حدیث نمبر: 5621
عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ عَنْ عَمِّهِ قَالَ : كُنْتُ آخِذًا بِزِمَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ أَذُودُ عَنْهُ النَّاسَ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، هَلْ تَدْرُونَ فِي أَيِّ شَهْرٍ أَنْتُمْ ؟ وَفِي أَيِّ يَوْمٍ أَنْتُمْ ؟ وَفِي أَيِّ بَلَدٍ أَنْتُمْ ؟ " . قَالُوا : فِي يَوْمٍ حَرَامٍ ، وَبَلَدٍ حَرَامٍ ، وَشَهْرٍ حَرَامٍ . قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ ; كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَهُ " . ثُمَّ قَالَ : " اسْمَعُوا مِنِّي تَعِيشُوا ، أَلَا لَا تَظْلِمُوا ، أَلَا لَا تَظْلِمُوا ، أَلَا لَا تَظْلِمُوا ; إِنَّهُ لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ ، أَلَا وَإِنَّ كُلَّ دَمٍ وَمَأْثَرَةٍ وَمَالٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَذِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَإِنَّ أَوَّلَ دَمٍ يُوضَعُ دَمُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي لَيْثٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ أَلَا وَإِنَّ كُلَّ رِبًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَضَى أَنَّ أَوَّلَ رِبًا يُوضَعُ رِبَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ أَلَا وَإِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ، ثُمَّ قَرَأَ : ( إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَكُمْ ) أَلَا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ أَلَا إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ ، وَلَكِنَّهُ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ ، فَإِنَّهُنَّ عِنْدَكُمْ عَوَانٌ لَا يَمْلِكْنَ لِأَنْفُسِهِنَّ شَيْئًا ، وَإِنَّ لَهُنَّ عَلَيْكُمْ حَقًّا ، وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ حَقًّا : أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا غَيْرَكُمْ ، وَلَا يَأْذَنُنَّ فِي بُيُوتِكُمْ لِأَحَدٍ تَكْرَهُونَهُ ، فَإِنْ خِفْتُمْ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ ، وَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ " - قَالَ حُمَيْدٌ : قُلْتُ لِلْحَسَنِ : مَا الْمُبَرِّحُ ؟ قَالَ : الْمُؤَثِّرُ - " ( وَلَهُنَّ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ) ، وَإِنَّمَا أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللَّهِ ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، أَلَا وَمَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ أَمَانَةٌ فَلْيُؤَدِّهَا إِلَى مَنِ ائْتَمَنَهُ عَلَيْهَا " . وَبَسَطَ يَدَيْهِ وَقَالَ : " أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " . ثُمَّ قَالَ : " لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ; فَإِنَّهُ رُبَّ مُبَلَّغٍ أَسْعَدُ مِنْ سَامِعٍ " . قَالَ حُمَيْدٌ : قَالَ الْحَسَنُ حِينَ بَلَغَ هَذِهِ الْكَلِمَةَ : قَدْ وَاللَّهِ بَلَّغُوا أَقْوَامًا كَانُوا أَسْعَدَ بِهِ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ ضَرْبَ النِّسَاءِ فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو حُرَّةَ الرَّقَاشِيُّ وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوحرہ رقاشی اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایام تشریق کے درمیانے دن میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑی ہوئی تھی اور میں لوگوں کو آپ سے پرے کر رہا تھا آپ نے ( خطبہ دیتے ہوئے ) ارشاد فرمایا : اے لوگو ! کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ تم کون سے مہینے میں موجود ہو اور کون سے دن میں موجود ہو اور تم کون سے شہر میں موجود ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : حرمت والے دن میں حرمت والے شہر میں اور حرمت والے مہینے میں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
” تمہاری جانیں تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لئے قابل احترام ہیں جس طرح تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس شہر میں قابل احترام ہے ایسا اس وقت تک رہے گا جب تک تم ( اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ) حاضر نہیں ہو جاتے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تم میری بات سن لو تم ( آرام سے ) زندہ رہو گے خبردار تم ظلم نہ کرنا خبردار تم ظلم نہ کرنا خبردار تم ظلم نہ کرنا کسی مسلمان شخص کا مال اس کی رضا مندی کے بغیر لینا حلال نہیں ہے خبردار ہر خون ترجیحی سلوک اور مال ، جو زمانہ جاہلیت کے لین دین سے تعلق رکھتا ہے وہ قیامت کے دن تک کے لئے میرے ان قدموں کے نیچے ہے اور وہ پہلا خون جسے معاف کیا جاتا ہے وہ ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کا خون ہے ، جو بنو لیث میں دودھ پینے والے بچے تھے اور ہذیل قبیلے کے لوگوں نے انہیں قتل کر دیا تھا خبردار زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والا ہر سود کالعدم قرار دیا جاتا ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ وہ سب سے پہلا سود جسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے وہ جناب عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے ( یعنی جو انہوں نے لوگوں سے وصول کرنا تھا ) تمہارے اصل اموال تمہیں مل جائیں گے نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے خبردار زمانہ اسی طریقے سے چل رہا ہے جیسے اس دن تھا جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا تھا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی :
” بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں جو اللہ تعالی کی کتاب میں اس وقت طے ہوا تھا جس دن اس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا تھا ان میں سے چار حرمت والے ہیں یہ مضبوط دین ہے ، تو تم ان مہینوں کے بارے میں اپنے اوپر ظلم نہ کرنا “ ۔
( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اور خبردار تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑاتے پھرو ، خبردار شیطان اس بات سے مایوس ہو گیا ہے کہ نمازی لوگ اس کی عبادت کریں لیکن وہ تمہارے درمیان اختلافات پیدا کرے گا اور تم خواتین : کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا کیونکہ وہ تمہارے پاس پابند ہونے کی حیثیت سے ہیں وہ اپنی ذات کے حوالے سے کسی چیز کی مالک نہیں ہیں ان خواتین کا تم پر حق ہے اور تمہارا ان پر حق ہے کہ وہ تمہارے بچھونے پر تمہارے علاوہ کسی اور شخص کو نہ آنے دیں اور تمہارے گھر میں کسی ایسے شخص کو آنے کی اجازت نہ دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو اگر تم ان سے نافرمانی کا اندیشہ رکھتے ہو ، تو انہیں نصیحت کرو اور ان کا بستر الگ کر دو اور انہیں اس طرح سے مارو کہ جو نشان نہ لگائے ۔
حمید نامی راوی کہتے ہیں : میں نے حسن نامی راوی سے دریافت کیا : لفظ مبرح سے مراد کیا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : یعنی جو چیز نشان ڈال دے ۔
( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ان خواتین کو ان کا رزق اور ان کا لباس مناسب طور پر دیا جائے گا “ ۔
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تم لوگوں نے ان خواتین کو اللہ تعالیٰ کی امانت کے حوالے سے حاصل کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے خبردار جس شخص کے پاس امانت رکھوائی گئی ہو وہ اس کو اس شخص کو ادا کر دے جس نے اس کو امین بنایا تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور ارشاد فرمایا : کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : موجود شخص غیر موجود شخص تک تبلیغ کر دے کیونکہ جس تک تبلیغ کی گئی ہو گی وہ بعض اوقات ایسا ہو سکتا ہےکہ وہ براہ راست سننے والے کے مقابلے میں زیادہ سعادت مند ہو ۔
حمید نامی راوی کہتے ہیں : حسن نامی راوی جب اس کلے پر پہنچتے تھے تو یہ کہتے تھے : اللہ کی قسم ! ان لوگوں نے ان اقوام تک تبلیغ کی جو اس کے حوالے سے زیادہ سعادت مند تھے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے صرف خواتین کی پٹائی کرنے سے متعلق حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ابوحرہ رقاشی نامی راوی کو امام ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے اور یحیی بن معین نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
” تمہاری جانیں تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لئے قابل احترام ہیں جس طرح تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس شہر میں قابل احترام ہے ایسا اس وقت تک رہے گا جب تک تم ( اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ) حاضر نہیں ہو جاتے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تم میری بات سن لو تم ( آرام سے ) زندہ رہو گے خبردار تم ظلم نہ کرنا خبردار تم ظلم نہ کرنا خبردار تم ظلم نہ کرنا کسی مسلمان شخص کا مال اس کی رضا مندی کے بغیر لینا حلال نہیں ہے خبردار ہر خون ترجیحی سلوک اور مال ، جو زمانہ جاہلیت کے لین دین سے تعلق رکھتا ہے وہ قیامت کے دن تک کے لئے میرے ان قدموں کے نیچے ہے اور وہ پہلا خون جسے معاف کیا جاتا ہے وہ ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کا خون ہے ، جو بنو لیث میں دودھ پینے والے بچے تھے اور ہذیل قبیلے کے لوگوں نے انہیں قتل کر دیا تھا خبردار زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والا ہر سود کالعدم قرار دیا جاتا ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ وہ سب سے پہلا سود جسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے وہ جناب عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے ( یعنی جو انہوں نے لوگوں سے وصول کرنا تھا ) تمہارے اصل اموال تمہیں مل جائیں گے نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے خبردار زمانہ اسی طریقے سے چل رہا ہے جیسے اس دن تھا جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا تھا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی :
” بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں جو اللہ تعالی کی کتاب میں اس وقت طے ہوا تھا جس دن اس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا تھا ان میں سے چار حرمت والے ہیں یہ مضبوط دین ہے ، تو تم ان مہینوں کے بارے میں اپنے اوپر ظلم نہ کرنا “ ۔
( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اور خبردار تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑاتے پھرو ، خبردار شیطان اس بات سے مایوس ہو گیا ہے کہ نمازی لوگ اس کی عبادت کریں لیکن وہ تمہارے درمیان اختلافات پیدا کرے گا اور تم خواتین : کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا کیونکہ وہ تمہارے پاس پابند ہونے کی حیثیت سے ہیں وہ اپنی ذات کے حوالے سے کسی چیز کی مالک نہیں ہیں ان خواتین کا تم پر حق ہے اور تمہارا ان پر حق ہے کہ وہ تمہارے بچھونے پر تمہارے علاوہ کسی اور شخص کو نہ آنے دیں اور تمہارے گھر میں کسی ایسے شخص کو آنے کی اجازت نہ دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو اگر تم ان سے نافرمانی کا اندیشہ رکھتے ہو ، تو انہیں نصیحت کرو اور ان کا بستر الگ کر دو اور انہیں اس طرح سے مارو کہ جو نشان نہ لگائے ۔
حمید نامی راوی کہتے ہیں : میں نے حسن نامی راوی سے دریافت کیا : لفظ مبرح سے مراد کیا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : یعنی جو چیز نشان ڈال دے ۔
( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ان خواتین کو ان کا رزق اور ان کا لباس مناسب طور پر دیا جائے گا “ ۔
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تم لوگوں نے ان خواتین کو اللہ تعالیٰ کی امانت کے حوالے سے حاصل کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے خبردار جس شخص کے پاس امانت رکھوائی گئی ہو وہ اس کو اس شخص کو ادا کر دے جس نے اس کو امین بنایا تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور ارشاد فرمایا : کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : موجود شخص غیر موجود شخص تک تبلیغ کر دے کیونکہ جس تک تبلیغ کی گئی ہو گی وہ بعض اوقات ایسا ہو سکتا ہےکہ وہ براہ راست سننے والے کے مقابلے میں زیادہ سعادت مند ہو ۔
حمید نامی راوی کہتے ہیں : حسن نامی راوی جب اس کلے پر پہنچتے تھے تو یہ کہتے تھے : اللہ کی قسم ! ان لوگوں نے ان اقوام تک تبلیغ کی جو اس کے حوالے سے زیادہ سعادت مند تھے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے صرف خواتین کی پٹائی کرنے سے متعلق حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ابوحرہ رقاشی نامی راوی کو امام ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے اور یحیی بن معین نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5622
وَعَنْ أَبِي نَضْرَةٍ قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ خُطْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ وَأَبَاكُمْ وَاحِدٌ ، أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى عَجَمِيٍّ ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ ، وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ ، وَلَا أَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ إِلَّا بِالتَّقْوَى ، أَبَلَّغْتُ ؟ " . قَالُوا : بَلَّغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ثُمَّ قَالَ : " أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " . قَالُوا : يَوْمٌ حَرَامٌ . ثُمَّ قَالَ : " أَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " . قَالُوا : شَهْرٌ حَرَامٌ . قَالَ : " أَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " . قَالُوا : بَلَدٌ حَرَامٌ . قَالَ : " فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ حَرَّمَ بَيْنَكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ " . قَالَ : وَلَا أَدْرِي . قَالَ : " وَأَعْرَاضَكُمْ " أَمْ لَا ؟ " كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، أَبَلَّغْتُ ؟ " . قَالُوا : وَبَلَّغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : " لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابونضرہ بیان کرتے ہیں : مجھے اس شخص نے یہ حدیث بیان کی جنہوں نے ایام تشریق کے درمیانی دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! تمہارا پروردگار ایک ہے اور تمہارے جد امجد ( یعنی سیدنا آدم علیہ السلام ) ایک ہیں خبردار کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کسی سیاہ فام کو کسی سفید فام پر اور کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے البتہ تقویٰ کے حوالے سے ( فضیلت ہونے کا معاملہ مختلف ہے ) کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے لوگوں نے عرض کی : اللہ کے رسول نے تبلیغ کر دی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کون سا دن ہے لوگوں نے عرض کی : یہ حرمت والا دن ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کون سا مہینہ ہے لوگوں نے عرض کی : یہ حرمت والا مہینہ ہے آپ نے دریافت کیا یہ کون سا شہر ہے لوگوں نے عرض کی : یہ حرمت والا شہر ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان تمہاری جانوں اور تمہارے اموال کو قابل احترام قرار دے دیا ہے راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے اس میں لفظ تمہاری عزتوں استعمال کیا تھا یا نہیں کیا تھا ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( جس طرح تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس شہر میں قابل احترام ہے کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے لوگوں نے عرض کی : اللہ کے رسول نے تبلیغ کر دی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : موجود شخص غیر موجود شخص تک تبلیغ کر دے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5623
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : نَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ بِمِنًى فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ، فَعَرَفَ أَنَّهُ الْمَوْتُ فَأَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ الْقَصْوَاءِ فَرُحِّلَتْ لَهُ ، فَرَكِبَ فَوَقَفَ لِلنَّاسِ بِالْعَقَبَةِ ، وَاجْتَمَعَ لَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ . ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ ، فَإِنَّ كُلَّ دَمٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ هَدَرٌ ، وَإِنَّ أَوَّلَ دِمَائِكُمْ أُهْدِرُ دَمَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي لَيْثٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ ، وَكُلَّ رِبًا كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ مَوْضُوعٌ ، وَإِنَّ أَوَّلَ رِبَاكُمْ أَضَعُ رِبَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . ¤ أَيُّهَا النَّاسُ : إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ، وَإِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ : رَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ ، وَذُو الْقَعْدَةِ ، وَذُو الْحِجَّةِ ، وَالْمُحَرَّمُ ( ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَكُمْ ) ( إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ يُضَلُّ بِهِ الَّذِينَ كَفَرُوا يُحِلُّونَهُ عَامًا وَيُحَرِّمُونَهُ عَامًا لِيُوَاطِئُوا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ ) ، كَانُوا يُحِلُّونَ صَفَرَ عَامًا وَيُحَرِّمُونَ الْمُحَرَّمَ عَامًا ، فَذَلِكَ النَّسِيءُ . ¤ يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ وَدِيعَةٌ فَلْيُؤَدِّهَا إِلَى مَنِ ائْتَمَنَهُ عَلَيْهَا . ¤ أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يُعْبَدَ بِبِلَادِكُمْ آخِرَ الزَّمَانِ ، وَقَدْ رَضِيَ مِنْكُمْ بِمُحَقَّرَاتِ الْأَعْمَالِ ، فَاحْذَرُوا عَلَى دِينِكُمْ مُحَقَّرَاتِ الْأَعْمَالِ . ¤ أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ النِّسَاءَ عِنْدَكُمْ عَوَانٌ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللَّهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ ، لَكُمْ عَلَيْهِنَّ حَقٌّ وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ حَقٌّ ، وَمِنْ حَقِّكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ غَيْرَكُمْ ، وَلَا يَعْصِينَكُمْ فِي مَعْرُوفٍ ، فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَلَيْسَ لَكُمْ عَلَيْهِنَّ سَبِيلٌ وَلَهُنَّ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ، فَإِنْ ضَرَبْتُمْ فَاضْرِبُوا ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ . ¤ لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ إِلَّا مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُهُ . ¤ أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا : كِتَابَ اللَّهِ فَاعْمَلُوا بِهِ . ¤ أَيُّهَا النَّاسُ ، أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " . قَالُوا : يَوْمٌ حَرَامٌ . قَالَ : " فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " . قَالُوا : بَلَدٌ حَرَامٌ . قَالَ : " فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " . قَالُوا : شَهْرٌ حَرَامٌ . قَالَ : " فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَرَّمَ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ ، كَحُرْمَةٍ هَذَا الْيَوْمِ وَهَذَا الشَّهْرِ وَهَذَا الْبَلَدِ ، أَلَا لِيُبَلِّغْ شَاهِدُكُمْ غَائِبَكُمْ : لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا أُمَّةَ بَعْدَكُمْ " . ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہ سورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت نازل ہوئی جب آپ ایام تشریق کے درمیانے دن میں منی میں موجود تھے آپ کو اندازہ ہو گیا کہ اس میں موت کا پیغام ہے آپ نے اپنی اونٹنی قصواء کے بارے میں حکم دیا اس پر پالان رکھا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے اور عقبہ کے پاس لوگوں کے سامنے ٹھہر گئے جتنا بھی مسلمانوں کے بارے میں اللہ کو منظور تھا وہ آپ کے ارد گرد اکھٹے ہو گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کی شان کے مطابق اس کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اما بعد ! اے لوگو ! زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والا ہر خون ( یعنی قتل کا مقدمہ ) کالعدم ہے اور تمہارے مقدمات میں سے جو سب سے پہلا مقدمہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے وہ ربیعہ بن حارث کے قتل کا ہے ، جو بنولیث میں دودھ پیتے بچے تھے اور ہذیل قبیلے کے لوگوں نے انہیں قتل کر دیا تھا اور زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والے ہر سود کو معاف کیا جاتا ہے اور تمہارے سود میں سے سب سے پہلے جو چیز میں معاف کرتا ہوں وہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا سود ہے ( وہ سود جو انہوں نے لوگوں سے لینا ہے ) ۔ اے لوگو ! زمانہ اسی طرح چل رہا ہے ، جس طرح اس دن تھا جب جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا تھا ہے شک مہینوں کی تعداد بارہ ہے جن میں سے چار حرمت والے ہیں رجب مضر جو جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان ہوتا ہے ذوالقعدہ ذوالج اور محرم ، یہ مضبوط دین ہے ، تم ان مہینوں کے بارے میں اپنے اوپر ظلم نہ کرنا ۔ ” بے شک ( حرمت والے مہینوں ) کو آگے پیچھے کر دینا ، صرف کفر میں اضافے کی وجہ سے ہے ۔ جس کے ذریعے وہ لوگ گمراہ ہو گئے جنہوں نے کفر کیا تھا وہ ایک سال اس کو حلال قرار دیتے ہیں اور ایک سال اسے حرام قرار دیتے ہیں تا کہ وہ اس چیز کی تعداد کو پورا کر دیں جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ لوگ صفر کے مہینے کو ایک سال حلال قرار دیتے تھے اور ایک سال محرم کو حرام قرار دیتے تھے تو یہ ادھار ہے ۔ اے لوگو ! جس شخص کے پاس کوئی ودیعت موجود ہو وہ اس کو اس شخص کو ادا کر دے جس نے اسے امین بنایا تھا ۔ اے لوگو ! بے شک شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ تمہارے علاقے میں آخری زمانے تک اس کی عبادت کی جائے لیکن وہ تمہاری طرف سے حقیر عمل سے راضی ہو جائے گا تو تم اپنے دین کے حوالے سے حقیر اعمال سے احتیاط کرنا ۔ اے لوگو ! خواتین تمہارے پاس پابند ہیں تم نے اللہ تعالیٰ کی امانت کے حوالے سے انہیں حاصل کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے تمہارا ان پر حق ہے اور ان کا تم پر حق ہے تمہارا ان پر حق میں یہ بات شامل ہے کہ وہ تمہارے بچھونے پر تمہارے علاوہ کسی اور کو نہ آنے دیں اور بھلائی کے کام میں تمہاری نافرمانی نہ کریں اگر وہ ایسا کر لیتی ہیں تو پھر تمہیں ان کے خلاف کوئی حق نہیں ہو گا اور انہیں ان کا رزق اور لباس مناسب طور پر دیا جائے گا اور اگر تم پٹائی کرتے ہو ، تو تم اس طرح پٹائی کرو جو نشان نہ لگائے ۔ کسی بھی شخص کے لئے اپنے بھائی کے مال میں سے کوئی چیز لینا حلال نہیں ہے البتہ وہ بھائی اپنی خوشی سے جو دے اس کا معاملہ مختلف ہے ۔ اے لوگو ! میں تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑ کے جا رہا ہوں کہ اگر تم وہ چیز مضبوطی سے تھام لو گے تو تم ہرگز گمراہ نہیں ہو گے وہ اللہ کی کتاب ہے ، تو تم اس پر عمل کرنا ۔ اے لوگو ! یہ کون سا دن ہے لوگوں نے عرض کی : یہ حرمت والا دن ہے ۔ آپ نے دریافت کیا : یہ کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ حرمت والا شہر ہے ۔ آپ نے دریافت کیا : یہ کون سا مہینہ ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ حرمت والا مہینہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو اللہ تعالیٰ نے تمہاری جانوں تمہارے مال اور تمہاری عزتوں کو اسی طرح قابل احترام قرار دیا ہے ، جس طرح یہ دن اس مہینے میں اور اس شہر میں قابل احترام ہے خبردار تم میں سے موجود فرد غیر موجود فرد تک تبلیغ کر دے میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں ہو گی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور یہ فرمایا : اے اللہ ! تو گواہ ہو جا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صحیح اور دیگر کتابوں میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5624
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ، وَقَالَ : ( إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ) ثَلَاثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک زمانہ اسی طرز پر چل رہا ہے جب اس دن تھا جب اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا اس نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالی کے نزدیک دنوں کی گنتی بارہ مہینے ہے ، جو اللہ کی کتاب میں طے شدہ ہے جن میں سے چار حرمت والے ہیں “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یا راوی نے کہا: ) تین مہینے مسلسل ہیں اور ایک رجب مضر ہے ، جو جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن سوار ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن سوار ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 5625
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " هَذَا يَوْمٌ حَرَامٌ ، وَبَلَدٌ حَرَامٌ ، فَدِمَاؤُكُمْ وَأَمْوَالُكُمْ وَأَعْرَاضُكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ ، مِثْلُ هَذَا الْيَوْمِ وَهَذَا الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَهُ وَحَتَّى دَفْعَةٍ دَفَعَهَا مُسْلِمٌ مُسْلِمًا يُرِيدُ بِهَا سُوءًا وَسَأُخْبِرُكُمْ مَنِ الْمُسْلِمُ . الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذُّنُوبَ وَالْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ : " الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذُّنُوبَ " . فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : حجتہ الوداع کے موقع پر آپ نے یہ ارشاد فرمایا : یہ حرمت والا دن ہے اور حرمت والا شہر ہے تمہاری جانیں تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تمہارے لئے قابل احترام ہیں جس طرح یہ دن ( قابل احترام ہے ) اور یہ آج کے دن سے لے کے اس دن تک رہیں گی جب تک تم اس کی بارگاہ میں حاضر نہیں ہوتے یہاں تک کہ یہ چیز بھی حرام ہے کہ کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو پرے کر دے اور اس کا مقصد اس کو نقصان پہنچانا ہو میں تمہیں یہ بتاتا ہوں کہ مسلمان کون ہے مسلمان وہ ہے ، جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ سلامت رہیں اور مومن وہ ہے ، جس کے حوالے سے لوگ اپنی جانوں اور مالوں کے بارے میں محفوظ رہیں اور مہاجر وہ شخص ہے ، جو خطاؤں اور گناہوں سے لا تعلق ہو جائے اور مجاہد وہ شخص ہے ، جو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں رکھنے کی کوشش کرئے “ ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے : ” مومن وہ ہے ، جس سے لوگ محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے ، جو خطاؤں اور گناہوں سے لاتعلق رہے “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام بزار نے کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام بزار نے کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5626
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى قَالَ : بِنَحْوٍ مَنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرَةَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قربانی کے دن منی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اس کے بعد راوی نے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت کی مانند روایت نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5627
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَيَّامَ الْأَضْحَى لِلنَّاسِ : " أَلَيْسَ هَذَا الْيَوْمَ الْحَرَامَ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " فَإِنَّ حُرْمَةَ مَا بَيْنَكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كَحُرْمَةِ هَذَا الْيَوْمِ ، وَأُحَدِّثُكُمْ مَنِ الْمُسْلِمُ ؟ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ، وَأُحَدِّثُكُمْ مَنِ الْمُؤْمِنُ ؟ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ ، وَأُحَدِّثُكُمْ مَنِ الْمُهَاجِرُ ؟ مَنْ هَجَرَ السَّيِّئَاتِ ، وَالْمُؤْمِنُ حَرَامٌ عَلَى الْمُؤْمِنِ كَحُرْمَةِ هَذَا الْيَوْمِ ; لَحْمُهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَأْكُلَهُ بِالْغِيبَةِ يَغْتَابُهُ ، وَعِرْضُهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَخْرِقَهُ ، وَوَجْهُهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَلْطُمَهُ ، وَدَمُهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَسْفِكَهُ ، وَمَالُهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَظْلِمَهُ ، وَأَذَاهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَدْفَعَهُ دَفْعًا " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجتہ الوداع کے موقع پر قربانی کے دنوں میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ارشاد فرمایا : کیا یہ حرمت والا دن نہیں ہے لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو تمہاری آپس کی حرمت قیامت کے دن تک اسی طرح رہے گی جس طرح یہ دن قابل احترام ہے میں تمہیں بتاتا ہوں مسلمان کون ہے وہ شخص کہ ( دوسرے ) مسلمان اس کی زبان اور ہاتھ سے سلامت رہیں اور میں تمہیں بتاتا ہوں مومن کون ہے یہ وہ شخص ہے کہ لوگ اپنے اموال اور اپنی جانوں کے حوالے سے اس سے محفوظ رہیں اور میں تمہیں بتاتا ہوں مہاجر کون ہے یہ وہ شخص ہے ، جو برائیوں سے لاتعلق رہے اور مومن دوسرے مومن کے لئے اسی طرح قابل احترام ہے جس طرح اس دن کی حرمت ہے اس کا گوشت ( یعنی عزت ) اس کے لئے قابل احترام ہے کہ دو اس کی غیبت کر کے اس کی غیر موجودگی میں وہ گوشت کھا لے اور اس کی عزت اس کے لئے قابل احترام ہے کہ وہ اس کو خراب کر دے اور اس کا چہرہ اس کے لئے قابل احترام ہے کہ اس پر تھپڑ مارے اور اس کا خون قابل احترام ہے کہ وہ اسے بہائے اور اس کا مال اس کے لئے قابل احترام ہے کہ وہ اس پر ظلم کرے اور اس کو اذیت دینا اس کے لئے حرام ہے کہ وہ اسے پرے کر دے “ ۔
حدیث نمبر: 5628
وَفِي رِوَايَةٍ : أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ : فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ الْأَضْحَى . وَقَالَ فِيهَا : " وَحَرَامٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْفَعَهُ دَفْعَةً تُعَنِّتُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : آپ نے عیدالاضحی کے درمیانے دن میں یہ بات ارشاد فرمائی اور اس میں یہ فرمایا : اس پر یہ حرام ہے کہ وہ اسے یوں پرے کرے کہ وہ اسے مشقت کا شکار کر دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5629
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " . قُلْنَا : يَوْمُ النَّحْرِ . قَالَ : " أَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " . قُلْنَا : ذُو الْحِجَّةِ شَهْرٌ حَرَامٌ . قَالَ : " فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " . قُلْنَا : بَلَدٌ حَرَامٌ . قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ حَرَامٌ ; كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : یہ کون سا دن ہے ہم نے عرض کی : قربانی کا دن ہے آپ نے دریافت کیا : یہ کون سا مہینہ ہے ہم نے عرض کی : یہ ذوالج کا مہینہ جو حرمت والا مہینہ ہے آپ نے دریافت کیا : یہ کون سا شہر ہے ہم نے عرض کی : یہ حرمت والا شہر ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہاری جانیں تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں اسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح تمہارے اس دن کی تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس شہر میں حرمت ہے خبردار ! موجود شخص غیر موجود تک تبلیغ کر دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 5630
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ بِمِنًى أَوْ بِعَرَفَاتٍ وَيَجِيءُ الْأَعْرَابُ ، فَإِذَا رَأَوْا وَجْهَهُ قَالُوا : هَذَا وَجْهٌ مُبَارَكٌ . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَغْفِرْ لِي . قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا " قَالَ : فَدُرْتُ . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَغْفِرْ لِي . قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا " . قَالَ : فَدُرْتُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَغْفِرْ لِي . قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا ، فَذَهَبَ يَبْزُقُ فَقَالَ بِيَدِهِ فَأَخَذَ بِهَا بُزَاقَهُ ، فَمَسَحَ بِهَا نَعْلَهُ ، كَرِهَ أَنْ يُصِيبَ بِهِ أَحَدًا مِمَّنْ حَوْلَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ وَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا . اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ؟ وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ " . قَالَ : وَأَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ . فَقَالَ : " تَصَدَّقُوا ; فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلَّكُمْ لَا تَرَوْنِي بَعْدَ يَوْمِي هَذَا " . وَوَقَّتَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ أَنْ يُهِلُّوا مِنْهَا ، وَذَاتَ عِرْقٍ لِأَهْلِ الْعِرَاقِ ، أَوْ قَالَ : لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ اس وقت منی میں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) عرفات میں موجود تھے دیہاتی لوگ آتے تھے جب وہ آپ کا چہرہ دیکھتے تھے تو یہ کہتے تھے کہ یہ مبارک چہرہ ہے راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے دعائے مغفرت کیجئے آپ نے فرمایا : اے اللہ ! تو ہماری مغفرت کر دے ۔ راوی کہتے ہیں : میں پھر گھوم کر آیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے دعائے مغفرت کیجئے آپ نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! تو ہماری مغفرت کر دے راوی کہتے ہیں : میں گھوم کر آیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے دعائے مغفرت کیجئے آپ نے فرمایا : اے اللہ ! تو ہماری مغفرت کر دے راوی بیان کرتے ہیں : تو پھر آپ تھوکنے لگے تو آپ نے اپنا ہاتھ آگے کیا اور وہ تھوک اپنے ہاتھ پر ڈالا اور اسے اپنے جوتے کے ذریعے پونچھ لیا آپ نے اس بات کو پسند نہیں کیا کہ آپ کے ارد گرد موجود افراد میں سے کسی کو وہ تھوک لگے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! یہ کون سا دن ہے اور یہ کون سا مہینہ ہے ؟ تمہاری جانیں تمہارے اموال تمہارے لئے قابل احترام ہیں جس طرح تمہارے اس دن کی تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس شہر میں حرمت ہے : اے اللہ ! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟ موجود فرد غیر موجود فرد تک تبلیغ کر دے ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ صدقہ کرو میں نہیں جانتا ہو سکتا ہے کہ آج کے دن کے بعد تم مجھے نہ دیکھ پاؤ “ ۔ ( رادی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے لئے یلملم کو میقات مقرر کیا کہ وہ وہاں سے احرام باندھیں گے اور اہل عراق کے لئے ذات عرق کو مقرر کیا راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : اہل مشرق کے لئے کیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جسے امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5631
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، خُذُوا مَنَاسِكَكُمْ ; فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي غَيْرُ حَاجٍّ بَعْدَ عَامِي هَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الصَّنْعَانِيُّ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجتہ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ نے لوگوں سے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! اپنے مناسک سیکھ لو کیونکہ مجھے نہیں معلوم ہو سکتا ہے کہ میں اس سال کے بعد حج نہ کر پاؤں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد صنعانی ہے میں نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد صنعانی ہے میں نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 5632
وَعَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، وَهُوَ يَخْطُبُ ، وَهُوَ يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّ شَهْرٍ أَحْرَمُ ؟ " . قَالُوا : هَذَا الشَّهْرُ . قَالَ : " أَيُّ يَوْمٍ أَحْرَمُ ؟ " . قَالُوا : هَذَا - ، وَهُوَ يَوْمُ النَّحْرِ - قَالَ : " فَأَيُّ بَلَدٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ حُرْمَةً ؟ " . قَالُوا : هَذَا . قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ مُحَرَّمَةٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " . قَالَ النَّاسُ : نَعَمْ ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " . ثُمَّ قَالَ : " لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ " . قَالَ وَابِصَةُ : وَإِنَّا شَهِدْنَا وَغِبْتُمْ ، وَنُبَلِّغُكُمْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَسَارٌ مَوْلَى وَابِصَةَ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وابصہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجتہ الوداع کے موقع پر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا آپ خطبہ دے رہے تھے آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! کون سا مہینہ زیادہ حرمت والا ہے لوگوں نے عرض کی : یہ مہینہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون سا دن زیادہ حرمت والا ہے لوگوں نے عرض کی : ( دن ) ، یہ راوی کہتے ہیں : وہ قربانی کا دن تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون سا شہر حرمت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ عظیم ہے لوگوں نے عرض کی : یہ ( یعنی مکہ شہر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو تمہاری جانیں تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس شہر میں قابل احترام ہے اور یہ اس وقت تک ( قابل احترام ) رہیں گی جب تک تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر نہیں ہو جاتے خبردار کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے اور پھر فرمایا : اے اللہ ! تو گواہ ہو جا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے موجود فرد غیر موجود تک تبلیغ کر دے ۔ سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ نے (
یہ روایت بیان کرنے کے بعد ) ارشاد فرمایا : ہم لوگ اس وقت موجود تھے اور تم لوگ موجود نہیں تھے تو ہم تمہیں اسی طرح تبلیغ کر رہے ہیں جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یسار ہے ، جو سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ کا غلام ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت بیان کرنے کے بعد ) ارشاد فرمایا : ہم لوگ اس وقت موجود تھے اور تم لوگ موجود نہیں تھے تو ہم تمہیں اسی طرح تبلیغ کر رہے ہیں جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یسار ہے ، جو سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ کا غلام ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5633
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " أَيُّ بَلَدٍ أَحْرَمُ ؟ " . قِيلَ : مَكَّةُ . قَالَ : " فَأَيُّ شَهْرٍ أَحْرَمُ ؟ " . قِيلَ : ذُو الْحِجَّةِ . قَالَ : " فَأَيُّ يَوْمٍ أَحْرَمُ ؟ " . قِيلَ : يَوْمُ النَّحْرِ ، وَهُوَ يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دِمَاؤُكُمْ وَأَمْوَالُكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ إِلَى أَنْ تَلْقُوا رَبَّكُمْ ; كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فَلَا أَرَى مِنَ الرَّأْيِ أَنْ يُهْرَاقَ فِي حَرَمِ اللَّهِ دَمٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ فُرَاتُ بْنُ أَحْنَفَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حجتہ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون سا شہر زیادہ حرمت والا ہے ؟ عرض کی گئی مکہ آپ نے دریافت کیا : کون سا مہینہ زیادہ حرمت والا ہے ، عرض کی گئی ذوالحج آپ نے دریافت کیا : کون سا دن زیادہ حرمت والا ہے ؟ عرض کی گئی قربانی کا دن اور یہ حج اکبر کا دن ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہاری جانیں اور تمہارے اموال ایک دوسرے کے لئے قابل احترام ہیں اور اس وقت تک رہیں گے جب تک تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر نہیں ہو جاتے اور یہ اس طرح قابل احترام ہیں جس طرح تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس شہر میں قابل احترام ہے ، تو میں یہ نہیں سمجھتا کہ اللہ تعالیٰ کے حرم میں کوئی خون بہایا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فرات بن احنف ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فرات بن احنف ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5634
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : كَانَ رَبِيعَةُ بْنُ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ الْجُمَحِيُّ ، وَهُوَ الَّذِي كَانَ يَصْرُخُ يَوْمَ عَرَفَةَ تَحْتَ لَبَّةِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اصْرُخْ " . وَكَانَ صَيِّتًا : " أَيُّهَا النَّاسُ ، أَتَدْرُونَ أَيَّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " . فَصَرَخَ فَقَالُوا : نَعَمْ ، الشَّهْرُ الْحَرَامُ . قَالَ : " فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ إِلَى أَنْ تَلْقَوْا رَبَّكُمْ ، كَحُرْمَةِ شَهْرِكُمْ هَذَا " . ثُمَّ قَالَ : " اصْرُخْ : هَلْ تَدْرُونَ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " . ¤ فَصَرَخَ فَقَالُوا : نَعَمْ ، الْبَلَدُ الْحَرَامُ . قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَهُ كَحُرْمَةِ بَلَدِكُمْ هَذَا " . ثُمَّ قَالَ : " اصْرُخْ : أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " . فَصَرَخَ فَقَالُوا : هَذَا يَوْمٌ حَرَامٌ ، وَهَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ . قَالَ : " فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَهُ ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مُرْسَلًا - كَمَا تَرَاهُ - وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبادہ بن عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا ربیعہ بن امیہ بن خلف جمحی رضی اللہ عنہ صاحب ہیں کہ عرفہ کے دن جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی گردن کے نیچے کھڑے ہو کر بلند آواز میں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات کو دہرایا تھا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا بلند آواز میں کہو ان صاحب کی آواز بلند تھی ( انہوں نے یہ کہا: ) اے لوگو ! کیا تم جانتے ہو یہ کون سا مہینہ ہے ؟ انہوں نے بلند آواز میں یہ بات کہہ دی تو لوگوں نے کہا: جی ہاں ! یہ حرمت والا مہینہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری جانوں اور تمہارے اموال کو ایک دوسرے کے لئے قابل احترام قرار دے دیا ہے اور یہ اس وقت تک ہے جب تک تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر نہیں ہو جاتے اور یہ تمہارے اس مہینے کی حرمت کی طرح ہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تم بلند آواز میں کہو کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے ؟ انہوں نے بلند آواز میں یہ بات دہرائی تو لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یہ حرمت والا شہر ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری جانیں تمہارے اموال ایک دوسرے کے لئے قابل احترام ہیں اور اس دن تک رہیں گے جب تک تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر نہیں ہو جاتے اور وہ تمہارے اس شہر کی حرمت کی طرح ( قابل احترام ہیں ) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بلند آواز میں پوچھو یہ کون سا دن ہے ؟ انہوں نے بلند آواز میں یہ بات کہی تو لوگوں نے عرض کی : یہ حج اکبر کا دن ہے راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری جانوں اور تمہارے اموال کو ایک دوسرے کے لئے قابل احترام قرار دیا ہے اور اس دن تک کے لئے قرار دیا ہے جب تم اس کی بارگاہ میں حاضر ہو گے جس طرح تمہارے اس دن کی حرمت ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے جیسا کہ آپ اسے ملاحظہ فرما رہے ہیں اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے جیسا کہ آپ اسے ملاحظہ فرما رہے ہیں اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5635
وَعَنْ حُجَيْرٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " . قَالُوا : بَلَدٌ حَرَامٌ . قَالَ : " فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " . قَالُوا : شَهْرٌ حَرَامٌ . قَالَ : " أَلَا إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا كَشَهْرِكُمْ هَذَا كَحُرْمَةِ بَلَدِكُمْ هَذَا فَلْيُبَلِّغْ شَاهِدُكُمْ غَائِبَكُمْ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ مَخْشِيِّ بْنِ حُجَيْرٍ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حجیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجتہ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! یہ کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ حرمت والا شہر ہے آپ نے دریافت کیا : یہ کون سا مہینہ ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ حرمت والا مہینہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خبردار تمہاری جانیں اور تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح تمہارے اس دن کی تمہارے اس مہینے میں حرمت ہے اور جس طرح تمہارے اس شہر کی حرمت ہے تم میں سے موجود فرد غیر موجود تک تبلیغ کر دے تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑاتے پھرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مخشی بن حجیر کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے میں نے کسی کو ان کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مخشی بن حجیر کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے میں نے کسی کو ان کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 5636
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ صُدَيِّ بْنِ عَجْلَانَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى نَاقَةٍ حَتَّى وَقَفَ وَسَطَ النَّاسِ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ فَقَالَ : " أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " . فَقَالُوا : يَوْمُ عَرَفَةَ الْيَوْمُ الْحَرَامُ . قَالَ : " فَأَيُّ شَهْرٍ ؟ " . قَالُوا : فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ . قَالَ : " فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " . قَالُوا : الْبَلَدُ الْحَرَامُ . قَالَ : " فَإِنَّ أَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَيَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلَا إِنَّ كُلَّ نَبِيٍّ قَدْ مَضَتْ دَعْوَتُهُ إِلَّا دَعْوَتِي فَإِنِّي قَدِ ادَّخَرْتُهَا عِنْدَ رَبِّي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الْأَنْبِيَاءَ مُكَاثِرُونَ فَلَا تُخْزُونِي فَإِنِّي جَالِسٌ لَكُمْ عَلَى بَابِ الْحَوْضِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ صدی بن عجلان باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجتہ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر سوار ہو کر تشریف لائے اور عرفہ کے دن لوگوں کے درمیان میں ٹھہر گئے آپ نے دریافت کیا : یہ کون سا دن ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ عرفہ کا دن ہے ، جو حرمت والا دن ہے آپ نے دریافت کیا : یہ کون سا مہینہ ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ حرمت والا مہینہ ہے آپ نے دریافت کیا : یہ کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ حرمت والا شہر ہے آپ نے فرمایا : تمہارے اموال تمہاری عزتیں اور تمہاری جانیں ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں ، جس طرح تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینے میں اور تمہارے اس شہر میں قابل احترام ہے خبردار ہر نبی نے اپنی دعا کر لی البتہ میری دعا کا معاملہ مختلف ہے اسے میں نے اپنے پروردگار کے پاس سنبھال کے رکھوا دیا ہے ، جو قیامت کے دن کے لئے ہے اما بعد ! انبیاء ایک دوسرے کے سامنے ( اپنے امتیوں کی ) کثرت پر فخر کا اظہار کریں گے تو تم لوگ مجھے رسوا نہ کرنا اور میں حوض کے دروازے کے پاس تمہارے لئے بیٹھا ہوا ہوں گا“ ۔
حدیث نمبر: 5637
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْجَدْعَاءِ ، قَدْ أَدْخَلَ رِجْلَيْهِ فِي الْغَرْزِ ، وَوَضَعَ إِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى مُقَدَّمِ الرِّجْلِ الْأُخْرَى عَلَى مُؤَخَّرِهِ يَتَطَاوَلُ بِذَلِكَ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْصِتُوا ; فَإِنَّكُمْ لَعَلَّكُمْ لَا تَرَوْنِي بَعْدَ عَامِكُمْ هَذَا " . وَذَكَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجتہ الوداع کے دن انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : آپ اپنی اونٹنی جدعاء پر موجود تھے آپ نے اپنے پاؤں رکاب میں رکھے ہوئے تھے اور دو ہاتھوں میں سے ایک آگے والی ٹانگ پر اور دوسرا پیچھے والی ٹانگ پر رکھا ہوا تھا ، تاکہ آپ نمایاں ہو جائیں آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! خاموش ہو جاؤ ہو سکتا ہے تم اس سال کے بعد مجھے نہ دیکھ پاؤ گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5638
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ عَلَى الْجَدْعَاءِ رَاكِبٌ ، وَخَلْفَهُ الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ يَقُولُ : " لَا تَأَلُّوا عَلَى اللَّهِ ; فَإِنَّهُ مَنْ تَأَلَّى عَلَى اللَّهِ أَكْذَبَهُ اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ جدعاء ( اونٹنی ) پر سوار تھے آپ کے پیچھے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے آپ یہ ارشاد فرما رہے تھے : تم لوگ اللہ کے نام پر ( جھوٹا ) حلف نہ اٹھاؤ ، کیونکہ جو شخص اللہ کے نام پر حلف اٹھائے گا ، اللہ تعالی اس کے جھوٹ کو ظاہر کر دے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے وہ ثقہ ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے وہ ثقہ ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 5639
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَا : سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ ; كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” بے شک تمہارے خون تمہارے اموال تمہارے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح تمہارے اس دن کی تمہارے اس شہر میں حرمت ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن محمد بن میمون ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن محمد بن میمون ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5640
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَّمَ يَوْمَئِذٍ فِي أَصْحَابِهِ غَنَمًا ، فَأَصَابَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ تَيْسًا فَذَبَحَهُ ، فَلَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ أَمَرَ رَبِيعَةَ بْنَ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ فَقَامَ تَحْتَ ثَدْيِ نَاقَتِهِ - وَكَانَ رَجُلًا صَيِّتًا - فَقَالَ : " اصْرُخْ : أَيُّهَا النَّاسُ أَتَدْرُونَ أَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " . فَصَرَخَ فَقَالَ النَّاسُ : الشَّهْرُ الْحَرَامُ . فَقَالَ : " اصْرُخْ : أَتَدْرُونَ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " . قَالُوا : الْبَلَدُ الْحَرَامُ . قَالَ : " اصْرُخْ أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " . قَالُوا : الْحَجُّ الْأَكْبَرُ . فَقَالَ : " اصْرُخْ فَقُلْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ كَحُرْمَةِ شَهْرِكُمْ هَذَا وَكَحُرْمَةِ بَلَدِكُمْ هَذَا وَكَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا " . فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّهُ وَقَالَ حِينَ وَقَفَ بِعَرَفَةَ : " هَذَا الْمَوْقِفُ وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ " . وَقَالَ حِينَ وَقَفَ عَلَى قُزَحَ : " هَذَا الْمَوْقِفُ ، وَكُلُّ مُزْدَلِفَةَ مَوْقِفٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں بکریاں تقسیم کیں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک بکرا آیا انہوں نے اسے ذبح کر لیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ میں ٹھہرے تو آپ نے ربیعہ بن امیہ بن خلف کو حکم دیا وہ آپ کی اونٹنی کے نیچے کھڑے ہوئے وہ ایک بلند آواز والے شخص تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم بلند آواز میں کہو : اے لوگو ! کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ یہ کون سا مہینہ ہے ؟ انہوں نے بلند آواز میں یہ بات کہی تو لوگوں نے کہا: یہ حرمت والا مہینہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بلند آواز میں کہو : یہ کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ حرمت والا شہر ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بلند آواز میں کہو کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو یہ کون سا دن ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : حج اکبر کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بلند آواز میں یہ کہو : اللہ کے رسول نے تمہاری جانیں اور تمہارے اموال تم پر اسی طرح حرام قرار دیے ہیں جس طرح تمہارے اس مہینے کی حرمت ہے اور جس طرح تمہارے اس شہر کی حرمت ہے اور جس طرح تمہارے اس دن کی حرمت ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حج مکمل کر لیا جب آپ عرفہ میں وقوف کیے ہوئے تھے تو آپ نے ارشاد فرمایا یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا عرفہ وقوف کی جگہ ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قزح میں وقوف کیا ہوا تھا تو آپ نے فرمایا : یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5641
وَعَنْ فَهْدِ بْنِ الْبَخْتَرِيِّ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَزْرَقِ حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ عُمَرَ قَالَ : خَرَجْتُ إِلَى مَكَّةَ فَلَمَّا صِرْتُ بِالضَّرِيَّةِ قَالَ لِي بَعْضُ إِخْوَانِي : هَلْ لَكَ فِي رَجُلٍ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : صَاحِبُ الْقُبَّةِ الْمَضْرُوبَةِ فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا . فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي : قُومُوا بِنَا إِلَيْهِ . فَقُمْنَا فَانْتَهَيْنَا إِلَى صَاحِبِ الْقُبَّةِ ، فَسَلَّمْنَا فَرَدَّ السَّلَامَ فَقَالَ : مَنِ الْقَوْمُ ؟ قُلْنَا : قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، بَلَغَنَا أَنَّ لَكَ صُحْبَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَدْتُ تَحْتَ مِنْبَرِهِ يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ فَلَيْسَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى عَجَمِيٍّ فَضْلٌ ، وَلَا لِعَجَمِيِّ عَلَى عَرَبِيٍّ فَضْلٌ ، وَلَا لِأَسْوَدَ عَلَى أَبْيَضَ فَضْلٌ ، وَلَا لِأَبْيَضَ عَلَى أَسْوَدَ فَضْلٌ ، إِلَّا بِالتَّقْوَى . يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ لَا تَجِيئُوا بِالدُّنْيَا تَحْمِلُونَهَا عَلَى رِقَابِكُمْ وَتَجِيءُ النَّاسُ بِالْآخِرَةِ فَإِنِّي لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا " . قُلْنَا : مَا اسْمُكَ ؟ قَالَ : أَنَا الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ فَارِسُ الضَّحْيَاءِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ هَذَا ضَعِيفٌ ، وَتَقَدَّمَ لَهُ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ فِي الْخُطْبَةِ يَوْمَ عَرَفَةَ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا النَّحْوِ فِي الدِّيَاتِ وَالْفِتَنِ . ¤
محمد محی الدین
فہد بن بختری بن شعیب بن عمرو بن ازرق بیان کرتے ہیں : شعیب بن عمر نے مجھے یہ بات بتائی ہے میں مکہ گیا جب میں ” ضریہ “ میں تھا تو میرے بعض ساتھیوں نے مجھ سے کہا: کیا تم ایسے صاحب سے ملنے میں دلچسپی رکھتے ہو جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہونے کا شرف حاصل ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! اس شخص نے کہا: فلاں جگہ پر جو خیمہ لگا ہوا ہے اس میں موجود فرد ( صحابی ہیں ) میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: تم لوگ ہمارے ساتھ اٹھ کر ان کی طرف چلو جب ہم اس خیمے کے پاس پہنچے تو ہم نے سلام کیا ان صاحب نے ہمیں سلام کا جواب دیا اور دریافت کیا : تم کون لوگ ہو ؟ ہم نے کہا: ہمارا تعلق اہل بصرہ سے ہے ہمیں یہ اطلاع ملی ہے کہ آپ کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوں اور حجتہ الوداع کے دن میں آپ کے منبر کے نیچے بیٹھا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور آپ نے اللہ تعالی کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر یہ ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے لوگو ! بے شک ہم نے تمہیں مذکر اور مؤنث سے پیدا کیا ہے اور تمہیں مختلف گروہوں اور قبائل میں بنایا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کی شناخت حاصل کرو اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ معزز وہ شخص ہے ، جو تم میں سب سے زیادہ پرہیز گار ہو کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت نہیں ہے کسی سیاہ فام کو کسی سفید فام پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے اور کسی سفید فام کو سیاہ فام پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے البتہ تقویٰ ( کے حوالے سے فضیلت ہونے ) کا معاملہ مختلف ہے : اے قریش کے گروہ ایسا نہ ہو کہ تم دنیا اپنی گردنوں پر اٹھا کے لاؤ اور لوگ آخرت لے کے آ رہے ہوں میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے ( ان صاحب سے ) دریافت کیا : آپ کا کیا نام کا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا میں عداء بن خالد بن عمرو بن عامر ہوں جو زمانہ جاہلیت میں ضحیاء کا شہسوار تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے
یہ روایت ضعیف ہے اس سے پہلے عرفہ کے دن خطبہ دینے سے متعلق باب میں
یہ روایت صحیح سند کے ساتھ گزر چکی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احایث دیتوں اور فتنوں سے متعلق باب میں آئیں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے
یہ روایت ضعیف ہے اس سے پہلے عرفہ کے دن خطبہ دینے سے متعلق باب میں
یہ روایت صحیح سند کے ساتھ گزر چکی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احایث دیتوں اور فتنوں سے متعلق باب میں آئیں گی ۔
حدیث نمبر: 5642
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فِي أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَقُولُ : " هَذَا الْيَوْمُ حَرَامٌ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ : " فَإِنَّ حُرْمَتَكُمْ بَيْنَكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكِمْ هَذَا . أُنْبِئُكُمْ مَنِ الْمُسْلِمُ ؟ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ . أُنْبِئُكُمْ مَنِ الْمُؤْمِنُ ؟ الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ الْمُسْلِمُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ . أُنْبِئُكُمْ مَنِ الْمُهَاجِرُ ؟ الْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ السَّيِّئَاتِ مِمَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَالْمُؤْمِنُ عَلَى الْمُؤْمِنِ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ هَذَا الْيَوْمِ لَحْمُهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَأْكُلَهُ بِالْغَيْبِ وَيَغْتَابَهُ ، وَعِرْضُهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَخْرِقَهُ ، وَوَجْهُهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَلْطِمَهُ ، وَأَذَاهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يُؤْذِيَهُ ، وَعَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَدْفَعَهُ دَفْعًا يُتَعْتِعُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ كَرَامَةُ بِنْتُ الْحُسَيْنِ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حجتہ الوداع کے موقع پر ایام تشریق کے درمیانی دن میں خطبہ دینے کے دوران یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : یہ حرمت والا دن ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے درمیان تمہاری حرمت تمہارے اس دن کی حرمت کی مانند ہے میں تمہیں بتاتا ہوں مسلمان کون ہے ؟ مسلمان وہ ہے ، جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں میں تمہیں بتاتا ہوں مومن کون ہے ؟ مومن وہ ہے ، جس سے مسلمان اپنی جانوں اور اموال کے حوالے سے محفوظ رہیں میں تمہیں بتاتا ہوں مہاجر کون ہے ؟ مہاجر وہ ہے ، جو برائیوں سے لاتعلق رہے وہ برائیاں جو اللہ تعالیٰ نے اس پر حرام قرار دی ہیں اور ایک مومن دوسرے مومن کے لئے قابل احترام ہے ، جس طرح اس دن کی حرمت ہے اس کا گوشت دوسرے کے لئے قابل احترام ہے کہ وہ اس کی غیر موجودگی میں غیبت کر کے اسے کھائے اور اس کی عزت دوسرے کے لئے قابل احترام ہے کہ وہ اس کی خلاف ورزی کرے اس کا چہرہ دوسرے کے لئے قابل احترام ہے کہ وہ اس پر طمانچہ مارے اسے اذیت دینا دوسرے پر حرام ہے کہ وہ اسے اذیت پہنچائے اور اس پر یہ بھی حرام ہے کہ وہ اسے یوں پرے کر دے کہ اسے مشقت کا شکار کر دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خاتون کرامہ بنت حسین ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خاتون کرامہ بنت حسین ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 5643
وَعَنْ كُلْثُومِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ فَرَكِبْتُ يَوْمًا إِلَى الْحَجَّاجِ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : أَبُو غَادِيَةَ الْجُهَنِيُّ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : قُومُوا إِلَيْهِ فَأَنْزِلُوهُ . فَقُولُوا : الْآنَ يَرْجِعُ . فَخَرَجْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا لَهُ : الْآنَ يَرْجِعُ . فَنَزَلَ فَدَخَلَ عَلَى عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَاسْتَسْقَى فَأُتِيَ بِمَاءٍ فِي قَدَحِ زُجَاجٍ ، فَأَبَى أَنْ يَشْرَبَ فِي الزُّجَاجِ ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ فِي قَدَحِ نِضَارٍ فَشَرِبَ ، فَقَالَ : بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَرُدُّ عَلَى أَهْلِي الْمَالَ . فَقَالَ لَهُ رَاشِدُ بْنُ أُنَيْفٍ وَكَانَ مَعَ عَبْدِ الْأَعْلَى - : بِيَمِينِكِ هَذِهِ ؟ فَانْتَهَرَهُ عَبْدُ الْأَعْلَى وَقَالَ : أَفَبِشِمَالِهِ ؟ وَقَالَ : شَهِدْتُ خُطْبَتَهُ يَوْمَ الْعَقَبَةِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، أَلَا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " . حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمَ أُحِيطَ بِعُثْمَانَ سَمِعْتُ رَجُلًا ، وَهُوَ يَقُولُ : أَلَا يُقْتَلُ هَذَا ؟ فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ عَمَّارٌ فَلَوْلَا مَا كَانَ خَلْفَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ لَوَطِئْتُ بَطْنَهُ . فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ إِنْ تَشَأْ أَنْ تُلَقِّيَنِيهِ . ¤ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ إِذَا أَنَا بَرَجُلٍ سِبْرٍ يَقُودُ كَتِيبَةً رَاجِلًا فَنَظَرْتُ إِلَى الدِّرْعِ فَانْكَشَفَ عَنْ رُكْبَتِهِ فَأَطْعَنُهُ فَإِذَا هُوَ عَمَّارٌ . ¤
محمد محی الدین
کلثوم بن جبیر بیان کرتے ہیں : ہم لوگ عنبسہ بن سعید کے پاس موجود تھے ایک دن میں سوار ہو کر حجاج کے پاس گیا ایک صاحب ان کے پاس آئے جن کا نام سیدنا ابوغادیہ جہنی رضی اللہ عنہ تھا عبدالاعلیٰ بن عبداللہ نے ان سے کہا: تم لوگ اٹھ کر ان کی طرف جاؤ اور انہیں سواری سے نیچے اترواؤ اور تم یہ کہنا کہ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ جب وہ واپس آئیں گے ہم نکل کر ان کے پاس آئے ہم نے ان سے کہا: کہ اب وہ وقت آ گیا ہے جب وہ واپس آئیں گے وہ سواری سے نیچے اترے اور عبدالاعلیٰ بن عبداللہ کے پاس آئے ۔ انہوں نے پینے کے لئے کچھ مانگا تو شیشے کے پیالے میں پانی لایا گیا انہوں نے شیشے میں پانی پینے سے انکار کر دیا پھر لکڑی کے پیالے میں پانی لایا گیا ، تو وہ انہوں نے پی لیا انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی تھی اور میں نے اپنے اہل خانہ کو مال واپس کر دیا تھا راشد بن انیس نامی ایک صاحب جو عبدالاعلیٰ کے ساتھ موجود تھے ۔ انہوں نے ان سے دریافت کیا : کیا آپ نے اپنے اس دائیں ہاتھ کے ذریعے بیعت کی تھی ؟ تو عبدالاعلیٰ نے انہیں ڈانٹا اور کہا: کیا انہوں نے بائیں ہاتھ کے ذریعے بیعت کرنی تھی ؟ ان صاحب نے یہ بات بیان کی کہ عقبہ کے دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبے میں موجود تھا آپ نے ارشاد فرمایا : ” بے شک تمہاری جانیں اور تمہارے اموال ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح تمہارے اس دن کی حرمت اس مہینے میں تمہارے اس شہر میں ہے خبردار تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑاتے پھرو “ ۔ ( سیدنا ابوغادیہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بھی بیان کی ) جب وہ دن آیا کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا گیا تو میں نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ کیا اسے قتل نہیں کیا جائے گا جب میں نے دیکھا تو وہ عمار تھا اللہ کی قسم اگر اس کے پیچھے اس کے ساتھی نہ ہوتے تو میں نے اس کے پیٹ پر پاؤں رکھ دینا تھا اس وقت میں نے دعا کی اے اللہ ! اگر تو چاہے ، تو میری دوبارہ اس سے ملاقات کروانا پھر جب جنگ صفین کا موقع آیا ، تو میں نے ایک شخص کو دیکھا جو دیکھنے میں عمدہ ( یعنی نمایاں ) لگ رہا تھا ، اور ایک جنگی دستے کی قیادت کر رہا تھا میں نے اس کی زرہ کی طرف دیکھا ، جب اس نے اپنے گھٹنے سے ہٹایا ، تو میں نے اسے نیزہ مار دیا ، وہ ” عمار “ تھا ۔
حدیث نمبر: 5644
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ قَالَ : كَانَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ مِنْ خِيَارِنَا . وَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ : فَقَالَ مَوْلًى لَنَا : أَيُّ يَدٍ كَفَتَاهُ . فَلَمْ أَرَ رَجُلًا أَبْيَنَ ضَلَالًا مِنْهُ عِنْدِي . أَنَّهُ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا سَمِعَ ، ثُمَّ قَتَلَ عَمَّارًا . ¤ رَوَاهُ بِتَمَامِهِ هَكَذَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ان سے ایک روایت میں یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہمارے بہترین افراد میں سے تھے اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے اور یہ بات زائد نقل کی ہے ہمارے غلام نے کہا: کون سا ہاتھ اس کی کفایت کر سکتا ہے ؟ میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جو میرے نزدیک اس سے زیادہ گمراہ ہو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات بھی سنی ہوئی ہے اور پھر بھی سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح مکمل روایت کے طور پر معجم کبیر میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح مکمل روایت کے طور پر معجم کبیر میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5645
وَعَنْ سَرَّاءَ بِنْتِ نَبْهَانَ - وَكَانَتْ رَبَّةَ بَيْتٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ - قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " هَلْ تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " قَالَتْ : - وَهُوَ الْيَوْمُ الَّذِي تَدْعُونَ يَوْمَ الرَّوْسِ - قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " إِنَّ هَذَا أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ " . قَالَ : هَلْ تَدْرُونَ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " إِنَّ هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ " . ثُمَّ قَالَ : " إِنِّي لَعَلِّي لَا أَلْقَاكُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا ، أَلَا وَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا حَتَّى تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ أَلَا فَلْيُبَلِّغْ أَقْصَاكُمْ أَدْنَاكُمْ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " . فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ لَمْ نَلْبَثْ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى مَاتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ طَرَفًا مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ سراء بنت نبھان رضی اللہ عنہا جو زمانہ جاہلیت میں گھر کی مالکن تھیں وہ بیان کرتی ہیں : حجتہ الوداع کے موقع پر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : کیا تم لوگ جانتے ہو یہ کون سا دن ہے وہ خاتون بیان کرتی ہیں یہ وہ دن تھا جسے تم لوگ یوم الروس کہتے ہو لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے فرمایا : یہ ایام تشریق کا درمیانی دن ہے آپ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ مشعر حرام ہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ہو سکتا ہے اس سال کے بعد میں تم لوگوں سے نہ مل پاؤں ، خبردار ! تمہاری جانیں تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لئے قابل احترام ہیں جس طرح تمہارے اس دن کی تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس شہر میں حرمت ہے اور یہ اس وقت تک رہے گا جب تک تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر نہیں ہو جاتے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں حساب لے گا خبردار جو قریب موجود ہے وہ دور موجود تک تبلیغ کر دے کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ( راوی خاتون بیان کرتی ہیں ) جب ہم لوگ مدینہ منورہ آئے تو اس کے تھوڑے ہی عرصے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5646
وَعَنْ جَمْرَةَ بِنْتِ قُحَافَةَ قَالَتْ : كُنْتُ مَعَ أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَا أُمَّتَاهُ هَلْ بَلَّغْتُكُمْ ؟ " . فَقَالَ بُنَيٌّ لَهَا : يَا أُمَهُ مَا لَهُ يَدْعُو أُمَّهُ ؟ قَالَتْ : فَقُلْتُ : إِنَّمَا يَعْنِي أُمَّتَهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : " أَلَا إِنَّ أَعْرَاضَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَازِبٍ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیده جمره بنت قحافہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں حجتہ الوداع کے موقع پر میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تھی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : اے اُمت ! کیا میں نے تمہیں تبلیغ کر دی ہے ؟ راوی خاتون کے ایک بچے نے ان سے دریافت کیا : اے امی جان ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا مراد لے رہے ہیں ؟ وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو خطاب کر رہے ہیں ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : خبردار تمہاری عزتیں تمہارے اموال اور تمہاری جانیں ایک دوسرے کے لئے قابل احترام ہیں جس طرح تمہارے اس دن کی تمہارے اس شہر میں تمہارے اس مہینے میں حرمت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عازب ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عازب ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 5647
وَعَنْ أَبِي قُبَيْلَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي النَّاسِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ : " لَا نَبِيَّ بَعْدِي ، وَلَا أُمَّةَ بَعْدَكُمْ ، فَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ ، وَأَقِيمُوا خَمْسَكُمْ ، وَصُومُوا شَهْرَكُمْ ، وَأَطِيعُوا وُلَاةَ أَمْرِكُمْ ، ثُمَّ ادْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقبیلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجتہ الوداع کے موقوع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں ہو گی تم اپنے پروردگار کی عبادت کرو پانچ نمازیں قائم کرو مخصوص مہینے کے روزے رکھو اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرو پھر تم اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔