کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مکہ میں اذان ، حجابہ اور دیگر امور کے حوالے سے نگران ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 5706
عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ قَالَ : جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأَذَانَ لَنَا وَلِمَوَالِينَا ، وَالسِّقَايَةَ لِبَنِي هَاشِمٍ ، وَالْحِجَابَةَ لِبَنِي عَبْدِ الدَّارِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ هُذَيْلُ بْنُ بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کا منصب ہمیں اور ہمارے موالی کو دیا تھا سقایہ کا منصب بنو ہاشم کو دیا تھا اور حجابہ کا منصب بنوعبددار کو دیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہذیل بن بلال اشعری ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5706
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (401/6)»
حدیث نمبر: 5707
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذُوهَا يَا بَنِي طَلْحَةَ خَالِدَةً تَالِدَةً ; لَا يَنْزِعُهَا مِنْكُمْ إِلَّا ظَالِمٌ " ، يَعْنِي حِجَابَةَ الْكَعْبَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے بنوطلحہ ! تم اسے حاصل کر لو یہ ہمیشہ اور یکے بعد دیگرے ( تم لوگوں کے پاس رہے گی ) تم سے کوئی ظالم ہی اسے الگ کرے گا “ ۔ راوی کہتے ہیں : اس سے مراد کعبہ کی حجابہ ( یعنی کلید برداری ) کا منصب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مومل ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ کہا: ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5707
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5708
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : خَاصَمَ عَلِيٌّ الْعَبَّاسَ فِي السِّقَايَةِ فَشَهِدَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَعَامِرُ بْنُ مَخْرَمَةَ بْنِ نَوْفَلٍ وَأَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ عَوْفٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَفَعَهَا إِلَى الْعَبَّاسِ يَوْمَ الْفَتْحِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
ابوطفیل بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا سقایہ کے بارے میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ جھگڑا ہو گیا تو سیدنا طلحہ بن عبیداللہ ، سیدنا عامر بن مخرمہ بن نوفل اور سیدنا ازہر بن عبدعوف رضی اللہ عنہ نے اس بات کی گواہی دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے دن یہ منصب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5708
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 5709
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَرِيرٍ قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ لِلْعَبَّاسِ : قُلْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْطِيكَ الْخِزَانَةَ ، فَسَأَلَهُ الْعَبَّاسُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُعْطِيكُمْ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ ذَلِكَ ، مَا تَرْزَؤُكُمْ وَلَا تَرْزَءُونَهَا " ، فَأَعْطَاهُمُ السِّقَايَةَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ; عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَرِيرٍ لَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن زریر بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہیں کہ وہ آپ کو خزانہ عطا کر دیں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ میں آپ کو وہ چیز دوں گا جو آپ لوگوں کے حق میں اس سے زیادہ بہتر ہو گی ، نہ وہ آپ میں کوئی کمی کرے گی اور نہ آپ اس کو کم سمجھیں گے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ” سقایہ “ کا منصب دے دیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے
یہ روایت ” مرسل “ ہے عبداللہ بن زریر نامی راوی نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5709
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
حدیث نمبر: 5710
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَزِينٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قُلْتُ لِلْعَبَّاسِ : سَلْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحِجَابَةَ ، فَسَأَلَهُ فَقَالَ : " أُعْطِيكُمُ السِّقَايَةَ تَرْزَؤُكُمْ وَلَا تَرْزَءُونَهَا " ، وَقُلْتُ لِلْعَبَّاسِ : سَلْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَعْمِلُكَ عَلَى الصَّدَقَاتِ ، فَقَالَ : " مَا كُنْتُ لِأَسْتَعْمِلَكَ عَلَى غُسَالَةِ ذُنُوبِ النَّاسِ " . ¤ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

یہ روایت امام بزار نے عبداللہ بن ابورزین کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ اللہ کے رسول سے درخواست کریں کہ ہمیں حجابہ عطا کر دیں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے آپ سے یہ درخواست کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں سقایہ کا منصب دوں گا ، ( نہ ) وہ تم میں کوئی کمی کرے گی اور نہ تم اس کو کم سمجھو گے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کریں کہ وہ آپ کو صدقات وصول کرنے کا عامل مقرر کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں لوگوں کے گناہوں کے دھون کے لئے آپ کو عامل مقرر نہیں کروں گا ۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5710
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1169)»