حدیث نمبر: 5802
عَنْ شُرَحْبِيلَ - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - قَالَ : أَخَذْتُ نَهْسًا - يَعْنِي طَائِرًا بِالْأَسْوَافِ - فَأَخَذَهُ مِنِّي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَأَرْسَلَهُ ، وَقَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا . ¤
محمد محی الدین
شرحبیل بن سعد بیان کرتے ہیں : میں نے اسواف کے مقام پر ایک پرندہ پکڑ لیا تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اسے مجھ سے لر کے چھوڑ دیا اور فرمایا : کیا تم یہ نہیں جانتے ہو کہ اللہ کے رسول نے اس کے دونوں کناروں کے درمیان کی جگہ کو حرم قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5803
وَفِي رِوَايَةٍ : أَتَانَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَنَحْنُ فِي حَائِطٍ لَنَا ، وَمَعَنَا فِخَاخٌ نَنْصِبُ بِهَا فَصَاحَ [ بِنَا ] وَطَرَدَنَا ، وَقَالَ : أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَرَّمَ صَيْدَهَا ؟ ! . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَشُرَحْبِيلُ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ النَّاسُ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے ہم اپنے باغ میں موجود تھے ہمارے پاس پرندے تھے ، جن پر ہم نشانہ بازی کرنے لگے تھے تو انہوں نے چیخ کر ہمیں ایک طرف کیا اور فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں کے شکار کو حرام قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے شرحبیل نامی راوی کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے شرحبیل نامی راوی کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 5804
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ وَجَدَ غِلْمَانًا قَدْ أَلْجَئُوا ثَعْلَبًا إِلَى زَاوِيَةٍ ، فَطَرَدَهُمْ عَنْهُ . ¤ قَالَ مَالِكٌ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ : فِي حَرَمِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُفْعَلُ هَذَا ؟ ! رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے کچھ لڑکوں کو پایا جنہوں نے ایک لومڑی کو ایک گوشے میں رکنے پر مجبور کر دیا تھا تو انہوں نے ان لوگوں کو اس سے پرے کر دیا ۔ امام مالک بیان کرتے ہیں : میرے علم کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا: تھا : اللہ کے رسول کے حرم میں ایسا ہو رہا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5805
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّادٍ الزُّرَقِيِّ أَنَّهُ كَانَ يَصِيدُ الْعَصَافِيرَ فِي بِئْرِ إِهَابٍ ، وَكَانَتْ لَهُمْ ، قَالَ : فَرَآنِي عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ ، وَقَدْ أَخَذْتُ الْعُصْفُورَ فَيَنْتَزِعُهُ مِنِّي ، وَيَقُولُ : أَيْ بُنَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّادٍ الزُّرَقِيُّ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن عباد زرقی کے بارے میں یہ بات منقول ہے : بئر اہاب میں وہ چڑیوں کا شکار کر رہے تھے وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا میں نے ایک چڑیا پکڑی ہوئی تھی ۔ انہوں نے وہ مجھ سے چھڑوائی اور مجھ سے بولے : اللہ کے رسول نے اس ( شہر ) کے دونوں کناروں کی جگہ کو حرم قرار دیا ہے ، جس طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عباد زرقی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عباد زرقی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5806
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ عَنْ جَدِّهِ أَبِي حَسَنٍ قَالَ : دَخَلْتُ الْأَسْوَافَ فَأَثَرْتُ - قَالَ الْقَوَارِيرِيُّ مَرَّةً : فَأَخَذْتُ - دُبْسِيَّيْنِ ، قَالَ : وَأُمُّهُمَا تُرَشْرِشُ عَلَيْهِمَا ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ آخُذَهُمَا قَالَ : فَدَخَلَ عَلَيَّ أَبُو حَسَنٍ فَأَخَذَ مِتْيَخَةً فَضَرَبَنِي بِهَا ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَّا - يُقَالُ لَهَا : مَرْيَمُ : لَقَدْ تَعِسْتُ مِنْ عَضُدِهِ مِنْ تَكْسِيرِ الْمِتْيَخَةِ ، قَالَ : وَقَالَ لِي : أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ ؟ ! . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ الْمُسْنَدِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن عمارہ نے اپنے دادا ابوحسن کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں اسواف میں داخل ہوا میں نے ” دبسی “ نام کے دو پرندے پکڑے ، راوی کہتے ہیں : ان کی ماں ان دونوں پر منڈلا رہی تھی میں اس کو پکڑنے لگا ، تو اسی دوران ابوحسن میرے پاس آئے ۔ انہوں نے چھڑی لے کر اس کے ذریعے مجھے مارا ، تو ہمارے قبیلے کی ایک خاتون جس کا نام مریم تھا اس نے کہا: کیا آپ اس کو چھڑیاں مار کے اس کا بازو توڑ دیں گے ؟ پھر ابوحسن نے مجھ سے کہا: کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کے درمیان کی جگہ کو حرم قرار دیا ہے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے مسند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے مسند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5807
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ : مَا بَيْنَ كُدَاءَ وَأُحُدٍ حَرَامٌ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا كُنْتُ لِأَقْطَعَ بِهِ شَجَرَةً ، وَلَا أَقْتُلَ بِهِ طَائِرًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : مَا بَيْنَ عَيْرٍ وَأُحُدٍ حَرَامٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کداء اور احد کے درمیان کی جگہ حرم ہے ، جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم قرار دیا ہے میں یہاں کے درخت کو نہیں کاٹوں گا میں یہاں کے کسی پرندے کو نہیں ماروں گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” عیر ( پہاڑ ) اور آحد ( پہاڑ ) کے درمیان کی جگہ حرم ہے “ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” عیر ( پہاڑ ) اور آحد ( پہاڑ ) کے درمیان کی جگہ حرم ہے “ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5808
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : اصْطَدْتُ طَيْرًا بِالْقُنْبُلَةِ - مَوْضِعٍ بِالْمَدِينَةِ فَلَحِقَنِي أَبِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ : أَيْ بُنَيِّ مِنْ أَيْنَ أَخَذْتَهُ ؟ قُلْتُ : مِنَ الْقُنْبُلَةِ - مَوْضِعٍ بِالْمَدِينَةِ - ، فَعَرَكَ أُذُنِي ثُمَّ أَخَذَهُ فَأَرْسَلَهُ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَرَّمَ صَيْدَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں : قنبلہ ، جو مدینہ منورہ میں ایک جگہ ہے ، میں نے وہاں ایک پرندے کا شکار کیا ، تو میرے والد سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور بولے : اے میرے بیٹے تم نے اسے کہاں سے پکڑا ہے ؟ میں نے جواب دیا قنبلہ سے جو مدینہ منورہ کی ایک جگہ ہے ، تو انہوں نے میرے کان کو پکڑ کر اسے مروڑا اور پھر اسے چھوڑ دیا اور پھر بولے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دونوں کناروں کے درمیان شکار کو حرام قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 5809
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَنْ يُصَادَ وَحْشُهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان شکار کرنے کو حرام قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خارجہ بن عبداللہ بن عبدالملک ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خارجہ بن عبداللہ بن عبدالملک ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5810
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّهُ وَجَدَ غِلْمَانًا قَدْ أَلْجَئُوا ثَعْلَبًا إِلَى زَاوِيَةٍ فَطَرَدَهُمْ ، وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ : فِي حَرَمِ اللَّهِ يُفْعَلُ هَذَا ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ حِمَاسٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے کچھ لڑکوں کو پایا جنہوں نے ایک لومڑی کو ایک گوشے میں رہنے پر مجبور کر دیا تھا تو انہوں نے ان لوگوں کو پرے کیا راوی کہتے ہیں : انہوں نے یہ بھی فرمایا : اللہ کے حرم میں ایسا کیا جا رہا ہے ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن حماس ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن حماس ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5811
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَذِنَ بِقَطْعِ الْمَسَدِ وَالْقَائِمَتَيْنِ ، وَالْمُتَّخَذَةَ عَصًا لِلدَّابَّةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے درخت کے ریشے اور پائے کاٹنے کی اجازت دی ہے ، جسے جانوروں کے لئے عصاء کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ مزنی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ مزنی ہے اور وہ متروک ہے ۔