کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان :’’ سفر صرف تین مساجد کی طرف کیا جائے “
حدیث نمبر: 5848
عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ قَالَ : لَقِيَ أَبُو بَصْرَةَ الْغِفَارِيُّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَهُوَ جَاءٍ مِنِ الطُّورِ فَقَالَ : مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ ؟ قَالَ : مِنَ الطُّورِ صَلَّيْتُ فِيهِ . قَالَ : لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَرْتَحِلَ مَا ارْتَحَلْتُ . إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : "لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ : الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي هَذَا وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ أَثْبَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عمر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی وہ طور سے آ رہے تھے ۔ انہوں نے دریافت کیا : آپ کہاں سے آ رہے ہو ؟ انہوں نے فرمایا : میں طور سے آ رہا ہوں میں نے وہاں نماز ادا کی تھی ۔ انہوں نے فرمایا : اگر میں نے آپ کے روانہ ہونے سے پہلے آپ کو پا لیا ہوتا تو آپ نے سفر پر نہیں جانا تھا کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” صرف تین مساجد کی طرف سفر کیا جائے مسجد حرام میری یہ مسجد اور مسجد اقصی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ثقہ اور ثبت ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5848
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (427) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (857) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير ( 2160) اخرجه احمد فى المسند (7/6)»
حدیث نمبر: 5849
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " خَيْرُ مَا رُكِبَتْ إِلَيْهِ الرَّوَاحِلُ مَسْجِدُ إِبْرَاهِيمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَمَسْجِدِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” جن چیزوں کی طرف سواریوں پر سوار ہو کے جایا جاتا ہے ان میں سب سے بہتر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی مسجد ہے اور میری مسجد ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5849
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند ( 1075 اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (744) اخرجه احمد فى المسند (350/3)»
حدیث نمبر: 5850
وَعَنْ شَهْرٍ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَذُكِرَ عِنْدِهُ فِي الطُّورِ فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَنْبَغِي لِلْمَطِيِّ أَنْ تُشَدَّ رِحَالُهُ إِلَى مَسْجِدٍ يُبْتَغَى فِيهِ الصَّلَاةُ غَيْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى وَمَسْجِدِي هَذَا ، وَلَا يَنْبَغِي لِامْرَأَةٍ دَخَلَتْ فِي الْإِسْلَامِ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِهَا مُسَافِرَةً إِلَّا مَعَ بَعْلٍ أَوْ ذِي مَحْرَمٍ مِنْهَا . وَلَا تَنْبَغِي الصَّلَاةُ فِي سَاعَتَيْنِ مِنَ النَّهَارِ مِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْفَجْرِ إِلَى أَنْ تَرْتَحِلَ الشَّمْسُ . وَلَا يَنْبَغِي الصَّوْمُ فِي يَوْمَيْنِ مِنَ الدَّهْرِ : يَوْمِ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ وَيَوْمِ النَّحْرِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِنَحْوِهِ ، وَإِنَّمَا أَخْرَجْتُهُ لِغَرَابَةِ لَفْظِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَشَهْرٌ فِيهِ كَلَامٌ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
شہر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو سنا ان کے سامنے کوہ طور کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے یہ بات بتائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ” کسی مسجد میں نماز پڑھنے کی غرض سے سواریوں پر پالان نہ باندھے جائیں البتہ مسجد حرام مسجد اقصی اور میری اس مسجد کا معاملہ مختلف ہے ( یعنی ان کی طرف سفر کیا جا سکتا ہے ) اور کسی بھی مسلمان عورت کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے گھر سے سفر کرنے کے لئے نکلے البتہ اگر شوہر ساتھ ہو یا کوئی اور محرم ساتھ ہو ، تو حکم مختلف ہے اور دن کی دو گھڑیوں میں نماز ادا کرنا مناسب نہیں ہے فجر کی نماز کے بعد ، جب تک سورج نکل نہیں آتا اور دو دنوں میں روزہ رکھنا مناسب نہیں ہے جب رمضان کے روزے ختم ہوتے ہیں ( یعنی عیدالفطر کے دن ) اور قربانی کے دن “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں
یہ روایت اس کی مانند منقول ہے لیکن میں نے اسے یہاں نقل کیا ہے کیونکہ اس کے الفاظ غریب ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے شہر نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5850
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (1326) اخرجه احمد فى المسند (64/3)»
حدیث نمبر: 5851
وَعَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ : مَسْجِدِي هَذَا وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى . وَلَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ فَوْقَ يَوْمَيْنِ إِلَّا وَمَعَهَا زَوْجُهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ ، [ وَلَا يُصَامُ يَوْمَانِ فِي السَّنَةِ : الْفِطْرُ وَالْأَضْحَى ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاتَيْنِ : بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ] " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى الْكُهَيْلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” سفر صرفتین مساجد کی طرف کیا جائے گا میری یہ مسجد ، مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ ، کوئی عورت دو دن سے زیادہ کا سفر نہ کرے البتہ اگر اس کا شوہر یا کوئی محرم ساتھ ہو ، تو حکم مختلف ہے سال میں دو دن روزے نہ رکھے جائیں عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن اور دو وقت میں نماز نہ پڑھی جائے فجر کی نماز کے بعد ، جب تک سورج طلوع نہیں ہو جاتا اور عصر کے بعد ، جب تک سورج غروب نہیں ہو جاتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن یحیی کہیلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5851
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (482)»
حدیث نمبر: 5852
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ : مَسْجِدِ الْخَيْفِ وَمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا مَسْجِدَ الْخَيْفِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خُثَيْمُ بْنُ مَرْوَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سفر صرف تین مساجد کی طرف کیا جائے مسجد خیف ، مسجد حرام اور میری مسجد “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے تا ہم اس میں مسجد خیف کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خثیم بن مروان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5852
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 5853
وَعَنْ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ : مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي هَذَا وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْبَزَّارَ قَالَ : أَخْطَأَ فِيهِ حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” صرف تین مساجد کی طرف سفر کیا جائے مسجد حرام ، میری یہ مسجد اور مسجد اقصی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ امام بزار نے یہ کہا: ہے : حبان بن ہلال نے اس میں غلطی کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5853
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1073)»
حدیث نمبر: 5854
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " خَيْرُ مَا رُكِبَتْ إِلَيْهِ الرَّوَاحِلُ مَسْجِدُ إِبْرَاهِيمَ وَمَسْجِدُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا - " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” جس طرف سواریوں پر سوار ہو کر سفر کیا جاتا ہے ان میں سب سے بہتر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی مسجد ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5854
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 5855
وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَمَسْجِدِي خَاتَمُ مَسَاجِدِ الْأَنْبِيَاءِ . أَحَقُّ الْمَسَاجِدِ أَنْ يُزَارَ وَتُشَدَّ إِلَيْهِ الرَّوَاحِلُ : الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ وَمَسْجِدِي ، صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہوں اور میری یہ مسجد انبیاء کی مساجد کے سلسلے کو ختم کرنے والی ہے اس بات کی سب سے زیادہ حق دار مساجد کہ جن کی زیارت کی جائے اور جن کی طرف سفر کیا جائے وہ مسجد حرام ہے اور میری مسجد ہے میری مسجد میں ایک نماز ادا کرنا اس کے علاوہ کسی بھی مسجد میں ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے البتہ مسجد حرام کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5855
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند ( 1193)»
حدیث نمبر: 5856
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ : مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ الْمَدِينَةِ وَمَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” صرف تین مساجد کی طرف سفر کیا جائے مسجد حرام ، مسجد مدینہ اور مسجد بیت المقدس “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5856
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير ( 3383)»
حدیث نمبر: 5857
وَعَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ : الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي هَذَا وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوالجعد ضمری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” صرف تین مساجد کی طرف سفر کیا جائے مسجد حرام ، میری یہ مسجد اور مسجد اقصی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5857
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1074) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (366/22)»