حدیث نمبر: 5940
عَنْ حَبِيبِ بْنِ مِخْنَفٍ قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ عَرَفَةَ ، وَهُوَ يَقُولُ : " هَلْ تَعْرِفُونَهَا ؟ " . قَالَ : فَمَا أَدْرِي مَا رَجَعُوا إِلَيْهِ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَى أَهْلِ كُلِّ بَيْتٍ أَنْ يَذْبَحُوا شَاةً فِي كُلِّ رَجَبٍ ، وَكُلِّ أَضْحَى شَاةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حبیب بن مخنف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرفہ کے دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ارشاد فرما رہے تھے کیا تم اسے پہچانتے ہو راوی کہتے ہیں : مجھے پتہ نہیں چلا کہ لوگوں نے انہیں کیا جواب دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر گھر والوں پر یہ بات لازم ہے کہ وہ ہر رجب کے مہینے میں ایک بکری ذبح کریں اور ہر عیدالاضحی کے موقع پر ایک بکری ذبح کریں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابومخارق ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابومخارق ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5941
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الْعَتِيرَةِ ، وَكَانَتْ ذَبِيحَةً يَذْبَحُونَهَا فِي رَجَبٍ فَنَهَاهُمْ عَنْهَا وَأَمَرَهُمْ بِالْأُضْحِيَّةِ . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ النَّهْيُ عَنِ الْعَتِيرَةِ فَقَطْ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ أَيْضًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عتیرہ سے منع کیا ہے یہ ایک قربانی ہوتی تھی جسے وہ لوگ رجب کے مہینے میں ذبح کیا کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اس سے منع کر دیا اور انہیں عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کرنے کا حکم دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ” صحیح “ میں اور دیگر کتابوں میں
یہ روایت منقول ہے ، جو صرف عتیرہ کی ممانعت کے بارے میں ہے اس میں اس سیاق کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
یہ روایت منقول ہے ، جو صرف عتیرہ کی ممانعت کے بارے میں ہے اس میں اس سیاق کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 5942
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَمَا يُضَحِّيَانِ مَخَافَةَ يُسْتَنُّ [ بِهِمَا ] فَحَمَلَنِي أَهْلِي عَلَى الْجَفَاءِ بَعْدَ أَنْ عَلِمْتُ مِنَ السُّنَّةِ حَتَّى إِنِّي لَأُضَحِّي عَنْ كُلٍّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ قربانی نہیں کرتے تھے کہ اس اندیشے کے تحت کہ کہیں ان دونوں کی پیروی نہ شروع ہو جائے لیکن پھر میرے اہل خانہ نے مجھے زیادتی پر مجبور کیا ، حالانکہ مجھے سنت کا علم تھا ، انہوں نے مجھے مجبور کیا کہ میں ہر ایک فرد کی طرف سے قربانی کروں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔