کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: مسجد حرام ، مسجد نبوی اور بیت المقدس میں نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 5858
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ، وَصَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَفْضَلُ مِنْ مِائَةِ صَلَاةٍ فِي هَذَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ وَلَفْظُهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ، وَصَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، فَإِنَّهُ يَزِيدُ عَلَيْهِ مِائَةً " . ¤ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِ الْبَزَّارِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری اس مسجد میں ایک نماز ادا کرنا اس کے علاوہ اور کسی بھی مسجد میں ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے البتہ مسجد حرام کا معاملہ مختلف ہے مسجد حرام میں ایک نماز ادا کرنا اس مسجد ( یعنی مسجد نبوی ) میں ایک سو نمازیں ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری اس مسجد میں ایک نماز ادا کرنا اس کے علاوہ کہیں بھی ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے البتہ مسجد حرام کا معاملہ مختلف ہے اور مسجد حرام میں ایک نماز ادا کرنا اس پر ایک سو گنا فضیلت رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں امام بزار کی روایت کی مانند نقل کی ہے امام أحمد اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری اس مسجد میں ایک نماز ادا کرنا اس کے علاوہ کہیں بھی ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے البتہ مسجد حرام کا معاملہ مختلف ہے اور مسجد حرام میں ایک نماز ادا کرنا اس پر ایک سو گنا فضیلت رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں امام بزار کی روایت کی مانند نقل کی ہے امام أحمد اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5859
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُ الثَّلَاثَةِ مُرْسَلٌ ، وَلَهُ فِي الطَّبَرَانِيُّ إِسْنَادٌ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَهُوَ مُتَّصِلٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری اس مسجد میں ایک نماز ادا کرنا اس کے علاوہ اور کہیں بھی ، ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے البتہ مسجد حرام کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے تینوں روایات کی سند ” مرسل“ ہیں ان کے حوالے سے امام طبرانی نے ایک سند نقل کی ہے ، جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور وہ متصل ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے تینوں روایات کی سند ” مرسل“ ہیں ان کے حوالے سے امام طبرانی نے ایک سند نقل کی ہے ، جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور وہ متصل ہے ۔
حدیث نمبر: 5860
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارَ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری اس مسجد میں ایک نماز ادا کرنا اس کے علاوہ اور کہیں بھی ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے بہتر ہے البتہ مسجد حرام کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5861
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَوْ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْأَقْصَى " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : " إِلَّا الْمَسْجِدَ الْأَقْصَى " ، وَأَعَادَهُ بَعْدَ هَذَا بِسَنَدِهِ فَقَالَ : " إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " . ¤ وَرَوَاهُ بِسَنَدٍ آخَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَنْ عَائِشَةَ ، وَلَمْ يَشُكَّ ، وَرِجَالُ الْأَوَّلِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرِجَالُ الْأَخِيرِ ثِقَاتٌ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ عَائِشَةَ وَحْدَهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ، یا شاید سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری مسجد میں ایک نماز ادا کرنا اس کے علاوہ کسی جگہ پر ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے بہتر ہے البتہ مسجد اقصیٰ کا معاملہ مختلف ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ” البتہ مسجد اقصیٰ کا معاملہ مختلف ہے “ اس کے بعد انہوں نے اسی سند کے ساتھ اس روایت کو دہرایا ہے اور یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” البتہ مسجد حرام کا معاملہ مختلف ہے “ ۔ انہوں نے
یہ روایت ایک اور سند کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ( دونوں سے ) نقل کی ہے یعنی اس میں ۔ انہوں نے شک کا اظہار نہیں کیا پہلی روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور دوسری روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے صرف سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے ۔
یہ روایت ایک اور سند کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ( دونوں سے ) نقل کی ہے یعنی اس میں ۔ انہوں نے شک کا اظہار نہیں کیا پہلی روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور دوسری روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے صرف سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 5862
وَعَنِ الْأَرْقَمِ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ : " أَيْنَ تُرِيدُ ؟ " ، قَالَ : أَرَدْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَاهُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى حَيِّزِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ : " مَا يُخْرِجُكَ إِلَيْهِ أَتِجَارَةٌ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : لَا ، وَلَكِنْ أَرَدْتُ الصَّلَاةَ [ فِيهِ ] ! قَالَ : " فَالصَّلَاةُ هَاهُنَا - وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى مَكَّةَ - خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّامِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ فَقَالَ :
محمد محی الدین
سیدنا ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کہاں کا ارادہ رکھتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس طرف کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے بیت المقدس کی سمت اشارہ کر کے یہ بات کہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کی طرف کیوں جا رہے ہو ؟ کیا تجارت کے سلسلے میں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : جی نہیں ! بلکہ میں وہاں نماز ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے مکہ کی طرف اشارہ کر کے ارشاد فرمایا : یہاں ایک نماز ادا کرنا اس جگہ ایک ہزار نمازوں سے بہتر ہے “ ۔ آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے شام کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : ( یعنی پھر اگلی روایت ہے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : ( یعنی پھر اگلی روایت ہے ) ۔
حدیث نمبر: 5863
عَنِ الْأَرْقَمِ - وَكَانَ بَدْرِيًّا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوَى فِي دَارِهِ عِنْدَ الصَّفَا حَتَّى تَكَامَلُوا أَرْبَعِينَ رَجُلًا مُسْلِمِينَ ، وَكَانَ آخِرُهُمْ إِسْلَامًا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَلَمَّا كَانُوا أَرْبَعِينَ خَرَجُوا إِلَى الْمُشْرِكِينَ ، قَالَ : جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأُوَدِّعَهُ وَأَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيْنَ تُرِيدُ ؟ " ، قُلْتُ : أُرِيدُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : " وَمَا يُخْرِجُكَ إِلَيْهِ أَفِي تِجَارَةٍ ؟ " ، قُلْتُ : لَا ، وَلَكِنِّي أُصَلِّي فِيهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلَاةٌ هَاهُنَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ ثَمَّ " . ¤ وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ فِيهِمْ يَحْيَى بْنُ عِمْرَانَ جَهِلَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ارقم رضی اللہ عنہ جو ایک بدری صحابی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی کے پاس موجود ان کے گھر میں کچھ عرصہ ٹھہرے رہے تھے یہاں تک کہ مسلمانوں کی تعداد چالیس ہو گئی جن میں اسلام قبول کرنے والے آخری فرد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں جب ان حضرات کی تعداد چالیس ہو گئی تو یہ نکل کر مشرکین کی طرف گئے سیدنا ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( ایک دن ) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ سے رخصت چاہوں میرا ارادہ بیت المقدس کی طرف جانے کا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : تم کہاں کا ارادہ رکھتے ہو ؟ میں نے عرض کی : میں بیت المقدس کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم اس طرف کیوں جانا چاہتے ہو ؟ کیا تجارت کے سلسلے میں ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! بلکہ میں وہاں نماز ادا کرنا چاہتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہاں ایک نماز ادا کرنا وہاں ایک ہزار نمازوں سے بہتر ہے “ ۔ امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں امام أحمد کے رجال میں ایک راوی یحیی بن عمران ہے ، جسے ابوحاتم نے مجبول قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5864
وَعَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " صَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَهْلُ بْنُ عُبَيْدَةَ التُّسْتَرِيُّ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” مسجد حرام میں ایک نماز ادا کرنا اس کے علاوہ اور کسی بھی مسجد میں ایک ہزار نمازوں سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سہل بن عبیدہ تستری ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سہل بن عبیدہ تستری ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5865
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ، وَصَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةٍ فِي مَسْجِدِي بِأَلْفِ صَلَاةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری اس مسجد میں ایک نماز ادا کرنا اس کے علاوہ اور کہیں بھی ایک ہزار نمازوں سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے البتہ مسجد حرام کا معاملہ مختلف ہے مسجد حرام میں ایک نماز ادا کرنا ، میری مسجد میں ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5866
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " صَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَفْضَلُ مِنْ مِائَةِ صَلَاةٍ فِي غَيْرِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” مسجد حرام میں ایک نماز ادا کرنا اس کے علاوہ کہیں اور ایک سو نمازیں ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5867
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو بَحْرٍ الْبَكْرَاوِيُّ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری اس مسجد میں ایک نماز ادا کرنا اس کے علاوہ کہیں بھی ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے البتہ مسجد حرام کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبحر بکراوی ہے ، جسے امام أحمد اور امام ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبحر بکراوی ہے ، جسے امام أحمد اور امام ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 5868
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : وَدَّعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا فَقَالَ لَهُ : " أَيْنَ تُرِيدُ ؟ " ، قَالَ : أُرِيدُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ مِائَةِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ " ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو الوداع کہا: آپ نے اس سے دریافت کیا : تم کہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہو ؟ اس نے عرض کی : میں بیت المقدس جانے کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری اس مسجد میں ایک نماز ادا کرنا اس کے علاوہ کہیں بھی ایک سو نمازیں ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے البتہ مسجد حرام کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ایک ہزار نمازوں سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے “ ۔ امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ایک ہزار نمازوں سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے “ ۔ امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5869
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا بَيْنَ قَبْرِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ، وَصَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ بِتَمَامِهِ ، وَحَدِيثُ عَلِيٍّ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ خَلَا ذِكْرَ الصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری قبر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے اور میری مسجد میں ایک نماز ادا کرنا اس کے علاوہ اور کہیں بھی ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے البتہ مسجد حرام کا حکم مختلف ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث مکمل روایت کے طور پر ” صحیح “ میں مذکور ہے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے البتہ انہوں نے نماز کا ذکر نہیں کیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن وردان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث مکمل روایت کے طور پر ” صحیح “ میں مذکور ہے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے البتہ انہوں نے نماز کا ذکر نہیں کیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن وردان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5870
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنَ الصَّلَاةِ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری اس مسجد میں ایک نماز ادا کرنا اس کے علاوہ اور کہیں بھی ایک ہزار ) نمازوں سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے ، البتہ مسجد حرام کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ایک راوی یحیی حمانی ہے اور اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ایک راوی یحیی حمانی ہے اور اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5871
وَعَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ آدَمَ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ لِكَعْبٍ : أَيْنَ تَرَى أَنْ أُصَلِّيَ ؟ قَالَ : إِنْ أَخَذْتَ عَنِّي صَلَّيْتَ خَلْفَ الصَّخْرَةِ فَكَانَتِ الْقُدْسُ كُلُّهَا بَيْنَ يَدَيْكَ فَقَالَ عُمَرُ : ضَاهَيْتَ الْيَهُودِيَّةَ [ لَا ] ، وَلَكِنْ أُصَلِّي حَيْثُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَقَدَّمَ إِلَى الْقِبْلَةِ فَصَلَّى ، ثُمَّ جَاءَ [ فَبَسَطَ رِدَائَهُ ] فَكَنَسَ الْكُنَاسَةَ فِي رِدَائِهِ وَكَنَسَ النَّاسُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سِنَانٍ الْقَسْمَلِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ ، وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبیدہ بن آدم بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کعب احبار سے یہ دریافت کرتے ہوئے سنا : تمہارے خیال میں مجھے کہاں نماز ادا کرنی چاہیے ؟ انہوں نے فرمایا : اگر آپ میری بات مانتے ہیں تو آپ کو اس پتھر کے پیچھے نماز ادا کرنی چاہیے اس طرح پورا قدس آپ کے سامنے ہو جائے گا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے یہودیت کو ترجیح دی ہے ، میں اس جگہ نماز ادا کروں گا جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی تھی پھر وہ قبلہ کی سمت بڑھ گئے اور انہوں نے نماز ادا کی پھر وہ آئے ۔ انہوں نے اپنی چادر کو پھیلایا اور اپنی چادر میں تنکے وغیرہ رکھنے لگے تو لوگوں نے بھی صفائی کرنا شروع کی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سنان قسملی ہے ابن حبان نے اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سنان قسملی ہے ابن حبان نے اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5872
وَعَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْتِنَا فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ ؟ قَالَ : " أَرْضُ الْمَحْشَرِ وَأَرْضُ الْمَنْشَرِ ائْتُوهُ فَصَلُّوا فِيهِ ، فَإِنَّ صَلَاةً فِيهِ كَأَلْفِ صَلَاةٍ " ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَتَحَمَّلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : " مَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَأْتِيَهُ فَلْيُهْدِ إِلَيْهِ زَيْتًا يُسْرَجُ فِيهِ ، فَإِنَّ مَنْ أَهْدَى إِلَيْهِ زَيْتًا كَانَ كَمَنْ أَتَاهُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ قِطْعَةً مِنْهُ مِنْ حَدِيثِ مَيْمُونَةَ مَوْلَاةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِتَمَامِهِ مِنْ حَدِيثِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ بیت المقدس کے بارے میں ہمیں حکم بیان کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد نے فرمایا : ” وہ محشر کی سرزمین ہے اور دوبارہ زندہ کیے جانے کی سرزمین ہے تم وہاں جاؤ اور وہاں نماز ادا کرو کیونکہ وہاں ایک نماز ادا کرنا ایک ہزار نمازوں کی مانند ہے ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ جو شخص وہاں تک جانے کی استطاعت نہ رکھتا ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص وہاں جانے کی استطاعت نہ رکھتا ہو ، تو وہ اس کی طرف زیتون کا تیل ہدیہ کے طور پر بھجوا دے جو وہاں کے چراغوں میں ڈالا جائے کیونکہ جو شخص اس کی طرف زیتون کا تیل تحفے کے طور پر بھجوائے گا تو وہ اس شخص کی مانند ہو جائے گا جو وہاں آیا ہو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیز سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے مکمل روایت کے طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے مکمل روایت کے طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5873
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ بِمِائَةِ أَلْفِ صَلَاةٍ وَالصَّلَاةُ فِي مَسْجِدِي بِأَلْفِ صَلَاةٍ وَالصَّلَاةُ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ بِخَمْسِمِائَةِ صَلَاةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ ، وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مسجد حرام میں ایک نماز ادا کرنا ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے میری اس مسجد میں ایک نماز ادا کرنا ایک ہزار نمازوں کے برابر ہے اور بیت المقدس میں ایک نماز ادا کرنا پانچ سو نمازوں کے برابر ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ان میں سے بعض کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اور یہ حدیث حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ان میں سے بعض کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اور یہ حدیث حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 5874
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : تَذَاكَرْنَا وَنَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَيُّهُمَا أَفْضَلُ ؛ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ بَيْتُ الْمَقْدِسِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ فِيهِ وَلَنِعْمَ الْمُصَلَّى هُوَ وَلَيُوشِكَنَّ أَنْ يَكُونَ قَوْسُهُ مِنَ الْأَرْضِ حَيْثُ يُرَى مِنْهُ بَيْتُ الْمَقْدِسِ خَيْرٌ لَهُ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ بات چیت کر رہے تھے ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ( موضوع یہ تھا ) کہ ان دونوں میں سے کون سی ( مسجد ) زیادہ فضیلت رکھتی ہے ؟ مسجد نبوی یا بیت المقدس ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری اس مسجد میں ایک نماز ادا کرنا اس جگہ پر چار نمازیں ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے اور نماز ادا کرنے کے لئے عمدہ جگہ یہ ہے اور عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ جب آدمی زمین میں کسی ایسی جگہ پر موجود ہو جہاں سے بیت المقدس دکھائی دیتا ہو یہ اس کے لئے پوری دنیا سے زیادہ بہتر ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5875
وَعَنْ ذِي الْأَصَابِعِ قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِ ابْتُلِينَا بَعْدَكَ بِالْبَقَاءِ أَيْنَ تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ فَلَعَلَّهُ أَنْ تَنْشُوءَ لَكُمْ ذُرِّيَّةٌ تَغْدُونَ إِلَى ذَلِكَ الْمَسْجِدِ وَتَرُوحُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ فِي زِيَادَاتِهِ عَلَى أَبِيهِ . وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ ، وَضَعَّفَهُ النَّاسُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ذو اصابع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ کے بعد ہمیں رہنے میں آزمائش کا شکار ہونا پڑے تو آپ ہمیں کہاں کے بارے میں حکم دیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پر لازم ہے کہ بیت المقدس چلے جاؤ ! ہو سکتا ہے وہاں تمہاری ایسی اولاد پیدا ہو جو صبح و شام اس مسجد کی طرف جائیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے عبداللہ نے اپنے والد کی ( ” مسند “ کی ) ” زیادات “ میں اسے نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء ہے ، جسے دحیم نے ثقہ قرار دیا ہے اور لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے عبداللہ نے اپنے والد کی ( ” مسند “ کی ) ” زیادات “ میں اسے نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء ہے ، جسے دحیم نے ثقہ قرار دیا ہے اور لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 5876
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " قَالَ اللَّهُ لِدَاوُدَ : ابْنِ لِي بَيْتًا فِي الْأَرْضِ ، فَبَنَى دَاوُدُ بَيْتًا لِنَفْسِهِ قَبْلَ أَنْ يَبْنِيَ الْبَيْتَ الَّذِي أُمِرَ بِهِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : يَا دَاوُدُ نَصَبْتَ بَيْتَكَ قَبْلَ بَيْتِي ؟ قَالَ : أَيْ رَبِّ هَكَذَا [ قُلْتُ فِيمَا قَضَيْتُهُ ] مَنْ مَلَكَ اسْتَأْثَرَ ، ثُمَّ أَخَذَ فِي بِنَاءِ الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا تَمَّ السُّورُ سَقَطَ ثُلُثَاهُ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - [ فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ] أَنَّهُ لَا يَصْلُحُ أَنْ تَبْنِيَ لِي بَيْتًا ، قَالَ : أَيْ رَبِّ لِمَ ؟ قَالَ : لِمَا جَرَتْ عَلَى يَدَيْكَ مِنَ الدِّمَاءِ ، قَالَ : أَيْ رَبِّ أَوَلَمْ يَكُنْ ذَاكَ فِي هَوَاكَ وَمَحَبَّتِكَ ؟ قَالَ : بَلَى ، وَلَكِنَّهُمْ عِبَادِي ، وَأَنَا أَرْحَمُهُمْ ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ فَأَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْهِ : لَا تَحْزَنْ ، فَإِنِّي سَأَقْضِي بِنَاءَهُ عَلَى يَدِ ابْنِكَ سُلَيْمَانَ ، فَلَمَّا مَاتَ دَاوُدُ أَخَذَ سُلَيْمَانُ فِي بِنَائِهِ فَلَمَّا تَمَّ قَرَّبَ الْقَرَابِينَ وَذَبَحَ الذَّبَائِحَ وَجَمَعَ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَأَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْهِ : قَدْ أَرَى سُرُورَكَ بِبُنْيَانِ بَيْتِي فَسَلْنِي أُعْطِكَ قَالَ : أَسْأَلُكَ ثَلَاثَ خِصَالٍ : حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَكُ ، وَمُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي وَمَنْ أَتَى هَذَا الْبَيْتَ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ [ فِيهِ ] خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَّا اثْنَتَانِ ، فَقَدْ أُعْطِيَهُمَا ، وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أُعْطِيَ الثَّالِثَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ ، وَهُوَ مُتَّهَمٌ بِالْوَضْعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : اللہ تعالیٰ نے سیدنا داؤد علیہ السلام سے فرمایا تم میرے لئے زمین میں ایک گھر بنا دو سیدنا داؤد نے اس گھر کو بنانے سے پہلے جس کے بارے میں انہیں حکم دیا گیا تھا اپنے لئے ایک گھر بنا لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی : اے داؤد ! تم نے میرا گھر بنانے سے پہلے اپنا گھر بنا لیا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : اے میرے پروردگار اسی طرح ہوا ہے میں نے یہ سوچا کہ میں یہ فیصلہ دے چکا ہوں کہ جو مالک ہوتا ہے وہ ترجیح دیتا ہے پھر انہوں نے مسجد کی تعمیر شروع کی جب اس کی دیواریں مکمل ہو گئیں تو اس کا دو تہائی حصہ گر گیا انہوں نے اس بات کی شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کی ، تو اللہ تعالیٰ نے وحی کی کہ یہ مناسب نہیں ہے کہ تم میرے لئے گھر بناؤ انہوں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! وہ کیوں ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیونکہ تمہارے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے عرض کی : اے میرے پروردگار یہ سب کچھ تیری خواہش اور تیری محبت میں ہوا ہے پروردگار نے فرمایا ٹھیک ہے لیکن وہ میرے بندے تھے اور میں ان پر سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہوں سیدنا داؤد پر یہ بات گراں گزری تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی کی کہ تم غمگین نہ ہو میں عنقریب یہ فیصلہ دوں گا کہ اس کی تعمیر تمہارے بیٹے سلیمان کے ہاتھوں ہو گی جب سیدنا داؤد کا انتقال ہو گیا تو سیدنا سلیمان نے اس کی تعمیر شروع کی ، جب اس کی تعمیر مکمل ہوئی تو انہوں نے دیگیں تیار کروائیں جانور ذبح کروائے اور بنی اسرائیل کو اکٹھا کیا اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ میں نے اپنے گھر کی تعمیر کے حوالے سے تمہاری خوشی کو دیکھا ہے تم مجھ سے مانگو میں تمہیں عطا کروں گا انہوں نے عرض کی : میں تجھ سے تین چیزوں کا سوال کرتا ہوں فیصلہ دینے کی ایسی صلاحیت جو تیرے حکم کے مطابق ہو ایسی بادشاہی جو میرے بعد کسی اور کو نہ ملے اور جو شخص اس گھر میں آئے ، اور اس کا مقصد صرف یہاں نماز ادا کرنا ہو تو وہ اپنے گناہوں سے یوں نکل جائے جیسے اس دن تھا جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک دو چیزوں کا تعلق ہے ، تو وہ انہیں دے دی گئیں تھیں اور مجھے یہ امید ہے کہ تیسری چیز بھی انہیں دے دی گئی ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ایوب بن سوید رملی ہے ، جس پر روایت ایجاد کرنے کا الزام ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ایوب بن سوید رملی ہے ، جس پر روایت ایجاد کرنے کا الزام ہے ۔
حدیث نمبر: 5877
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ فَهُوَ أَفْضَلُ " . ¤ هُوَ فِي الصَّحِيحِ دُونَ قَوْلِهِ : " فَهُوَ أَفْضَلُ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری اس مسجد میں ایک نماز ادا کرنا اس کے علاوہ اور کسی بھی مسجد میں ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے البتہ مسجد حرام کا معاملہ مختلف ہے وہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے “ ۔ ” صحیح “ میں
یہ روایت منقول ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” وہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے “ ( یا وہاں نماز ادا کرنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے ) ۔
یہ روایت منقول ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” وہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے “ ( یا وہاں نماز ادا کرنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے ) ۔