حدیث نمبر: 5929
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو - وَنَحْنُ نَطُوفُ بِالْبَيْتِ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ فِيهِنَّ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ " . قِيلَ : وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ ، ثُمَّ لَمْ يَرْجِعْ حَتَّى تُهْرَاقَ مُهْجَةُ دَمِهِ " . قَالَ عِبْدَةُ : هِيَ أَيَّامُ الْعَشْرِ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبداللہ جو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی ہم اس وقت بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے ۔ انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ” کوئی بھی دن ایسے نہیں ہیں جن میں کوئی عمل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان ایام ( میں عمل کرنے ) سے زیادہ محبوب ہو عرض کی گئی اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو اپنی جان اور مال کو لے کر نکلتا ہے اور پھر واپس نہیں آتا یہاں تک کہ اس کا خالص خون بہا دیا جاتا ہے ( یعنی وہ جام شہادت نوش کر لیتا ہے “ ۔ عبدہ نامی راوی کہتے ہیں : اس سے مراد ( ذوالج کے پہلے ) دس دن ہیں ۔
حدیث نمبر: 5930
وَفِي رِوَايَةٍ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَذُكِرَتِ الْأَعْمَالُ فَقَالَ : " مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْعَشْرِ " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ كُلٌّ مِنْهُمَا بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا اعمال کا ذکر کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : کوئی بھی دن ایسے نہیں ہیں جن میں کوئی عمل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس ( عشرے میں عمل کرنے ) سے زیادہ محبوب ہو “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے یہ دونوں روایات دو اسناد کے ساتھ منقول ہیں جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے یہ دونوں روایات دو اسناد کے ساتھ منقول ہیں جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5931
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ فِيهَا أَفْضَلُ مِنْ أَيَّامِ الْعَشْرِ " . قِيلَ : وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کوئی بھی دن ایسے نہیں ہے جن میں عمل کرنا ( ذوالحج کے پہلے ) عشرے کے دنوں سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو عرض کی گئی اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5932
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ أَيَّامٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ ، وَلَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ الْعَمَلُ فِيهِنَّ مِنْ أَيَّامِ الْعَشْرِ فَأَكْثِرُوا فِيهِنَّ مِنَ التَّسْبِيحِ ، وَالتَّهْلِيلِ ، وَالتَّحْمِيدِ ، وَالتَّكْبِيرِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارِ التَّسْبِيحِ ، وَغَيْرِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی بھی دن ( ذوالحج کے پہلے عشرے کے دنوں ) سے زیادہ عظمت والے نہیں ہیں اور ( ذوالج کے پہلے ) عشرے کے دنوں میں عمل کرنے سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور کوئی عمل زیادہ پسندیدہ نہیں ہے ، تو تم لوگ ان دنوں میں بکثرت تسبیح پڑھو لا الہ الا اللہ پڑھو الحمد للہ پڑھو اللہ اکبر پڑھو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، جس میں صرف تسبیح وغیرہ کا ذکر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5933
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَفْضَلُ أَيَّامِ الدُّنْيَا أَيَّامُ الْعَشْرِ " - يَعْنِي عَشْرَ ذِي الْحِجَّةِ - قِيلَ : وَلَا مِثْلُهُنَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا مِثْلُهُنَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلٌ عَفَّرَ وَجْهَهُ فِي التُّرَابِ " . وَذَكَرَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَقَالَ : " يَوْمُ مُبَاهَاةٍ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . وَقَدْ تَقَدَّمَ بِطُولِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دنیا کے دنوں میں سب سے زیادہ فضیلت والے عشرے کے دن ہیں ( راوی کہتے ہیں ) یعنی ذوالحج کے ( پہلے عشرے کے دن ہیں ) عرض کی گئی : اتنے دن اللہ کی راہ میں ( بسر کرنا بھی زیادہ فضیلت نہیں رکھتا ) آپ نے ارشاد فرمایا : اتنے ہی دن اللہ کی راہ میں ( بسر کرنا بھی اتنی فضیلت ) نہیں رکھتا البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو اپنے چہرے کو مٹی میں خاک آلود کر لیتا ہے ( یعنی شہید ہو جاتا ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے دن کا ذکر کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : یہ فخر کے اظہار کا دن ہے ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو طویل روایت کے طور پر پہلے گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5934
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا فَاطِمَةُ قُومِي إِلَى أُضْحِيَتِكِ فَاشْهَدِيهَا ، فَإِنَّ لَكِ بِكُلِّ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِهَا أَنْ يُغْفَرَ لَكِ مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبِكِ " . قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَنَا خَاصَّةً أَهْلَ الْبَيْتِ ، أَوْ لَنَا وَلِلْمُسْلِمِينَ ؟ قَالَ : " بَلْ لَنَا وَلِلْمُسْلِمِينَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : ” اے فاطمہ ! اٹھ کر اپنی قربانی کے جانور کے پاس جاؤ اور ( اس کو ذبح کرنے کے وقت ) اس کے پاس موجود رہو کیونکہ اس کے خون کا جو بھی قطرہ گرے گا اس کے عوض میں تمہیں یہ چیز ملے گی کہ تمہارے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ ہمارے اہل بیت کے لئے مخصوص ہے ؟ یا ہمارے لئے بھی ہے اور مسلمانوں کے لئے بھی ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلکہ یہ ہمارے لئے بھی ہے اور مسلمانوں کے لئے بھی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطیہ بن قیس ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطیہ بن قیس ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 5935
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا فَاطِمَةُ ، قُومِي فَاشْهَدِي أُضْحِيَتَكِ ، فَإِنَّهُ يُغْفَرُ لَكِ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهَا كُلُّ ذَنْبٍ عَمِلْتِيهِ وَقُولِي : إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ " . قَالَ عِمْرَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا لَكَ وَلِأَهْلِ بَيْتِكَ خَاصَّةً - فَأَهْلُ ذَلِكَ أَنْتُمْ - أَوْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً ؟ قَالَ : " بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے فاطمہ ! اٹھو اور اپنی قربانی کے ( ذبیح کے وقت ) پاس موجود رہو کیونکہ اس کے خون کے پہلے قطرے کے ساتھ تمہارے ہر اُس گناہ کی مغفرت ہو جائے گی جو تم نے کیا ہو گا اور تم یہ پڑھنا : ” بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ایک ہوں “ ۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ آپ کے لئے اور آپ کے اہل بیت کے لئے مخصوص ہے کہ آپ لوگ اس چیز کے اہل ہیں یا یہ مسلمانوں کے لئے عام ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( جی نہیں ! ) بلکہ یہ مسلمانوں کے لئے عام ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوحمزہ ثمالی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوحمزہ ثمالی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5936
وَعَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ضَحُّوا وَاحْتَسِبُوا بِدِمَائِهَا ، فَإِنَّ الدَّمَ ، وَإِنْ وَقَعَ فِي الْأَرْضِ ، فَإِنَّهُ يَقَعُ فِي حِرْزِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ الْعُقَيْلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اے لوگو ! قربانی کرو اور اس کے خون کے حوالے سے اس کے ثواب کی امید رکھو کیونکہ خون اگرچہ زمین پر گرتا ہے لیکن وہ اللہ تعالی کی پناہ میں گرتا ہے ( یعنی اس کا اجر نوٹ کر لیا جاتا ہے ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین عقیلی ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین عقیلی ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 5937
وَعَنْ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ ضَحَّى طَيِّبَةً نَفْسُهُ مُحْتَسِبًا لِأُضْحِيَتِهِ كَانَتْ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ عَمْرٍو النَّخَعِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنی خوشی کے ساتھ ثواب کی امید رکھتے ہوئے قربانی کرتا ہے ، تو وہ قربانی اس کے لئے جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بن جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن عمرو نخعی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن عمرو نخعی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 5938
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَنْفَقْتُ الْوَرِقَ فِي شَيْءٍ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مَنْ نَحِيرٍ يُنْحَرُ فِي يَوْمِ عِيدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْخُوزِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم جس بھی چیز میں کوئی رقم خرچ کرتے ہو اس میں سے کوئی بھی چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس قربانی سے زیادہ محبوب نہیں ہے ، جسے عید کے موقع پر قربان کیا جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید خوزی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید خوزی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5939
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي يَوْمِ أَضْحَى : " مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ فِي هَذَا الْيَوْمِ أَفْضَلَ مِنْ دَمٍ يُهْرَاقُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَحِمًا تُوصَلُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْخُشَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : قربانی کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آج کے دن میں انسان کوئی ایسا عمل نہیں کرتا جو خون بہانے ( یعنی قربانی کرنے ) سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو البتہ اگر صلہ رحمی کی جائے تو اس کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن حسن خشنی ہے اور وہ ضعیف ہے ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن حسن خشنی ہے اور وہ ضعیف ہے ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔