل کرتے ہیں : یہ دونوں ثقہ ہیں وہ خاتون بیان کرتی ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے ان سے قربانی کے گوشت کے بارے میں دریافت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس سے منع کیا کرتے تھے پھر آپ نے اس کی رخصت دے دی سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سفر سے آئے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس اپنی قربانی کا گوشت لے کے آئیں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں کیا ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ” صحیح “ میں منقول ہے تا ہم اس میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا والا واقعہ نہیں ہے اسی لئے امام أحمد نے اس روایت کو مسند أحمد میں مسند فاطمہ والے باب میں نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور وہ فرماتے ہیں : ام سلیمان نامی خاتون نے اس روایت کے علاوہ اور کوئی حدیث نقل نہیں کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس خاتون کی توثیق کی گئی ہے جیسا کہ ” مسند “ میں یہ بات نقل کی گئی ہے اور امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور وہ فرماتے ہیں : ام سلیمان نامی خاتون نے اس روایت کے علاوہ اور کوئی حدیث نقل نہیں کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس خاتون کی توثیق کی گئی ہے جیسا کہ ” مسند “ میں یہ بات نقل کی گئی ہے اور امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5999
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ نَهَى عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ، وَعَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ يُمْسِكَهَا فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ . وَعَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَانْتَبِذُوا فِيمَا بَدَا لَكُمْ ، فَإِنَّ الْوِعَاءَ لَا يُحِلُّ شَيْئًا ، وَلَا يُحَرِّمُهُ . وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَحْبِسُوهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَاحْبِسُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا ، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْآخِرَةَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَحْمَدُ - وَيَأْتِي حَدِيثُهُ فِي الْأَشْرِبَةِ - ، وَفِيهِ الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ نے گھڑے کی نبیذ اور قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ رکھنے اور قبروں کی زیارت کرنے سے منع فرمایا تھا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : پہلے میں نے تمہیں گھڑے کی نبیذ سے منع کیا تھا اب تم جس ( برتن ) میں مناسب سمجھو نبیذ تیار کر لو کیونکہ برتن کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتا ہے اور میں نے تمہیں قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا اب جتنا تمہیں مناسب لگے تم اسے سنبھال کے رکھو اور میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کرو کیونکہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہیں ۔
یہ روایت امام بزار اور امام أحمد نے نقل کی ہے اور ان کی نقل کردہ حدیث مشروبات متعلق باب میں آگے آئیں گی اس کی سند میں ایک راوی حارث بن نبھان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام أحمد نے نقل کی ہے اور ان کی نقل کردہ حدیث مشروبات متعلق باب میں آگے آئیں گی اس کی سند میں ایک راوی حارث بن نبھان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6000
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ ، وَعَنِ النَّبِيذِ فِي الْجَرِّ ، وَعَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا مَا شِئْتُمْ . وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ فِي الْجَرِّ فَاشْرَبُوا ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا ، وَلَا تَقُولُوا مَا أَسْخَطَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ جَابِرٍ الْأَزْدِيُّ وَالِدُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَافِظِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا اور گھڑے میں نبیذ تیار کرنے سے اور قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا ) اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پہلے میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا اب جتنا تم چاہو کھاؤ اور میں نے تمہیں گھڑے میں نبیذ تیار کرنے سے منع کیا تھا اب تم پیؤ لیکن ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کرو لیکن کوئی ایسی بات نہ کہنا جو اللہ تعالی کو ناراض کر دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن جابر ازدی ہے ، جو عبدالرحمن حافظ کا والد ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن جابر ازدی ہے ، جو عبدالرحمن حافظ کا والد ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 6001
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ، وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَضَاحِيِّ . أَلَا وَإِنَّ الْأَوْعِيَةَ لَا تُحِلُّ شَيْئًا ، وَلَا تُحَرِّمُهُ . أَلَا وَزُورُوا الْقُبُورَ ، فَإِنَّهَا تُرِقُّ الْقَلْبَ " . زَادَ عَبْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ : " أَلَا وَإِنِّي نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا مَا شِئْتُمْ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ : النَّهْيُ عَنْ لَحْمِ الْأَضَاحِيِّ وَالْأَوْعِيَةِ مِنْ غَيْرِ إِذْنٍ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ بَعْدُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبَانٍ الرَّقَاشِيُّ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں نے تمہیں گھڑے کی نبیذ سے منع کیا تھا میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اور میں نے تمہیں قربانی کے گوشت کے حوالے سے منع کیا تھا خبردار برتن کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتے ہیں خبردار تم قبروں کی زیارت کرو کیونکہ یہ دلوں کو نرم کرتی ہے “ ۔ عبداللہ نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زائد قتل کیے ہیں : ” خبردار میں نے تمہیں قربانی کے گوشت سے منع کیا تھا اب تم کھاؤ بھی اور جتنا تم چاہو ذخیرہ بھی کرو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ” صحیح “ میں حدیث مذکور ہے ، جو قربانی کے گوشت اور برتنوں کے بارے میں ہے اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ بعد میں اس بارے میں اجازت دے دی گئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابان رقاشی ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابان رقاشی ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔