کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: آب زمزم کا بیان
حدیث نمبر: 5711
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " زَمْزَمُ طَعَامُ طُعْمٍ وَشِفَاءُ سُقْمٍ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ : " طَعَامُ طُعْمٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” زمزم کھانے کی جگہ ہے اور بیمار کے لئے شفاء ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا یہ حصہ منقول ہے ” کھانے کی جگہ ( کفایت کرنے والی چیز ) ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5711
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (295) اخرجه البزار فى المسند (1171 و 1172)»
حدیث نمبر: 5712
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ مَاءٍ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مَاءُ زَمْزَمَ فِيهِ طَعَامُ [ مِنَ ] الطُّعْمِ ، وَشِفَاءُ السُّقْمِ ، وَشَرُّ مَاءٍ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مَاءٌ بِوَادِي بَرْهُوتَ بَقِيَّةٌ بِحَضَرَمَوْتَ كَرِجْلِ الْجَرَادِ مِنَ الْهَوَامِّ تُصْبِحُ تَتَدَفَّقُ ، وَتُمْسِي لَا بِلَالَ فِيهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” روئے زمین پر موجود سب سے بہتر پانی آب زمزم ہے ، جس میں کھانے کی جگہ کفایت کرنے کی صلاحیت ہے اور بیمار کے لئے شفاء ہے اور روئے زمین پر سب سے برا پانی اس وادی کا پانی ہے ، جس کا نام برہوت ہے ، جو حضرموت میں ہے وہ کیڑوں میں سے ٹڈی کے پاؤں کی طرح کی جگہ ہے صبح کے وقت وہاں پانی ہوتا ہے اور شام کے وقت ذرا سی تری بھی نہیں ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5712
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (149 مجمع البحرين) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11167)»
حدیث نمبر: 5713
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : كُنَّا نُسَمِّيهَا شُبَاعَةَ - يَعْنِي زَمْزَمَ - وَكُنَّا نَجِدُهَا نِعْمَ الْعَوْنِ عَلَى الْعِيَالِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوطفیل نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ہم اسے یعنی آب زمزم کو شباعہ ( سیر کر دینے والی چیز ) کا نام دیتے تھے اور ہم اسے پاتے تھے کہ وہ عیال کے لئے بہترین مدد ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5713
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10637)»
حدیث نمبر: 5714
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْنُ السَّبِيلِ أَوَّلُ شَارِبٍ " ، يَعْنِي مِنْ زَمْزَمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مسافر شخص سب سے پہلے پینے والا ہو گا “ ۔ رادی کہتے ہیں : یعنی آب زمزم کو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5714
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (252)»
حدیث نمبر: 5715
وَعَنِ السَّائِبِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : اشْرَبُوا مِنْ سِقَايَةِ الْعَبَّاسِ ; فَإِنَّهُ مِنَ السُّنَّةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سائب کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ یہ فرماتے تھے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے سقایہ سے پیؤ کیونکہ یہ سنت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5715
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6621)»
حدیث نمبر: 5716
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَهْدَى سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ الْمَخْزُومِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ سَعْدٍ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن عمرو سے آب زمزم طلب کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مومل مخزومی ہے ، جسے ابن سعد اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ۔ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5716
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11491)»
حدیث نمبر: 5717
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ إِلَى زَمْزَمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ الْمَخْزُومِيُّ ; وَثَّقَهُ ابْنُ سَعْدٍ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ آب زمزم کے پاس تشریف لائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مومل مخزومی ہے ، جسے ابن سعد اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5717
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5718
وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ : سَأَلْتُ عَطَاءً : أَحْمِلُ مَاءَ زَمْزَمَ ؟ فَقَالَ : قَدْ حَمَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَمَلَهُ الْحَسَنُ وَحَمَلَهُ الْحُسَيْنُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
حبیب بن ابوثابت بیان کرتے ہیں : میں نے عطاء سے دریافت کیا : کیا میں آب زمزم اٹھا کے ساتھ لے جاؤں ؟ انہوں نے جواب دیا اللہ کے رسول بھی اسے اٹھا کے ساتھ لے کر گئے تھے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ بھی اسے اٹھا کے ساتھ لے کر گئے تھے سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ بھی اٹھا کے اسے ساتھ لے کر گئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5718
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2566)»
حدیث نمبر: 5719
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ إِلَى زَمْزَمَ فَقَالَ : " انْزِعُوا وَاسْقُوا ; فَلَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ تُغْلَبُوا عَلَيْهَا لَنَزَعْتُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مِهْزَمٍ الشَّعَّابُ ، بَصْرِيٌّ وَرَوَى عَنْهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ وَغَيْرُهُمَا ، وَيُقَالُ لَهُ : الزَّمَامُ ، ذَكَرَهُ ابْنُ مَاكُولَا عَنْ خَطِّ الصُّورِيِّ فِي مِهْزَمٍ - بِكَسْرِ الْمِيمِ وَفَتْحِ الزَّايِ وَتَخْفِيفِهَا - وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ آب زمزم کے پاس تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ پانی نکالو اور پلاؤ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ اس کے حوالے سے تم مغلوب ہو جاؤ گے ( یعنی ہجوم زیادہ ہو جائے گا ) تو میں بھی نکالتا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مہزم شعاب بصری ہے ، جس کے حوالے سے ابوداؤد طیالسی اور عبدالصمد بن عبدالوارث اور دیگر حضرات نے روایات نقل کی ہیں اسے زمام بھی کہا: گیا ہے ابن ماکولا نے اس کا ذکر لفظ مہزم کی شکل میں کیا ہے ، جس میں ” م “ پزیر ہے ” ز “ پر زبر ہے اور اس پر تخفیف ہے یحیی بن معین اور امام ابوحاتم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5719
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1170) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11165)»
حدیث نمبر: 5720
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى زَمْزَمَ فَقَالَ : " انْزِعُوا وَلَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا عَلَيْهَا لَنَزَعْتُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يَتَكَلَّمُونَ فِيهِ ، قَالَ : وَرَأَيْتُ فِيمَا حَدَّثَ أَحَادِيثَ مَنَاكِيرَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زمزم کے پاس تشریف لائے آپ نے فرمایا : تم پانی نکالو اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ تم اس کے حوالے سے مغلوب ہو جاؤ گے ( یعنی ہجوم زیادہ ہو جائے گا ) تو میں بھی پانی نکالتا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن عبدالملک بن واقد ہے ابوحاتم کہتے ہیں : محدثین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے وہ فرماتے ہیں : میں نے دیکھا ہے کہ اس نے جو احادیث روایت کی ہیں ان میں منکر روایات ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5720
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1168)»
حدیث نمبر: 5721
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ أَبُو طَالِبٍ يُعَالِجُ زَمْزَمَ ، فَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْقُلُ الْحِجَارَةَ وَهُوَ غُلَامٌ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جناب ابوطالب زمزم ( کے کنویں کو ) ٹھیک کر رہے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پتھر منتقل کر رہے تھے آپ ان دنوں نوجوان تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5721
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1167)»