حدیث نمبر: 5840
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَدِينَةُ مُهَاجَرِي ، وَمَضْجَعِي فِي الْأَرْضِ ، حَقٌّ عَلَى أُمَّتِي أَنْ يُكْرِمُوا جِيرَانِي مَا اجْتَنَبُوا الْكَبَائِرَ ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ سَقَاهُ اللَّهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ " ، قُلْنَا : يَا أَبَا يَسَارٍ ، مَا طِينَةُ الْخَبَالِ ؟ قَالَ : عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ أَبِي الْجَنُوبِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مدینہ میرے ہجرت کا مقام ہے اور زمین میں میری آرام گاہ ہے میری امت پر یہ بات لازم ہے کہ وہ میرے پڑوسیوں کی عزت افزائی کریں جب تک وہ لوگ کبیرہ گناہ سے اجتناب کرتے ہیں ان میں سے جو ایسا نہیں کرے گا اللہ تعالی اسے طینہ خبال پلائے گا “ ۔ ہم نے دریافت کیا : اے ابویسار ! طینہ خبال سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اہل جہنم کا نچوڑ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالسلام بن ابوجنوب ہے اور وہ متروک ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالسلام بن ابوجنوب ہے اور وہ متروک ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔