کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس ( یعنی مدینہ منورہ ) میں رہائش اختیار کرنے کی ترغیب
حدیث نمبر: 5786
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ زَمَانٌ يَنْطَلِقُ النَّاسُ مِنْهَا إِلَى الْآفَاقِ يَلْتَمِسُونَ الرَّخَاءَ فَيَجِدُونَ رَخَاءً ، ثُمَّ يَأْتُونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ إِلَى الرَّخَاءِ ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اہل مدینہ پر ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ یہاں سے مختلف علاقوں کی طرف چلے جائیں گے وہ خوشحالی تلاش کریں گے انہیں خوشحالی مل جائے گی اور وہ لوگ آئیں گے اور اپنے اہل خانہ کو ساتھ لے کر خوشحالی کی طرف چلے جائیں گے حالانکہ مدینہ منورہ ان کے لئے زیادہ بہتر تھا اگر انہیں علم ہوتا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5786
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 5787
وَعَنْ أَفْلَحَ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ مَرَّ بِزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، وَأَبِي أَيُّوبَ ، وَهُمَا قَاعِدَانِ عِنْدَ مَسْجِدِ الْجَنَائِزِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : تَذْكُرُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي هَذَا الْمَسْجِدِ الَّذِي نَحْنُ فِيهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، عَنِ الْمَدِينَةِ سَمِعْتُهُ [ وَهُوَ ] يَزْعُمُ : " أَنَّهُ سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ تُفْتَحُ فِيهِ فُتُحَاتُ الْأَرْضِ فَيَخْرُجُ إِلَيْهَا رِجَالٌ يُصِيبُونَ رَخَاءً وَعَيْشًا وَطَعَامًا ، فَيَمُرُّونَ عَلَى إِخْوَانٍ لَهُمْ حُجَّاجًا أَوْ عُمَّارًا فَيَقُولُونَ : مَا يُقِيمُكُمْ فِي لَأْوَاءِ الْعَيْشِ وَشِدَّةِ الْجُوعِ ؟ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَذَاهِبٌ وَقَاعِدٌ - حَتَّى قَالَهَا مِرَارًا - وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ ، لَا يَثْبُتُ بِهَا أَحَدٌ فَيَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا حَتَّى يَمُوتَ ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے غلام افلح بیان کرتے ہیں : ان کا گزر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا یہ دونوں صاحبان مسجد جنائز میں تشریف فرما تھے ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیا آپ کو وہ حدیث یاد ہے ، جو اللہ کے رسول نے اس مسجد میں ہمیں بیان کی تھی جس میں اب اس وقت ہم موجود ہیں تو دوسرے صاحب نے جواب دیا : جی ہاں ! وہ مدینہ منورہ کے بارے میں تھی میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اس زمانے میں ان کے لئے زمین کے مختلف حصے فتح کر دیے جائیں گے تو لوگ نکل کر ان علاقوں کی طرف جائیں گے وہ وہاں خوشحالی آرام اور کھانا پینا پائیں گے پھر وہ حج یا عمرے کے لئے جاتے ہوئے اپنے بھائیوں کے پاس سے گزریں گے اور یہ کہیں گے : تم یہ پریشان زندگی اور شدید بھوک میں کیوں ٹھہرے ہوئے ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو کچھ لوگ چلے جائیں گے اور کچھ وہیں رہ جائیں گے یہ بات آپ نے چند مرتبہ ارشاد فرمائی ( اور پھر فرمایا ) مدینہ ان کے لئے زیادہ بہتر ہے ، جو شخص یہاں کی تنگی اور شدت پر صبر سے کام لیتے ہوئے یہیں ٹھہرا رہے یہاں تک کہ اس کا انتقال ہو جائے تو قیامت کے دن میں اس کا گواہ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کی شفاعت کرنے والا ہوؤں گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5787
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3985)»
حدیث نمبر: 5788
وَعَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ : أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى قَبْرِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَجَعَلُوا يَجُرُّونَ النَّمِرَةَ عَلَى وَجْهِهِ فَتُكْشَفُ قَدَمَاهُ ، وَيَجُرُّونَهَا عَلَى قَدَمَيْهِ فَيَنْكَشِفُ وَجْهُهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْعَلُوهَا عَلَى وَجْهِهِ ، وَاجْعَلُوا عَلَى قَدَمَيْهِ مِنْ هَذَا الشَّجَرِ " ، قَالَ : فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ ، فَإِذَا أَصْحَابُهُ يَبْكُونَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَخْرُجُونَ إِلَى الْأَرْيَافِ فَيُصِيبُونَ مِنْهَا مَطْعَمًا وَمَلْبَسًا وَمَرْكَبًا - أَوْ قَالَ : مَرَاكِبَ - فَيَكْتُبُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ : هَلُمَّ إِلَيْنَا ; فَإِنَّكُمْ بِأَرْضِ حِجَازٍ جَدُوبَةٍ ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی قبر ( یعنی میت ) کے پاس موجود تھا لوگ ان کے چہرے پر چادر ڈالتے تھے تو ان کے پاؤں کھل جاتے تھے لوگ اس چادر کو کھینچ کر پاؤں پر ڈالتے تھے تو چہرہ ظاہر ہو جاتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ چادر ان کے چہرے پر ڈال دو اور ان کے پاؤں پر اس درخت ( کے پتے ) رکھ دو راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا تو آپ کے اصحاب رو رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ خوشحال علاقوں کی طرف نکل جائیں گے اور وہاں کھانا لباس اور سواریاں پائیں گے یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) پھر وہ اپنے اہل خانہ کو خط لکھیں گے کہ ہماری طرف آ جاؤ کیونکہ حجاز کی سرزمین تو قحط سالی والی ہے حالانکہ مدینہ ان کے لئے زیادہ بہتر ہو گا اگر ان کو علم ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5788
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير ( 2939265/19)»