حدیث نمبر: 5648
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ مِنًى ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَرَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ فَسَلَّمَا ، ثُمَّ قَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جِئْنَا نَسْأَلُكَ . فَقَالَ : " إِنْ شِئْتُمَا أَخْبَرْتُكُمَا بِمَا جِئْتُمَا تَسْأَلَانِي عَنْهُ فَعَلْتُ ، وَإِنْ شِئْتُمَا أَنْ أُمْسِكَ فَعَلْتُ ؟ " . فَقَالَا : أَخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ الثَّقَفِيُّ لِلْأَنْصَارِيِّ : سَلْ . فَقَالَ : أَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ! ! فَقَالَ : " جِئْتَنِي تَسْأَلُنِي عَنْ مَخْرَجِكَ مِنْ بَيْتِكَ تَؤُمُّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ رَكْعَتَيْكَ بَعْدَ الطَّوَافِ وَمَا لَكَ فِيهِمَا ؟ وَعَنْ طَوَافِكَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ وُقُوفِكَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ رَمْيِكَ الْجِمَارَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ نَحْرِكَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ حَلْقِكَ رَأَسَكَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ طَوَافِكَ بِالْبَيْتِ بَعْدَ ذَلِكَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ مَعَ الْإِفَاضَةِ ؟ " . فَقَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَعَنْ هَذَا جِئْتُ أَسْأَلُكَ . قَالَ : " فَإِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِكَ تَؤُمُّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ لَا تَضَعُ نَاقَتُكَ خُفًّا وَلَا تَرْفَعُهُ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَكَ بِهِ حَسَنَةً ، وَمَحَا عَنْكَ خَطِيئَةً ، وَأَمَّا رَكْعَتَاكَ بَعْدَ الطَّوَافِ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ ، وَأَمَّا طَوَافُكَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ بَعْدَ ذَلِكَ كَعِتْقِ سَبْعِينَ رَقَبَةً ، وَأَمَّا وُقُوفُكَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَهْبِطُ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا فَيُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ يَقُولُ : عِبَادِي جَاءُونِي شُعْثًا مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ يَرْجُونَ جَنَّتِي ، فَلَوْ كَانَتْ ذُنُوبُكُمْ كَعَدَدِ الرَّمْلِ أَوْ كَقَطْرِ الْمَطَرِ أَوْ كَزَبَدِ الْبَحْرِ لَغَفَرَهَا - أَوْ لَغَفَرْتُهَا - أَفِيضُوا عِبَادِي مَغْفُورًا لَكُمْ وَلِمَنْ شَفَعْتُمْ لَهُ . وَأَمَّا رَمْيُكَ الْجِمَارَ فَلَكَ بِكُلِّ حَصَاةٍ رَمَيْتَهَا كَبِيرَةٌ مِنَ الْمُوبِقَاتِ . وَأَمَّا نَحْرُكَ فَمَذْخُورٌ لَكَ عِنْدَ رَبِّكَ . وَأَمَّا حِلَاقُكَ رَأْسَكَ فَلَكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَلَقْتَهَا حَسَنَةٌ وَتُمْحَى عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةٌ . وَأَمَّا طَوَافُكَ بِالْبَيْتِ بَعْدَ ذَلِكَ فَإِنَّكَ تَطُوفُ وَلَا ذَنْبَ لَكَ يَأْتِي مَلَكٌ حَتَّى يَضَعَ يَدَيْهِ بَيْنَ كَتِفِكَ فَيَقُولُ : اعْمَلْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُ فَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا مَضَى " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں مسجد منی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اور ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان دونوں نے سلام کیا پھر ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم آپ سے کچھ دریافت کرنے کے لئے آئے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم چاہو ، تو میں تم دونوں کو یہ بتا دیتا ہوں کہ تم کس چیز کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے ہو اور اگر تم چاہو ، تو میں نہیں بتاتا ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں بتایئے ثقفی شخص نے انصاری سے کہا: تم سوال کرو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتایئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میرے پاس اس بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے ہو کہ تمہارا اپنے گھر سے بیت الحرام کے قصد سے نکلنا اس کا تمہیں کیا اجر ملے گا طواف کے بعد دو رکعت کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں اس کا کیا اجر ملے گا صفا اور مروہ کے چکروں کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں ان کا کیا اجر ملے گا عرفہ کی شام اپنے وقوف کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں اس کا کیا اجر ملے گا جمرات کو تمہارے کنکریاں مارنے کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں اس کا کیا اجر ملے گا اور اپنی قربانی کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں اس کا کیا اجر ملے گا اور اپنے سر مونڈوانے کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں اس کا کیا اجر ملے گا اور اس کے بعد بیت اللہ کے طواف افاضہ کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں اس کا کیا اجر ملے گا ؟ اس شخص نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں اسی بارے میں آپ سے پوچھنے کے لئے آیا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم اپنے گھر سے نکلے اور تمہارا ارادہ بیت الحرام کی طرف جانے کا تھا تو تمہاری اونٹنی نے جو بھی پاؤں رکھا اور جو بھی پاؤں اٹھایا تو اس کے عوض میں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے نیکی نوٹ کی اور تم سے برائی کو مٹا دیا جہاں تک طواف کے بعد کی دو رکعت کا تعلق ہے ، تو یہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے غلام آزاد کرنے کی مانند ہے جہاں تک صفا اور مروہ کی سعی کا تعلق ہے ، تو یہ ستر غلام آزاد کرنے کی مانند ہے جہاں تک عرفہ کی شام تمہارے وقوف کرنے کا تعلق ہے ، تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور تم لوگوں کے حوالے سے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتا ہے اور یہ فرماتا ہے میرے بندے میرے پاس بکھرے ہوئے بال لے کر دور دراز کے علاقوں سے آئے ہیں وہ میری جنت چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ بندوں سے مخاطب ہو کے فرماتا ہے ) اگر تمہارے گناہ ریت کے ذروں جتنے ہوں یا بارش کے قطروں جتنے ہوں یا سمندر کی جھاگ جتنے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کر دے گا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) میں ان کی مغفرت کر دوں گا اے میرے بندو ! تم ایسے واپس جاؤ کہ تمہاری مغفرت ہو چکی ہو اور اس کی بھی مغفرت ہو چکی ہو جس کی تم نے شفاعت کی ہو ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) جہاں تک تمہارے جمرات کو کنکریاں مارنے کا تعلق ہے ، تو ہر کنکری جو تم نے اسے ماری اس کے عوض میں ہلاک کرنے والا ایک کبیرہ گناہ ( معاف ہو جائے گا ) جہاں تک تمہارے قربانی کرنے کا تعلق ہے ، تو وہ تمہارے پروردگار کے پاس سنبھال کے رکھی جائے گی جہاں تک تمہارے اپنے سر کو مونڈوانے کا تعلق ہے ، تو سر مونڈواتے ہوئے ہر ایک بال کے عوض میں تمہیں ایک نیکی ملے گی اور اس کے عوض میں تمہارے ایک گناہ کو مٹا دیا جائے گا جہاں تک اس کے بعد تمہارے بیت اللہ کا طواف کرنے کا تعلق ہے ، تو تم یوں طواف کرو گے کہ تمہارا کوئی گناہ نہیں ہو گا ایک فرشتہ آئے گا وہ اپنے دونوں ہاتھ تمہارے کندھے کے درمیان رکھے گا اور یہ کہے گا اب تم نئے سرے سے عمل کرو کیونکہ گزشتہ ( گناہوں ) کے حوالے سے تو تمہاری مغفرت ہو چکی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 5649
وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي أَوَّلِهِ : جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا مِنَ الْأَنْصَارِ وَالْآخَرُ مِنْ ثَقِيفٍ ، فَسَبَقَهُ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلثَّقَفِيِّ : يَا أَخَا ثَقِيفٍ سَبَقَكَ الْأَنْصَارِيُّ . فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : أَنَا أُبْدِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ : " يَا أَخَا ثَقِيفٍ ، سَلْ عَنْ حَاجَتِكَ ، وَإِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ عَمَّا جِئْتَ تَسْأَلُ عَنْهُ " . قَالَ : فَذَاكَ أَعْجَبُ إِلَيَّ أَنْ تَفْعَلَ . قَالَ : " فَإِنَّكَ تَسْأَلُنِي عَنْ صَلَاتِكَ ، وَعَنْ رُكُوعِكَ ، وَعَنْ سُجُودِكَ ، وَعَنْ صِيَامِكَ ؟ وَتَقُولُ : مَا لِيَ فِيهِ ؟ " . قَالَ : إِي وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ . قَالَ : " فَصَلِّ أَوَّلَ النَّهَارِ وَآخِرَهُ وَنَمْ وَسَطَهُ " . قَالَ : فَإِنْ صَلَّيْتُ وَسَطَهُ ؟ قَالَ : " فَأَنْتَ إِذًا أَنْتَ " . قَالَ : " فَإِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَرَكَعْتَ فَضَعْ يَدَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ ، وَفَرِّجْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ ، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عُضْوٍ إِلَى مَفْصِلِهِ ، وَإِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَنْقُرْ ، وَصُمِ اللَّيَالِيَ الْبَيْضَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ " . ¤ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ مُوَثَّقُونَ . وَقَالَ الْبَزَّارُ : قَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ وُجُوهٍ ، وَلَا نَعْلَمُ لَهُ أَحْسَنَ مِنْ هَذَا الطَّرِيقِ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تا ہم اس کے آغاز میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو افراد حاضر ہوئے ان میں سے ایک کا تعلق انصار سے تھا اور دوسرے کا ثقیف سے تھا انصاری پہلے آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثقفی سے فرمایا : اے ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والے فرد انصاری تم سے سبقت لے گیا ہے انصاری نے کہا: یا رسول اللہ ! میں اسے پہل کا موقع دیتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والے فرد تم اپنی حاجت کے بارے میں سوال کرو اور اگر تم چاہو ، تو میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ تم کس چیز کے بارے میں سوال کرنے کے لئے آئے ہو ؟ اس نے عرض کی : اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو یہ میرے لئے زیادہ پسندیدہ ہو گا ( یا زیادہ حیران کن ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میرے پاس اپنی نماز اپنے رکوع اپنے سجدے اور اپنے روزے کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے ہو کہ تم یہ کہو کہ مجھے اس کا کیا بدلہ ملے گا ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ( ایسا ہی ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم دن کے ابتدائی حصے میں اور آخری حصے میں نماز ادا کرو اور اس کے درمیان میں سو جاؤ اس نے عرض کی : اگر میں درمیانی حصے میں بھی نماز ادا کر لوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر تم ، تم ہو گے ( یعنی اس کے کیا کہنے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو اور رکوع میں جاؤ ، تو دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پر رکھو اور اپنی انگلیاں کشادہ رکھو پھر تم اپنا سر اٹھاؤ یہاں تک کہ ہر عضو اپنے جوڑ پر آ جائے جب تم سجدے میں جاؤ تو اپنی پیشانی کو جما کر زمین پر رکھو تم ٹھونگا نہ مارنا اور تم چمک دار راتوں یعنی تیرہ چودہ اور پندرہ ( تاریخ کے ) روزے رکھو “ ۔
امام بزار کے رجال کی توثیق کی گئی ہے امام بزار فرماتے ہیں : یہ روایت مختلف حوالوں سے نقل کی گئی ہے لیکن ہمارے علم کے مطابق اس سے زیادہ عمدہ سند اور کوئی نہیں ہے ۔
امام بزار کے رجال کی توثیق کی گئی ہے امام بزار فرماتے ہیں : یہ روایت مختلف حوالوں سے نقل کی گئی ہے لیکن ہمارے علم کے مطابق اس سے زیادہ عمدہ سند اور کوئی نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 5650
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ مِنًى فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَرَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ فَسَلَّمَا عَلَيْهِ وَدَعَيَا لَهُ دُعَاءً حَسَنًا . فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جِئْنَا لِنَسْأَلَكَ . فَقَالَ : " إِنْ شِئْتُمَا أَخْبَرْتُكُمَا بِمَا جِئْتُمَا تَسْأَلَانِي عَنْهُ فَعَلْتُ ، وَإِنْ شِئْتُمَا أَسْكُتُ وَتَسْأَلَانِي فَعَلْتُ ؟ " . فَقَالَا : أَخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَزْدَدْ إِيمَانًا أَوْ يَقِينًا ؟ - الشَّكُّ مِنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ : لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا قَالَ : إِيمَانًا أَوْ يَقِينًا - فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلثَّقَفِيِّ : سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! ! فَقَالَ الثَّقَفِيُّ : بَلْ أَنْتَ فَسَلْهُ ، فَإِنِّي أَعْرِفُ لَكَ حَقَّكَ . فَسَأَلَهُ فَقَالَ : أَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ! ! قَالَ : " جِئْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ مَخْرَجِكَ مِنْ بَيْتِكَ تَؤُمُّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ طَوَافِكَ بِالْبَيْتِ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ رَكْعَتَيْكَ بَعْدَ الطَّوَافِ وَمَا لَكَ فِيهِمَا ؟ وَعَنْ طَوَافِكَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ وُقُوفِكَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ رَمْيِكَ الْجِمَارَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ نَحْرِكَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ حَلْقِكَ رَأْسَكَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ طَوَافِكَ بِالْبَيْتِ بَعْدَ ذَلِكَ يَعْنِي - طَوَافَ الْإِفَاضَةِ - ؟ " . قَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ عَنْ هَذَا جِئْتُ أَسْأَلُكَ قَالَ : " فَإِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِكَ تَؤُمُّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ لَا تَضَعُ نَاقَتُكَ خُفًّا وَلَا تَرْفَعُهُ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَكَ بِهِ حَسَنَةً ، وَحَطَّ عَنْكَ بِهِ خَطِيئَةً ، وَرَفَعَكَ دَرَجَةً ، وَأَمَّا رَكْعَتَاكَ بَعْدَ الطَّوَافِ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ ، وَأَمَّا طَوَافُكَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ بَعْدَ ذَلِكَ كَعِتْقِ سَبْعِينَ رَقَبَةً . وَأَمَّا وُقُوفُكَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَهْبِطُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ يَقُولُ : هَؤُلَاءِ عِبَادِي جَاءُوا شُعْثًا شُفَعَاءَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ، يَرْجُونَ رَحْمَتِي وَمَغْفِرَتِي ، فَلَوْ كَانَتْ ذُنُوبُكُمْ كَعَدَدِ الرَّمْلِ وَكَعَدَدِ الْقَطْرِ وَكَزَبَدِ الْبَحْرِ لَغَفَرْتُهَا ، أَفِيضُوا عِبَادِي مَغْفُورًا لَكُمْ وَلِمَنْ شَفَعْتُمْ لَهُ . وَأَمَّا رَمْيُكَ الْجِمَارَ فَلَكَ بِكُلِّ حَصَاةٍ تَرْمِيهَا تَكْفِيرُ كَبِيرَةٍ مِنَ الْكَبَائِرِ الْمُوجِبَاتِ ، وَأَمَّا نَحْرُكَ فَمَدْخُورٌ لَكَ عِنْدَ رَبِّكَ . وَأَمَّا حِلَاقُكَ رَأْسَكَ فَلَكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَلَقْتَهَا حَسَنَةٌ ، وَتُمْحَى عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةٌ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنْ كَانَتِ الذُّنُوبُ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " إِذَنْ يُدَّخَرُ لَكَ فِي حَسَنَاتِكَ ، وَأَمَّا طَوَافُكَ بِالْبَيْتِ بَعْدَ ذَلِكَ - يَعْنِي الْإِفَاضَةَ - فَإِنَّكَ تَطُوفُ وَلَا ذَنْبَ لَكَ : يَأْتِي مَلَكٌ حَتَّى يَضَعَ يَدَيْهِ بَيْنَ كَتِفَيْكَ ثُمَّ يَقُولُ : اعْمَلْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُ فَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا مَضَى ! " . قَالَ الثَّقَفِيُّ : فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ! ! قَالَ : " جِئْتَنِي تَسْأَلُنِي عَنِ الصَّلَاةِ " . قَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ عَنْهَا جِئْتُ أَسْأَلُكَ . قَالَ : " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ فَإِنَّكَ إِذَا تَمَضْمَضْتَ انْتَثَرَتِ الذُّنُوبُ مِنْ مَنْخِرَيْكَ ، وَإِذَا غَسَلْتَ وَجْهَكَ انْتَثَرَتِ الذُّنُوبُ مِنْ شَعْرِ عَيْنَيْكَ ، وَإِذَا غَسَلْتَ يَدَيْكَ انْتَثَرَتِ الذُّنُوبُ مِنْ أَظْفَارِ يَدَيْكَ ، وَإِذَا مَسَحْتَ رَأْسَكَ انْتَثَرَتِ الذُّنُوبُ مِنْ رَأْسِكَ ، وَإِذَا غَسَلْتَ رِجْلَيْكَ انْتَثَرَتِ الذُّنُوبُ مِنْ أَظْفَارِ قَدَمَيْكَ ، ثُمَّ إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَاقْرَأْ مِنَ الْقُرْآنِ مَا شِئْتَ ، ثُمَّ إِذَا رَكَعْتَ فَأَمْكِنْ يَدَيْكَ مِنْ رُكْبَتَيْكَ ، وَأَفْرِجْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ، ثُمَّ إِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ وَجْهَكَ مِنَ السُّجُودِ كُلَّهُ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، وَلَا تَنْقُرْ نَقْرًا وَصَلِّ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ وَآخِرِهِ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ صَلَّيْتُهُ كُلَّهُ ؟ قَالَ : " فَأَنْتَ إِذًا أَنْتَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد منی میں ، اللہ کے رسول کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اور ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان دونوں نے آپ کو سلام کیا اور آپ کو اچھے طریقے سے مخاطب کرتے ہوئے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم آپ سے کچھ دریافت کرنے کے لئے حاضر خدمت ہوئے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم دونوں چاہو ، تو میں تم دونوں کو یہ بتا دیتا ہوں کہ تم دونوں کس چیز کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے ہو اور اگر تم دونوں چاہو ، تو میں خاموش رہتا ہوں تم دونوں مجھ سے سوال کر لو ، تو میں ایسا کر لیتا ہوں ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں بتائیے تاکہ ہمارے ایمان ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) یقین میں اضافہ ہو یہ شک اسماعیل نامی راوی کو ہے وہ کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ ان دونوں میں سے کیا لفظ ہے ایمان یا یقین ( سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) انصاری نے ثقفی شخص سے کہا: تم اللہ کے رسول سے سوال کرو ثقفی نے کہا: جی نہیں ! بلکہ تم سوال کرو کیونکہ میں تمہارے حق سے واقف ہوں انصاری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتائیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم مجھ سے اس بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے ہو کہ تمہارا اپنے گھر سے نکل کر بیت الحرام کی طرف جانے کا قصد کرنا اس کا تمہیں کیا اجر ملے گا اور تمہارے بیت اللہ کا طواف کرنے کا تمہیں کیا اجر ملے گا اور طواف کے بعد تمہارے دو رکعت ادا کرنے کا تمہیں کیا اجر ملے گا اور تمہارے صفا اور مروہ کا طواف کرنے کا تمہیں کیا اجر ملے گا تمہارے عرفہ کی شام وقوف کرنے کا تمہیں کیا اجر ملے گا تمہارے جمرات کو کنکریاں مارنے کا تمہیں کیا اجر ملے گا تمہارے قربانی کا تمہارے کیا اجر ملے گا تمہیں اپنے سر کو مونڈوانے کا تمہیں کیا اجر ملے گا اور اس کے بعد تمہارے بیت اللہ کا طواف کرنے یعنی طواف افاضہ کرنے کا تمہیں کیا اجر ملے گا اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں اسی بارے میں آپ سے پوچھنے کے لئے آیا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم اپنے گھر سے نکلو اور تمہارا قصد بیت الحرام کی طرف جانے کا ہو ، تو تمہاری اونٹنی جو بھی پاؤں رکھے گی اور جو بھی پاؤں اٹھائے گی تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض میں تمہارے لئے ایک نیکی کو نوٹ کرے گا اور اس کی وجہ سے تمہاری ایک برائی کو ختم کر دے گا اور تمہارے درجہ کو بلند کرے گا جہاں تک تمہارے طواف کے بعد دو رکعت ادا کرنے کا تعلق ہے ، تو یہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کی مانند ہے جہاں تک تمہارے اس کے بعد صفا و مروہ کا طواف کرنے کا تعلق ہے ، تو یہ ستر غلام آزاد کرنے کی مانند ہے جہاں تک عرفہ کی شام تمہارے وقوف کرنے کا تعلق ہے ، تو بے شک اللہ تعالی آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور تم لوگوں کے حوالے سے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتے ہوئے یہ ارشاد فرماتا ہے : یہ میرے بندے جو بکھرے ہوئے بال لے کر آئے ہیں دور دراز کے علاقوں سے آئے ہیں یہ میری رحمت اور مغفرت کی امید رکھتے ہیں اگر تم لوگوں کے گناہ ریت کے ذروں جتنے ہوں یا بارش کے قطروں جتنے ہوں یا سمندر کی جھاگ کی مانند ہوں تو میں نے ان کی مغفرت کر دی ۔ اے میرے بندو ! تم ایسی حالت میں واپس جاؤ کہ تمہاری مغفرت ہو چکی ہو اور جس کی تم نے شفاعت کی ہے ، اس کی بھی مغفرت ہو چکی ہو ، جہاں تک تمہارے جمرات کو کنکریاں مارنے کا تعلق ہے ، تو ہر کنکری جو تم نے ماری ہو گی وہ ایک کبیرہ گناہ کا کفارہ بن جائے گی جو ہلاکت کا شکار کر دینے والا ہو جہاں تک قربانی کا تعلق ہے ، تو وہ تمہارے پروردگار کے پاس سنبھال کر رکھی جائے گی جہاں تک تمہارے اپنے سر کو مونڈوانے کا تعلق ہے ، تو تم نے ہر بال جس کو مونڈوایا ہے اس کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی اور اس کی وجہ سے تمہاری ایک خطاء کو ختم کر دیا جائے گا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر گناہ اس سے کم ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس صورت میں اسے تمہاری نیکیوں کے طور پر ذخیرہ کر لیا جائے گا جہاں تک تمہارے اس کے بعد بیت اللہ کا طواف کرنے کا تعلق ہے ( راوی کہتے ہیں : یعنی طواف افاضہ کا تعلق ہے ) تو جب تم طواف کرو گے تو تمہارا کوئی گناہ باقی نہیں ہو گا ایک فرشتہ آئے گا تمہارے دونوں کندھوں کے درمیان اپنے ہاتھ رکھے گا اور پھر یہ کہے گا : آگے تم نئے سرے سے عمل شروع کرو کیونکہ گزشتہ گناہوں کی ، تو مغفرت ہو چکی ہے ۔
ثقفی شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بھی بتائیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم مجھ سے نماز کے بارے میں سوال کرنے کے لئے آئے ہو اس نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں اسی سلسلے میں آپ سے پوچھنے کے لئے آیا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو ، تو اچھی طرح وضو کرو جب تم کلی کرو گے تو تمہارے نتھنوں سے گناہ نکل جائیں گے جب تم اپنا چہرہ دھوؤ گے تو تمہاری آنکھوں سے گناہ نکل جائیں گے جب تم دونوں بازو دھوؤ گے تو تمہارے ناخنوں سے گناہ نکل جائیں گے جب تم اپنے سر کا مسح کرو گے تو تمہارے سر سے گناہ نکل جائیں گے جب تم اپنے پاؤں دھوؤ گے تو تمہارے پاؤں کے ناخنوں سے گناہ نکل جائیں گے پھر جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو ، تو جو چاہو تم قرآن کا وہ حصہ تلاوت کرو پھر جب تم رکوع میں جاؤ تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر جما کے رکھو اپنی انگلیاں کشادہ رکھو یہاں تک کہ اطمینان کے ساتھ رکوع کرو پھر جب تم سجدے میں جاؤ تو سجدے میں اپنی پیشانی کو جما کے رکھو اور اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو اور تم ٹھونگا نہ مارنا تم دن کے ابتدائی اور آخری حصے میں نماز ادا کرو اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر میں پورا دن نماز ادا کرتا رہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر تم ، تم ہو گے ( یعنی اس کے تو کیا کہنے ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن رافع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
ثقفی شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بھی بتائیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم مجھ سے نماز کے بارے میں سوال کرنے کے لئے آئے ہو اس نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں اسی سلسلے میں آپ سے پوچھنے کے لئے آیا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو ، تو اچھی طرح وضو کرو جب تم کلی کرو گے تو تمہارے نتھنوں سے گناہ نکل جائیں گے جب تم اپنا چہرہ دھوؤ گے تو تمہاری آنکھوں سے گناہ نکل جائیں گے جب تم دونوں بازو دھوؤ گے تو تمہارے ناخنوں سے گناہ نکل جائیں گے جب تم اپنے سر کا مسح کرو گے تو تمہارے سر سے گناہ نکل جائیں گے جب تم اپنے پاؤں دھوؤ گے تو تمہارے پاؤں کے ناخنوں سے گناہ نکل جائیں گے پھر جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو ، تو جو چاہو تم قرآن کا وہ حصہ تلاوت کرو پھر جب تم رکوع میں جاؤ تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر جما کے رکھو اپنی انگلیاں کشادہ رکھو یہاں تک کہ اطمینان کے ساتھ رکوع کرو پھر جب تم سجدے میں جاؤ تو سجدے میں اپنی پیشانی کو جما کے رکھو اور اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو اور تم ٹھونگا نہ مارنا تم دن کے ابتدائی اور آخری حصے میں نماز ادا کرو اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر میں پورا دن نماز ادا کرتا رہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر تم ، تم ہو گے ( یعنی اس کے تو کیا کہنے ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن رافع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5651
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَخَطَّى إِلَيْهِ رَجُلَانِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَرَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ ، فَسَبَقَ الْأَنْصَارِيُّ الثَّقَفِيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلثَّقَفِيِّ : " إِنَّ الْأَنْصَارِيَّ قَدْ سَبَقَكَ بِالْمَسْأَلَةِ " . فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : لَعَلَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَكُونَ أَعْجَلَ مِنِّي فَهُوَ فِي حِلٍّ . قَالَ : فَسَأَلَ الثَّقَفِيُّ عَنِ الصَّلَاةِ فَأَخْبَرَهُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِيِّ : " إِنْ شِئْتَ خَبَّرْتُكَ بِمَا جِئْتَ تَسْأَلُ عَنْهُ وَإِنْ شِئْتَ تَسْأَلُنِي فَأُخْبِرُكَ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُخْبِرُنِي ! قَالَ : " جِئْتَ تَسْأَلُنِي مَا لَكَ مِنَ الْأَجْرِ إِذَا أَمَّمْتَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ وَمَا لَكَ مِنَ الْأَجْرِ فِي وُقُوفِكَ فِي عَرَفَةَ ؟ وَمَا لَكَ مِنَ الْأَجْرِ فِي رَمْيِكَ الْجِمَارَ ؟ وَمَا لَكَ مِنَ الْأَجْرِ فِي حَلْقِ رَأْسِكَ ؟ وَمَا لَكَ مِنَ الْأَجْرِ إِذَا وَدَّعْتَ الْبَيْتَ ؟ " . فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ غَيْرِهِ . قَالَ : " فَإِنَّ لَكَ مِنَ الْأَجْرِ إِذَا أَمَّمْتَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ أَنْ لَا تَرْفَعَ قَدَمًا أَوْ تَضَعَهَا أَنْتَ وَدَابَّتُكَ إِلَّا كُتِبَتْ لَكَ حَسَنَةٌ وَرُفِعَتْ لَكَ دَرَجَةٌ . وَأَمَّا وُقُوفُكَ بِعَرَفَةَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ لِمَلَائِكَتِهِ : يَا مَلَائِكَتِي مَا جَاءَ بِعِبَادِي ؟ قَالُوا : جَاءُوا يَلْتَمِسُونَ رِضْوَانَكَ وَالْجَنَّةَ . فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : فَإِنِّي أُشْهِدُ نَفْسِي وَخَلْقِي أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ عَدَدَ أَيَّامِ الدَّهْرِ ، وَعَدَدَ الْقَطْرِ ، وَعَدَدَ رَمْلِ عَالِجٍ . وَأَمَّا رَمْيُكَ الْجِمَارَ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ( فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ) وَأَمَّا حَلْقُكَ رَأْسَكَ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ شَعْرِكَ مِنْ شَعْرَةٍ تَقَعُ فِي الْأَرْضِ إِلَّا كَانَتْ لَكَ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ . وَأَمَّا الْبَيْتُ إِذَا وَدَّعْتَ فَإِنَّكَ تَخْرُجُ مِنْ ذُنُوبِكَ كَيَوْمِ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ شَرُوسٍ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَرْحًا وَلَا تَعْدِيلًا ، وَمَنْ فَوْقَهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اس کے بعد دو آدمی لوگوں کو پھلانگ کر آپ کی خدمت میں آئے ایک شخص کا تعلق انصار سے تھا اور ایک شخص کا تعلق ثقیف قبیلے سے تھا انصاری شخص ثقفی سے سبقت لے گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثقفی سے فرمایا انصاری سوال کرنے کے حوالے سے تم سے سبقت لے گیا ہے انصاری نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہو سکتا ہے کہ اسے مجھ سے زیادہ جلدی ہو ، تو میں اسے اجازت دیتا ہوں راوی بیان کرتے ہیں : ثقفی شخص نے نماز کے بارے میں سوال کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بتایا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری سے فرمایا اگر تم چاہو ، تو میں تمہیں اس بارے میں بتا دیتا ہوں کہ تم کس چیز کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے ہو اور اگر تم چاہو ، تو تم مجھ سے سوال کرو میں تمہیں بتا دوں گا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتایئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم مجھ سے یہ دریافت کرنے کے لئے آئے ہو کہ تمہیں کتنا اجر ملے گا اس چیز کا کہ جب تم بیت العقیق کا قصد کر کے نکلو اور عرفہ میں تمہارے وقوف کرنے کا تمہیں کیا اجر ملے گا اور تمہارے جمرات کو کنکریاں مارنے کا تمہیں کیا اجر ملے گا اور تمہارے سر کو مونڈوانے کا تمہیں کیا اجر ملے گا اور جب تم بیت اللہ سے رخصت ہو گے تو تمہیں کیا اجر ملے گا انصاری نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں آپ کے پاس اسی بارے میں دریافت کرنے کے لئے آیا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم بیت عتیق کا قصد کرو گے تو تمہیں یہ اجر ملے گا کہ تم جو بھی قدم اٹھاؤ گے یا جو بھی رکھو گے خواہ تمہارا قدم ہو یا تمہاری سواری کا قدم ہو ، تو تمہارے لئے ایک نیکی نوٹ کی جائے گی اور تمہارا ایک درجہ بلند کیا جائے گا جہاں تک عرفہ میں تمہارے وقوف کرنے کا تعلق ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے : اے میرے فرشتو ! میرے بندے کیوں آئے ہیں ؟ وہ عرض کرتے ہیں : یہ تیری رضا مندی اور جنت کی تلاش میں آئے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اپنے آپ کو اور اپنی مخلوق کو اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان لوگوں کی مغفرت کر دی ( خواہ ان لوگوں کے گناہ ) دنوں کی تعداد جتنے ہوں یا بارش کے قطروں کی تعداد جتنے ہوں یا ریت کے ذروں کی تعداد جتنے ہوں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) جہاں تک تمہارے جمرات کو کنکریاں مارنے کا تعلق ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” کوئی یہ نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے کیا چیز پوشیدہ رکھی گئی ہے ، جو اس چیز کا بدلہ ہے ، جو وہ عمل کیا کرتے تھے “ ۔ جہاں تک تمہارے اپنے سر کو مونڈوانے کا تعلق ہے ، تو تمہارے بالوں میں سے جو بھی بال زمین پر گرتا ہے وہ تمہارے لئے قیامت کے دن نور ہو گا جہاں تک بیت اللہ سے رخصت ہونے کا تعلق ہے ، تو تم اپنے گناہوں سے یوں نکل جاؤ گے ، جیسے تم اس دن تھے جب تمہاری والدہ نے تمہیں جنم دیا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحیم بن شروس ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کہا: ہے ۔ انہوں نے اس کے بارے میں کوئی جرح یا تعدیل ذکر نہیں کی ہے اس کے اوپر کے راویوں کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحیم بن شروس ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کہا: ہے ۔ انہوں نے اس کے بارے میں کوئی جرح یا تعدیل ذکر نہیں کی ہے اس کے اوپر کے راویوں کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 5652
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَوْ يَعْلَمُ أَهْلُ الْجَمْعِ بِمَنْ حَلُّوا لَاسْتَبْشَرُوا بِالْفَضْلِ بَعْدَ الْمَغْفِرَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اگر اہل جمع کو یہ پتہ چل جائے کہ انہیں کیا نصیب ہوا ہے ، تو وہ مغفرت کے بعد فضیلت کی بھی خوشخبری حاصل کریں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔