کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: منیٰٰ میں تاخیر کا مستحب ہونا
حدیث نمبر: 5618
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : جَاءَتْ رَبِيعَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُونَهُ أَنْ يَنْفِرُوا فِي النَّفْرِ الْأَوَّلِ ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ : قُلْ لِرَبِيعَةَ لَا يَنْفِرُوا فِي النَّفْرِ الْأَوَّلِ فَلَأَقِلَّنَّكَ مِنْ حَبِيبٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ربیعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اجازت مانگی کہ وہ پہلی روانگی میں ہی روانہ ہو جائیں سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام کہا: ہے اور اس نے آپ سے یہ فرمایا ہے : آپ ربیعہ ( قبیلے کے لوگوں سے ) فرما دیں کہ وہ پہلی روانگی میں روانہ نہ ہوں ، ورنہ ان کی باہمی محبت ختم ہو جائے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5618
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف