کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بے شک ایمان ، مدینہ منورہ کی طرف سمٹ آئے گا
حدیث نمبر: 5783
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَقَالَ : هَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ ، وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ حَفْصٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهُوَ الصَّوَابُ ، قُلْتُ : يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحَيْنِ ، وَقَدْ يَكُونُ رَوَى عَنِ ابْنِ عَمْرٍو وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، فَلَا مَانِعَ فَإِنَّ رِجَالَهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک ایمان مدینہ منورہ کی طرف یوں سمٹ آئے گا جس طرح سانپ اپنی بل کی طرف چلا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : یحیی بن سلیم طائفی نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے جبکہ دوسرے راویوں نے اسے عبداللہ بن عمر کے حوالے سے حبیب کے حوالے سے حفص نامی راوی کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے اور یہی درست ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یحیی بن سلیم ” صحیین “ کے رجال میں سے ایک ہے اور اس نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ دونوں سے روایات نقل کی ہیں اور اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے کیونکہ اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5783
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند ( 1182)»