حدیث نمبر: 5774
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ ، وَيَسْلُبُهَا حِلْيَتَهَا ، وَيُجَرِّدُهَا مِنْ كِسْوَتِهَا ، وَلَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ أُصَيْلِعُ أُفَيْدِعُ يَضْرِبُ عَلَيْهَا بِمِسْحَاتِهِ وَمِعْوَلِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” حبشہ سے تعلق رکھنے والا ، پتلی پنڈلیوں والا شخص ، خانہ کعبہ کو توڑ پھوڑ دے گا ، وہ اس کے زیور کو سلب کر لے گا اور اس کے غلاف کو اتار دے گا ، میں گویا کہ اس وقت بھی اس کی طرف دیکھ رہا ہوں ، وہ آگے سے گنجا ہے اور اس کا پاؤں کچھ ٹیڑھا ہے ، اور وہ اپنے پھاؤڑے اور کدال کے ذریعے اس پر ضرب لگا رہا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حدیث نمبر: 5775
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُخْبِرُ أَبَا قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُبَايَعُ لِرَجُلٍ [ مَا ] بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ ، وَلَنْ يَسْتَحِلَّ الْبَيْتَ إِلَّا أَهْلُهُ فَإِذَا اسْتَحَلُّوهُ فَلَا تَسَلْ عَنْ هَلَكَةِ الْعَرَبِ ، ثُمَّ تَأْتِي الْحَبَشَةُ فَيُخَرِّبُونَهُ خَرَابًا لَا يَعْمُرُ بَعْدَهُ أَبَدًا ، وَهُمُ الَّذِينَ يَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَهُ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن سمعان بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے یہ بیان کرتے ہوئے سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رکن اور مقام کے درمیان ایک شخص کی بیعت کی جائے گی اور بیت اللہ کو صرف اس کے رہنے والے ہی حلال کریں گے جب وہ اسے حلال کر دیں گے پھر تم عربوں کی ہلاکت کے بارے میں نہ پوچھو ، پھر حبشی لوگ آئیں گے اور وہ اسے توڑ پھوڑ دیں گے اس کے بعد یہ کبھی آباد نہیں ہو گا اور حبشی لوگ ہی اس کے خزانے کو نکال لیں گے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔