کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مکہ اور اس کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 5691
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَكَّةَ قَالَ : " أَمَا وَاللَّهِ لَأَخْرُجُ مِنْكِ ، وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكِ أَحَبُّ بِلَادِ اللَّهِ إِلَيَّ وَأَكْرَمُهُ عَلَى اللَّهِ ، وَلَوْلَا أَنَّ أَهْلَكِ أَخْرَجُونِي مَا خَرَجْتُ . ¤ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ إِنْ كُنْتُمْ وُلَاةَ هَذَا الْأَمْرِ مِنْ بَعْدِي فَلَا تَمْنَعُوا طَائِفًا بِبَيْتِ اللَّهِ سَاعَةً مَا شَاءَ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ وَلَوْلَا أَنْ تَطْغَى قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهَا مَا لَهَا عِنْدَ اللَّهِ ، اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَذَقْتَ أَوَّلَهُمْ وَبَالًا فَأَذِقْ آخِرَهُمْ نَوَالًا " . ¤ رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکلے تو آپ نے ( مکہ کو مخاطب کر کے ) ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم میں تجھ سے نکل تو رہا ہوں لیکن میں یہ بات جانتا ہوں کہ تم میرے نزدیک اللہ کے تمام شہروں میں سب سے زیادہ محبوب ہو اور اللہ تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ معزز ہو اگر تمہارے رہنے والوں نے مجھے نکلنے پر مجبور نہ کیا ہوتا تو میں نہ نکلتا ( بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) اے بنو عبد مناف اگر تم لوگ میرے بعد اس معاملے کے نگران بنے تو تم بیت اللہ کا طواف کرنے والے کسی بھی شخص کو رات یا دن کے کسی بھی حصے میں منع نہ کرنا اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ قریش سرکشی کا شکار ہو جائیں گے تو میں انہیں یہ بتاتا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کا کیا مرتبہ و مقام ہے ( پھر آپ نے دعا کی : ) ” اے اللہ ! تو نے ان کے پہلے لوگوں کو وبال کا ذائقہ چکھایا تھا تو ان کے بعد والوں کو مہربانی کا ذائقہ چکھا دے ۔ امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ نقل کیا ہے
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5691
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (2662)»
حدیث نمبر: 5692
وَعَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَفَ عَلَى الْحَزْوَرَةِ فَقَالَ : " لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّكِ أَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَيْهِ ، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُونِي مِنْكِ مَا خَرَجْتُ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی پر وقوف کیا ، آپ نے فرمایا : ” میں یہ بات جانتا ہوں کہ تو اللہ تعالیٰ کی زمین میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب جگہ ہے اگر میری قوم نے مجھے تجھ سے نہ نکالا ہوتا تو میں نہ نکلتا “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5692
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1156) اخرجه احمد فى المسند (305/4)»
حدیث نمبر: 5693
- وَفِي رِوَايِةٍ عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَفَ بِالْحَجُونِ فَقَالَ : " وَاللَّهِ إِنَّكِ لَأَخْيَرُ أَرْضِ اللَّهِ وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى ، لَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ " ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، رَوَاهُ كُلُّهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُ الْأَوَّلِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجون کے مقام پر ٹھہرے اور آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم تو اللہ کی زمین میں سب سے بہتر ہے اور اللہ کی زمین میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے اگر مجھے تجھ سے نکالا نہ گیا ہوتا تو میں نہ نکلتا “ ۔ اس کے بعد راوی نے طویل حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام بزار نے نقل کی ہیں اور پہلی روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5693
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1157)»