کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس ( یعنی مدینہ منورہ ) کے لئے جامع دعا کا بیان
حدیث نمبر: 5812
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى بِأَرْضِ سَعْدٍ بِأَصْلِ الْحَرَّةِ عِنْدَ بُيُوتِ الْغَنَائِمِ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَكَ وَعَبْدَكَ دَعَاكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ ، وَأَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ أَدْعُوكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ مِثْلَ مَا دَعَاكَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ لِمَكَّةَ ، نَدْعُوكَ أَنْ تُبَارِكَ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ ، وَمُدِّهِمْ ، وَثِمَارِهِمْ ، اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ ، وَاجْعَلْ مَا بِهَا مِنْ وَبَاءٍ بِخُمٍّ ، اللَّهُمَّ إِنِّي حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَمَا حَرَّمْتَ عَلَى لِسَانِ إِبْرَاهِيمَ الْحَرَمَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا پھر آپ نے حرہ کی سرزمین پر بکریوں کے گھروں کے پاس سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی زمین میں نماز ادا کی پھر آپ نے یہ دعا کی : ” اے اللہ ! بے شک سیدنا ابراہیم علیہ السلام تیرے خلیل ہیں ۔ انہوں نے اہل مکہ کے لئے تجھ سے دعا کی تھی اور میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تیرا بندہ اور تیرا رسول ہوں میں اہل مدینہ کے لئے تجھ سے وہی دعا کرتا ہوں جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے تجھ سے مکہ کے لئے کی تھی ہم تجھ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ تو ان لوگوں کے صاع اور ان لوگوں کے مد میں برکت رکھ دے اے اللہ ! مدینہ کو ہمارے لئے محبوب کر دے جس طرح تو نے مکہ کو ہمارے نزدیک محبوب کیا ہے اور یہاں کی وباء کو ” خم “ کی طرف منتقل کر دے اے اللہ ! میں اس کے دونوں کناروں کے درمیان کی جگہ کو حرم قرار دیتا ہوں جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زبانی حرم کو حرم قرار دیا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5813
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا نَظَرَ إِلَى قِبَلِ الشَّامِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ " ، وَنَظَرَ إِلَى الْعِرَاقِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَنَظَرَ قِبَلَ كُلِّ أُفُقٍ فَفَعَلَ ذَلِكَ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا مِنْ ثَمَرَاتِ الْأَرْضِ ، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھا آپ نے شام کی سمت دیکھ کر دعا کی : اے اللہ ! تو ان کے دلوں کو لے آ پھر آپ نے عراق کی طرف دیکھ کر اس کی مانند کہا: آپ نے ہر افق کی طرف دیکھ اس کی مانند کیا اور یہ دعا کی اے اللہ ! زمین کے پھلوں میں سے ہمیں رزق عطا فرما ! اور ہمارے لئے ہمارے مد اور ہمارے صاع میں برکت رکھ دے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 5814
وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ أَنَّ فَرَسَهُ أَعْيَتْ بِالْعَقِيقِ ، وَهُمْ فِي بَعْثٍ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَجَعَ إِلَيْهِ يَسْتَحْمِلُهُ فَزَعَمَ سُفْيَانُ كَمَا ذَكَرُوا : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ مَعَهُ يَبْتَغِي لَهُ بَعِيرًا فَلَمْ يَجِدْهُ إِلَّا عِنْدَ أَبِي جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ الْعَدَوِيِّ فَسَاوَمَهُ بِهِ فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْمٍ : لَا أَبِيعُكَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَكِنْ خُذْهُ فَاحْمِلْ عَلَيْهِ مَنْ شِئْتَ ، فَزَعَمَ أَنَّهُ أَخَذَهُ مِنْهُ ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ بِئْرَ الْإِهَابِ . زَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُوشِكُ الْبُنْيَانُ أَنْ يَأْتِيَ هَذَا الْمَكَانَ ، وَيُوشِكُ الشَّامُ أَنْ يُفْتَحَ فَيَأْتِيهِ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ هَذَا الْبَلَدِ فَيُعْجِبُهُمْ رِيعُهُ ، وَرَخَاؤُهُ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ثُمَّ يُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبِسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ ، وَمَنْ أَطَاعَهُمْ ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ، إِنَّ إِبْرَاهِيمَ دَعَا لِأَهْلِ مَكَّةَ ، وَإِنِّي أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يُبَارِكَ لَنَا فِي صَاعِنَا ، وَأَنْ يُبَارِكَ لَنَا فِي مُدِّنَا مِثْلَ مَا بَارَكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَبَعْضُ رُوَاتِهِ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سفیان بن ابوزہیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے عقیق کے مقام پر ان کا گھوڑا تھک گیا وہ ایک جنگی مہم میں شامل تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کی تھی وہ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے سواری کے لئے جانور مانگا تو سیدنا سفیان رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ نکلے تاکہ ان کے لئے کوئی اونٹ حاصل کریں آپ کو سیدنا ابوجہم بن حذیفہ عدوی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک اونٹ ملا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اونٹ کی قیمت دریافت کی ، تو سیدنا ابوجہم رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ اونٹ میں آپ کو فروخت نہیں کروں گا آپ اسے لے لیں اور جسے چاہیں سواری کے لئے دے دیں راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اونٹ ان سے لے لیا پھر آپ نکلے یہاں تک کہ آپ بئراہاب تک پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب عمارتیں اس جگہ تک آ جائیں گی اور عنقریب شام فتح ہو گا اس شہر کے رہنے والوں میں سے کچھ لوگ شام جائیں گے وہاں کی خوشحالی اور فراخی انہیں پسند آئے گی ، حالانکہ اگر وہ علم رکھتے ہوں تو مدینہ ان کے حق میں زیادہ بہتر ہے ، پھر عراق فتح ہو گا کچھ لوگ آئیں گے وہ اپنے اہل خانہ اور اپنے فرمانبردار لوگوں ( یعنی غلام وغیرہ ) کو سوار کریں گے اور لے جائیں گے حالانکہ اگر وہ علم رکھتے ہوں تو مدینہ ان کے لئے زیادہ بہتر ہے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اہل مکہ کے لئے دعا کی تھی اور میں اللہ تعالٰی سے یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمارے لئے ہمارے صاع میں برکت رکھ دے اور ہمارے لئے ہمارے مد میں برکت رکھ دے جس طرح اس نے اہل مکہ کے لئے برکت رکھی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کے بعض راویوں کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کے بعض راویوں کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5815
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كُنَّا عِنْدَ السُّقْيَا الَّتِي كَانَتْ لِسَعْدٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدَكَ وَخَلِيلَكَ دَعَاكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ بِالْبَرَكَةِ ، وَأَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَإِنِّي أَدْعُوكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ; أَنْ تُبَارِكَ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ مِثْلَ مَا بَارَكْتَ لِأَهْلِ مَكَّةَ ، وَاجْعَلِ الْبَرَكَةَ بِرْكَتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ راوانہ ہوئے یہاں تک کہ جب ہم ” سقیا “ کے مقام پر پہنچے جو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! بے شک سیدنا ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے اور تیرے خلیل تھے ۔ انہوں نے تجھ سے اہل مکہ کے لئے برکت کی دعا مانگی تھی اور میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تیرا بندہ اور تیرا رسول ہوں میں اہل مدینہ کے لئے تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ تو ان کے صاع اور ان کے مد میں ان کے لئے برکت رکھ دے جو اس کی مانند ہو جو تو نے اہل مکہ کے لئے برکت رکھی ہے اور اس برکت کے ہمراہ دو مزید برکتیں رکھ دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5816
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْفَجْرَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا ، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَيَمَنِنَا " . فَقَالَ رَجُلٌ : وَالْعِرَاقُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مِنْ ثَمَّ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ، وَتُهَيَّجُ الْفِتَنُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز ادا کی پھر آپ نے حاضرین کی طرف رخ کیا اور یہ کہا: اے اللہ ! ہمارے لئے ہمارے مدینہ میں برکت رکھ دے اور ہمارے لئے ہمارے صاع اور مد میں برکت رکھ دے اے اللہ ! ہمارے لئے ہمارے شام اور ہمارے یمن میں برکت رکھ دے ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! عراق کے لئے بھی دعا کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے اور وہاں سے فتنے پھیلیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5817
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : دَعَا نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا ، وَبَارِكْ لَنَا فِي مَكَّتِنَا وَمَدِينَتِنَا ، وَبَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَيَمَنِنَا " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، وَعِرَاقِنَا ؟ فَقَالَ : " إِنَّ بِهَا قَرْنَ الشَّيْطَانِ ، وَتَهَيُّجَ الْفِتَنِ ، وَإِنَّ الْجَفَاءَ بِالْمَشْرِقِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے یہ کہا: اے اللہ ! ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت رکھ دے ہمارے لئے ہمارے مکہ اور ہمارے مدینہ میں برکت رکھ دے اور ہمارے لئے ہمارے شام اور ہمارے یمن میں برکت رکھ دے حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی : اے اللہ ! کے نبی ! ہمارے عراق کے لئے بھی ( دعا کر دیں ) ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہاں شیطان کا سینگ ہو گا ور فتنے پھیلیں گے جفا مشرق میں پائی جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔