کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ہمارے آقا رسول اللہ ﷺ کی زیارت کرنا
حدیث نمبر: 5841
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ زَارَ قَبْرِي وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغِفَارِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو گئی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ابراہیم غفاری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5841
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1198) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير ( 3149)»
حدیث نمبر: 5842
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ جَاءَنِي زَائِرًا لَا يَعْلَمُ لَهُ حَاجَةً إِلَّا زِيَارَتِي كَانَ حَقًّا عَلَيَّ أَنْ أَكُونَ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ سَالِمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص میرے پاس میری زیارت کرنے کے لئے آئے اور اس کو میری زیارت کے علاوہ اور کوئی کام نہ ہو ، تو میرے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کرنے والا بنوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن سالم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5842
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير ( 13149)»
حدیث نمبر: 5843
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِي فِي مَمَاتِي كَانَ كَمَنْ زَارَنِي فِي حَيَاتِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ الْقَارِئُ ؛ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الْأَئِمَّةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص حج کرے اور میرے مرنے کے بعد میری قبر کی زیارت کرے وہ اس شخص کی مانند ہے ، جس نے میری زندگی میں میری زیارت کی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حفص بن ابوداؤد قاری ہے ، جسے امام أحمد نے ثقہ قرار دیا ہے اور ائمہ کی ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5843
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير ( 13497)»
حدیث نمبر: 5844
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ زَارَ قَبْرِي بَعْدَ مَوْتِي كَانَ كَمَنْ زَارَنِي فِي حَيَاتِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَائِشَةُ بِنْتُ يُونُسَ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص نے میرے مرنے کے بعد میری قبر کی زیارت کی ، تو گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عائشہ بنت یونس ہیں میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5844
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (289)»