کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مدینہ منورہ کی تنگی پر صبر کرنا
حدیث نمبر: 5819
عَنْ عُمَرَ قَالَ : غَلَا السِّعْرُ بِالْمَدِينَةِ فَاشْتَدَّ الْجُهْدُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اصْبِرُوا وَأَبْشِرُوا ; فَإِنِّي قَدْ بَارَكْتُ عَلَى مُدِّكُمْ وَصَاعِكُمْ ، فَكُلُوا وَلَا تُفَرِّقُوا ; فَإِنَّ طَعَامَ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ ، وَطَعَامَ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ ، وَطَعَامَ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الْخَمْسَةَ وَالسِّتَّةَ ، وَإِنَّ الْبَرَكَةَ فِي الْجَمَاعَةِ ; فَمَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ خَرَجَ عَنْهَا رَغْبَةً عَمَّا فِيهَا أَبْدَلَ اللَّهُ بِهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ فِيهَا ، وَمَنْ أَرَادَهَا بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مدینہ منورہ میں ( چیزوں کی ) قیمتیں زیادہ ہو گئیں تو تنگی آ گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ صبر سے کام لو اور خوشخبری حاصل کرو میں نے تمہارے مد اور تمہارے صاع کے لئے برکت کی دعا کی ہے تم لوگ کھاؤ اور الگ الگ نہ کھاؤ تو ایک کا کھانا دو کے لئے کافی ہو جائے گا دو کا کھانا چار کے لئے کافی ہو جائے گا چار کا کھانا پانچ یا چھ کے لئے کافی ہو جائے گا برکت اکھٹے کھانے میں ہے ، جو شخص یہاں کی تنگی اور شدت پر صبر سے کام لے گا قیامت کے دن میں اس کا شفاعت کرنے والا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) گواہ ہوؤں گا اور جو شخص یہاں موجود ( فضیلت ) سے بے رغبتی اختیار کرتے ہوئے یہاں سے نکل جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ بہتر فرد ( مدینہ منورہ کو ) عطا کر دے گا اور جو شخص یہاں کے بارے میں برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالی اسے ( جہنم کی آگ میں ) یوں گھول دے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5819
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند ( 1185)»