کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جو ( عید کی ) نماز سے پہلے ذبح کر دے
حدیث نمبر: 5981
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ أَبِي ذَبَحَ ضَحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُلْ لِأَبِيكَ يُصَلِّي ، ثُمَّ يَذْبَحُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرَيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ ، وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : میرے والد نے ( عید کی ) نماز ادا کرنے سے پہلے اپنے قربانی کے جانور کو ذبح کر لیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے باپ سے کہو کہ وہ پہلے نماز ادا کرے اور پھر قربانی کرے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حیی بن عبداللہ معافری ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے امام طبرانی کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حیی بن عبداللہ معافری ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے امام طبرانی کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5982
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَتُودًا جَذَعًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " . وَنَهَى أَنْ يَذْبَحُوا حَتَّى يُصَلُّوا . ¤ قُلْتُ : لِجَابِرٍ حَدِيثٌ فِي النَّهْيِ عَنِ الذَّبْحِ قَبْلَ الصَّلَاةِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز ادا کرنے سے پہلے بکری کے ایک سال کے بچے کو ذبح کر دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے بعد یہ کسی کی طرف سے جائز نہیں ہو گا آپ نے اس بات سے منع کیا کہ لوگ نماز ادا کرنے سے پہلے ذبح کریں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : نماز سے پہلے جانور ذبح کرنے کی ممانعت کے بارے میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ایک اور حدیث بھی منقول ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5983
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ قَالَ : شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَخَالَفَتِ امْرَأَتِي حَيْثُ غَدَوْتُ إِلَى الصَّلَاةِ إِلَى أُضْحِيَتِي فَذَبَحَتْهَا فَصَنَعَتْ مِنْهَا طَعَامًا . قَالَ : فَلَمَّا صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَانْصَرَفْتُ إِلَيْهَا جَاءَتْنِي بِطَعَامٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ فَقُلْتُ : أَنَّى هَذَا ؟ فَقَالَتْ : أُضْحِيَتُكَ ذَبَحْنَاهَا وَصَنَعْنَا لَكَ مِنْهَا طَعَامًا لَتَغَدَّى مِنْهَا إِذَا جِئْتَ قَالَ : فَقُلْتُ لَهَا : وَاللَّهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ هَذَا لَا يَنْبَغِي . قَالَ : فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ : " لَيْسَتْ بِشَيْءٍ فَضَحِّ " . قَالَ : فَالْتَمَسْتُ مُسِنَّةً فَمَا وَجَدْتُهَا . قَالَ : " فَالْتَمِسْ جَذَعًا مِنَ الضَّأْنِ فَضَحِّ " . قَالَ : فَرَخَّصَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْجَذَعِ مِنَ الضَّأْنِ فَضَحَّى بِهِ حَيْثُ لَمْ يَجِدِ الْمُسِنَّةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں عید کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا راوی کہتے ہیں : جب میں نماز کے لئے چلا گیا تو میری بیوی میرے قربانی کے جانور کی طرف گئی اس نے اسے ذبح کیا اور اس کے ذریعے کھانا تیار کر لیا راوی کہتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھا دی اور میں گھر واپس آیا تو وہ میرے لیے کھانا لے آئی جو تیار ہو چکا تھا میں نے دریافت کیا : یہ کہاں سے آیا ہے ؟ اس نے بتایا میں نے آپ کی قربانی کے جانور کو ذبح کر دیا تھا اور اس کے ذریعے آپ کے لئے کھانا بنا لیا تاکہ جب آپ تشریف لائیں تو کھانا کھا لیں راوی کہتے ہیں : میں نے اس سے کہا: اللہ کی قسم مجھے یہ اندیشہ ہے کہ ایسا کرنا مناسب نہیں ہو گا راوی بیان کرتے ہیں : پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے تم دوبارہ قربانی کرو راوی کہتے ہیں : میں نے مسنہ تلاش کیا ، تو وہ مجھے نہیں ملا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بھیڑ کے بچے کو تلاش کر کے اسے قربان کر دو راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیڑ کے بچے کے بارے میں رخصت دی تو انہوں نے اس کی قربانی کی ، جب انہیں ” مسنہ “ نہیں ملا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5984
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ أَنَّ رَجُلًا ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُجْزِئُ عَنْكَ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً ؟ فَقَالَ : " تُجْزِئُ عَنْكَ ، وَلَا تُجْزِئُ بَعْدَكَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قربانی کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ( عید کی ) نماز عید ادا کرنے سے پہلے ایک شخص نے جانور ذبح کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تمہاری طرف سے ادا نہیں ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس ایک ( بکری یا بھیڑ کا ) بچہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تمہاری طرف سے درست ہو جائے گا ، لیکن تمہارے بعد ( کسی کی طرف سے ) درست نہیں ہو گا ۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ان سب کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ان سب کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5985
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ فِي يَوْمِ أَضْحَى : " مَنْ كَانَ ذَبَحَ " - أَحْسَبُهُ قَالَ - " قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ ذَبِيحَتَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبَصْرِيُّ وَثَّقَهُ الذَّهَبِيُّ ، وَرَوَى عَنْهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن ارشاد فرمایا : جس شخص نے ( عید کی ) نماز سے پہلے جانور ذبح کر لیا تھا وہ اپنے ذبیحہ کو دہرائے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بکر بن سلیمان بصری ہے ، جسے امام ذہبی نے ثقہ قرار دیا ہے ایک جماعت نے اس سے روایت نقل کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بکر بن سلیمان بصری ہے ، جسے امام ذہبی نے ثقہ قرار دیا ہے ایک جماعت نے اس سے روایت نقل کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 5986
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حَثْمَةَ أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ ذَبَحَ ذَبِيحَتَهُ بِسَحَرٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ ذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلَيْسَتْ تِلْكَ الْأُضْحِيَّةَ إِنَّمَا الْأُضْحِيَّةُ مَا ذُبِحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ اذْهَبْ فَضَحِّ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَخَذَ شَيْئًا أُضْحِيَةً وَمَا عِنْدِي إِلَّا جِذَاعٌ مِنَ الْمَعْزِ فَقَالَ : " اذْهَبْ فَضَحِّ بِهَا وَلَيْسَتْ فِيهَا رُخْصَةٌ لِأَحَدٍ بَعْدَكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : حَدِيثُهُ مُنْكَرٌ ، وَذَكَرَ لَهُ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے سحری کے وقت اپنے ذبیحہ کو ذبح کر لیا جب وہ اس سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر لیا تو یہ قربانی شمار نہیں ہو گی قربانی وہ ہوتی ہے ، جو ( عید کی ) نماز کے بعد جانور ذبح کیا جائے تم جاؤ اور قربانی کرو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے قربانی کے لیے کچھ نہیں ملا ، اب میرے پاس صرف ایک بکری کا بچہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم جاؤ اور اسے ہی قربان کر دو ! اور اس بارے میں تمہارے بعد کسی اور کے لئے رخصت نہیں ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام ذہبی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث منکر ہے ۔ انہوں نے سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس کے علاوہ ایک اور حدیث بھی ذکر کی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام ذہبی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث منکر ہے ۔ انہوں نے سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس کے علاوہ ایک اور حدیث بھی ذکر کی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔