کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس ( یعنی مدینہ منورہ ) کی حرمت کا بیان
حدیث نمبر: 5792
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ حَرَمٌ ، وَحَرَمِي الْمَدِينَةُ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُهَا بِحُرَمِكَ أَنْ لَا تَأْوِي بِهَا مُحْدِثًا ، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا ، وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهَا ، وَلَا تُؤْخَذُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نبی کا ایک حرم ہوتا ہے اور میرا حرم مدینہ ہے : اے اللہ ! میں تیری حرمت کے حوالے سے اسے حرم قرار دیتا ہوں تو اس میں کسی بدعتی کو پناہ نہ دینا ، یہاں کے گھاس کو کاٹا نہیں جائے گا ، یہاں کے کانٹے کو توڑا نہیں جائے گا ، یہاں کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا نہیں جائے گا البتہ اعلان کرنے کے لئے اس کا حکم مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5792
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند ( 2524) اخرجه احمد فى المسند (2923)»
حدیث نمبر: 5793
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَلِيٍّ فَدَعَا بِسَيْفِهِ فَأَخْرَجَ مِنْ بَطْنِ السَّيْفِ أَدِيمًا عَرَبِيًا فَقَالَ : مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا غَيْرَ كِتَابِ اللَّهِ الَّذِي أُنْزِلَ إِلَّا ، وَقَدْ بَلَّغْتُهُ غَيْرَ هَذَا ، فَإِذَا فِيهِ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ : لِكُلِّ نَبِيٍّ حَرَمٌ ، وَحَرَمِي الْمَدِينَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار منگوائی اور تلوار کے اندر سے ایک چمڑا نکالا جس پر عربی تحریر تھی ۔ انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کتاب کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں چھوڑی جو بھی نازل ہوا آپ نے اس کی تبلیغ کر دی ہے البتہ یہ چیز ہے ، تو اس میں یہ تحریر تھا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ہر نبی کا ایک حرم ہوتا ہے اور میرا حرم مدینہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اس کے بعض رجال کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5793
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (393/3)»
حدیث نمبر: 5794
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَثَلُ الْمَدِينَةِ مَثَلُ الْكِيرِ ، وَحَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - مَكَّةَ ، وَأَنَا أُحَرِّمُ الْمَدِينَةَ ، وَهِيَ كَمَكَّةَ حَرَامٌ مَا بَيْنَ حَرَّتَيْهَا ، وَحِمَاهَا كُلِّهَا لَا يُقْطَعُ مِنْهَا شَجَرَةٌ إِلَّا أَنْ يُعْلَفَ [ رَجُلٌ ] مِنْهَا ، وَلَا يَقْرَبُهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ ، وَالْمَلَائِكَةُ يَحْرُسُونَهَا عَلَى أَنْقَابِهَا وَأَبْوَابِهَا " . ¤ قَالَ : وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يَحْمِلُ فِيهَا سِلَاحًا لِقِتَالٍ " . ¤ قُلْتُ : لِجَابِرٍ حَدِيثٌ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ غَيْرُ هَذَا . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” مدینہ کی مثال بھٹی کی مانند ہے ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں ، اور یہ مکہ کی طرح ، دونوں اطراف کی پتھریلی زمین کے درمیان کا حصہ اور اس کی چراگاہ حرم ہے ، اس کے درخت کو کاٹا نہیں جائے گا البتہ چارہ حاصل کرنے کے لئے ایسا کیا جا سکتا ہے اگر اللہ نے چاہا تو طاعون اور دجال اس کے قریب نہیں آئیں گے فرشتے اس کے چھوٹے راستوں اور دروازوں پر اس کی حفاظت کرتے ہیں “ ۔ انہوں نے یہ بات بھی بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” کسی شخص کے لئے یہ بات حلال نہیں ہے کہ وہ قتال کے لئے اس میں ہتھیار اٹھائے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : مدینہ منورہ کے حرم ہونے کے بارے میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک اور حدیث بھی منقول ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ابتدائی حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5794
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
حدیث نمبر: 5795
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْمَدِينَةُ حَرَامٌ " . قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَزَادَ فِيهِ حُمَيْدٌ : " وَلَا يُحْمَلُ فِيهَا سِلَاحٌ لِقِتَالٍ " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أَنَسَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا حَمْلِ السِّلَاحِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُؤَمِّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَهُوَ مُوَثَّقٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مدینہ ، حرم ہے “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے حمید نامی راوی نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اس میں جنگ کے لئے ہتھیار نہیں اٹھایا جائے گا “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے تا ہم اس میں ہتھیار اٹھانے کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مؤمل بن اسماعیل ہے اس کی توثیق کی گئی ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5795
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد المسند (242/3)»
حدیث نمبر: 5796
وَعَنْ أَبِي الْيَسَرِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان کی جگہ کو حرم قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5796
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (171/19)»
حدیث نمبر: 5797
وَعَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : سَأَلْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ قُلْتُ : أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي الْمَدِينَةِ شَيْئًا ؟ قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنَّهَا حَرَامٌ آمِنٌ ، إِنَّهَا حَرَامٌ آمِنٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
یسیر بن عمرو بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ کے بارے میں کوئی بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” یہ حرم ہے اور امن والی جگہ ہے یہ حرم ہے اور امن والی جگہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5797
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير ( 5610 و 5611 ,5612)»