حدیث نمبر: 5798
عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّمُرَ بِالْمَدِينَةِ بَرِيدًا فِي بَرِيدٍ ، وَأَرْسَلَنِي فَأَعْلَمْتُ عَلَى الْحَرَمِ عَلَى شَرَفِ ذَاتِ الْحَيْسِ ، وَعَلَى شَرِيبٍ ، وَعَلَى أَشْرَافِ مَحِيصٍ ، وَعَلَى نُبَيْتٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو ہر طرف سے ایک برید جتنے حصے کو ، میں ، ببول کے درخت ( کو کاٹنے کے حوالے سے ) حرم قرار دیا ہے ، آپ نے مجھے بھیجا ، تاکہ میں ” ذات الحیس “ شریب “ ” اشراف محیص “ اور ” نبیط “ کے ٹیلوں پر حرم ہونے کے نشانات قائم کر دوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 5799
وَلَهُ فِي الْكَبِيرِ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُعَلِّمُ عَلَى حُدُودِ الْحَرَمِ فَقَطْ . ¤ وَفِي طَرِيقِهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے معجم کبیر میں یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تاکہ میں حرم کی حدود کے نشانات متعین کر دوں ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران بن ابوثابت ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5800
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ بَرِيدًا مِنْ نَوَاحِيهَا كُلِّهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ مُبَشِّرٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو ہر طرف سے ایک برید جتنا حرم قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مبشر ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مبشر ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 5801
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ : لَنَا غُنَيْمٌ وَغِلْمَانٌ ، وَنَحْنُ وَهُمْ بِثَرِيرٍ ، وَهُمْ يَخْبِطُونَ عَلَى غَنَمِهِمْ هَذِهِ الثَّمَرَةَ - يَعْنِي الْحُبْلَةَ - قَالَ خَارِجَةُ : وَهِيَ ثَمَرُ السَّمُرِ ، فَقَالَ جَابِرٌ : لَا يُخْبَطُ ، وَلَا يُعْضَدُ حِمَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَكِنْ هِشُّوا هَشًّا . ¤ ثُمَّ قَالَ جَابِرٌ : إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيَمْنَعُ أَنْ يُقْطَعَ الْمَسَدُ ، قَالَ خَارِجَةُ : وَالْمَسَدُّ : مِرْوَدُ الْبَكَرَةِ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ تَتَضَمَّنُ حُرْمَتَهَا ، وَغَيْرَ ذَلِكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حارث بن رافع بن مکیث جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمارے پاس کچھ بکریاں ہیں اور کچھ غلام ہیں ہم اور وہ لوگ ثریر میں رہتے ہیں وہ لوگ اپنی بکریوں کو ، عصا درخت پر مار کر یہ پھل ، یعنی حبلہ کھلاتے تھے ، ( راوی کہتے ہیں : ) اس سے مراد ببول کے درخت کا پھل ہے ، تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کے رسول کی چراگاہ کے پتے اتارے اور کاٹے نہیں جائیں گے ، البتہ تم ( درخت کو ) ہلا کر ( پتے اتار لو ! ) ۔ پھر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو کھجور ( کے درخت ) کا ریشہ کاٹنے سے بھی منع کرتے تھے ۔ خارجہ نامی راوی کہتے ہیں : ” مسد “ سے مراد ، چرخی کا کیل ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) آگے چل کے ایسی احادیث آئیں گی جو اس حرمت کا مفہوم ضمن میں لئے ہوئے ہوں گی اگر اللہ نے چاہا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) آگے چل کے ایسی احادیث آئیں گی جو اس حرمت کا مفہوم ضمن میں لئے ہوئے ہوں گی اگر اللہ نے چاہا ۔