کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: خانہ کعبہ میں نماز ادا کرنا
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ ، وَكَانَ مَعَهُ حِينَ دَخَلَهَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يُصَلِّ فِي الْكَعْبَةِ ، وَلَكِنَّهُ لَمَّا دَخَلَهَا ، وَقَعَ سَاجِدًا بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ يَدْعُو . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے حدیث بیان کی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں نماز ادا نہیں کی تھی بلکہ جب آپ اندر تشریف لائے تھے تو آپ نے دو ستونوں کے درمیان سجدہ کیا تھا اور پھر بیٹھ کر دعا کرتے رہے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5744
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (1801)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ أَخْبَرَهُ : أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ الْبَيْتَ ] ، وَأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يُصَلِّ فِي [ الْبَيْتِ حِينَ دَخَلَهُ ] ، وَلَكِنَّهُ لَمَّا خَرَجَ فَنَزَلَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ عِنْدَ بَابِ الْبَيْتِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ مَعْنَاهُ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تھے تو آپ نے اندر نماز ادا نہیں کی تھی جب آپ باہر تشریف لائے تو آپ نیچے اترے اور آپ نے خانہ کعبہ کے دروازے کے پاس دو رکعت ادا کیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس مفہوم کی روایت نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5745
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير .. (289/18) اخرجه احمد فى المسند (1819)»
وَعَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ فِي الْكَعْبَةِ فَسَبَّحَ ، وَكَبَّرَ ، وَدَعَا [ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ] ، وَاسْتَغْفَرَ ، وَلَمْ يَرْكَعْ ، وَلَمْ يَسْجُدْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں کھڑے ہوئے آپ نے« سبحان الله» پڑھا «الله اكبر» پڑھا اللہ تعالیٰ سے دعا کی مغفرت طلب کی لیکن آپ نے نہ رکوع کیا اور نہ ہی سجدہ کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5746
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (6733) اخرجه احمد فى المسند (1795)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : مَا أُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْكَعْبَةِ ، مَنْ صَلَّى فِيهَا فَقَدْ تَرَكَ شَيْئًا خَلْفَهُ ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي أَخِي أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ دَخَلَهَا خَرَّ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ سَاجِدًا ثُمَّ قَعَدَ فَدَعَا ، وَلَمْ يُصَلِّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں خانہ کعبہ کے اندر نماز ادا کروں کیونکہ جو شخص خانہ کعبہ کے اندر نماز ادا کرے گا وہ اس کے کچھ حصے کو اپنی پشت کی طرف کر لے گا میرے بھائی نے مجھے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس میں داخل ہوئے تھے تو آپ دو ستونوں کے درمیان سجدے میں چلے گئے تھے پھر آپ بیٹھ گئے اور دعا کرتے رہے آپ نے ( خانہ کعبہ کے اندر ) نماز ادا نہیں کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5747
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1105) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (270/18) اخرجه احمد فى المسند (1801)»