حدیث نمبر: 5740
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ دَخَلَ الْبَيْتَ دَخَلَ فِي حَسَنَةٍ ، وَخَرَجَ مِنْ سَيِّئَةٍ مَغْفُورًا لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ سَعْدٍ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص بیت اللہ کے اندر داخل ہوتا ہے وہ بھلائی میں داخل ہوتا ہے اور برائی سے نکل جاتا ہے اور اس کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مؤمل ہے ابن سعد اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مؤمل ہے ابن سعد اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 5741
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَدْخُلِ الْبَيْتَ عَامَ الْفَتْحِ ، وَدَخَلَ فِي الْحَجِّ فَلَمَّا نَزَلَ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتِ - أَوْ رَكْعَتَيْنِ - بَيْنَ الْحَجَرِ ، وَالْبَابِ مُسْتَقْبِلَ الْبَيْتِ ، وَقَالَ : " هَذِهِ الْقِبْلَةُ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال خانہ کعبہ میں داخل نہیں ہوئے تھے آپ حج کے موقع پر اس کے اندر داخل ہوئے تھے جب آپ اترے تو آپ نے چار رکعت ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) دو رکعت حجر اسود اور خانہ کعبہ کے دروازے کے درمیان ادا کی تھیں آپ کا رخ بیت اللہ کی طرف تھا آپ نے ارشاد فرمایا : یہ قبلہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث منقول ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 5742
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ الْبَيْتَ ، وَمَعَهُ الْفَضْلُ ، وَقَامَ بِلَالٌ عَلَى الْبَابِ . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے آپ کے ساتھ سیدنا فضل رضی اللہ عنہ بھی تھے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے ہو گئے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث منقول ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 5743
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُلُّ أَهْلِكَ قَدْ دَخَلَ الْبَيْتَ غَيْرِي ؟ فَقَالَ : " أَرْسِلِي إِلَى شَيْبَةَ فَيَفْتَحَ لَكِ الْبَابَ " ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ فَقَالَ شَيْبَةُ : مَا اسْتَطَعْنَا فَتْحَهُ فِي جَاهِلِيَّةٍ ، وَلَا إِسْلَامٍ بِلَيْلٍ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلِّ فِي الْحُجْرَةِ ، فَإِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا عَلَى بِنَاءِ الْبَيْتِ حِينَ بَنَوْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ أَبْسَطَ مِنْهُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے تمام اہل خانہ بیت اللہ میں داخل ہو گئے ہیں صرف میں داخل نہیں ہوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم شیبہ کو پیغام بھیجو وہ تمہارے لئے دروازہ کھول دے گا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں پیغام بھیجا تو سیدنا شیبہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ہم زمانہ جاہلیت میں اور نہ ہی اسلام میں رات کے وقت اسے کھولنے کی استطاعت نہیں رکھتے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم حطیم میں نماز ادا کر لو کیونکہ تمہاری قوم نے جب اس کو تعیر کیا تھا تو خانہ کعبہ کی تعمیر میں کمی کر دی تھی ( اور حطیم ، خانہ کعبہ کا حصہ ہے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں زیادہ وضاحت کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں زیادہ وضاحت کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔