مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ فِي الْكَعْبَةِ . باب: خانہ کعبہ میں نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 5747
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : مَا أُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْكَعْبَةِ ، مَنْ صَلَّى فِيهَا فَقَدْ تَرَكَ شَيْئًا خَلْفَهُ ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي أَخِي أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ دَخَلَهَا خَرَّ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ سَاجِدًا ثُمَّ قَعَدَ فَدَعَا ، وَلَمْ يُصَلِّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں خانہ کعبہ کے اندر نماز ادا کروں کیونکہ جو شخص خانہ کعبہ کے اندر نماز ادا کرے گا وہ اس کے کچھ حصے کو اپنی پشت کی طرف کر لے گا میرے بھائی نے مجھے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس میں داخل ہوئے تھے تو آپ دو ستونوں کے درمیان سجدے میں چلے گئے تھے پھر آپ بیٹھ گئے اور دعا کرتے رہے آپ نے ( خانہ کعبہ کے اندر ) نماز ادا نہیں کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔