عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ : " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَطَوَّلَ عَلَيْكُمْ فِي هَذَا الْيَوْمِ فَغَفَرَ لَكُمْ إِلَّا التَّبِعَاتِ فِيمَا بَيْنَكُمْ ، وَوَهَبَ مُسِيئَكُمْ لِمُحْسِنِكُمْ ، وَأَعْطَى مُحْسِنَكُمْ مَا سَأَلَ ، فَادْفَعُوا بِسْمِ اللَّهِ " . فَلَمَّا كَانَ بِجَمْعٍ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لِصَالِحِيكُمْ وَشَفَّعَ صَالِحِيكُمْ فِي طَالِحِيكُمْ ، تَنْزِلُ الرَّحْمَةُ فَتَعُمُّهُمْ ، ثُمَّ تُفَرَّقُ الْمَغْفِرَةُ فِي الْأَرْضِ فَتَقَعُ عَلَى كُلِّ تَائِبٍ مِمَّنْ حَفِظَ لِسَانَهُ وَيَدَهُ ، وَإِبْلِيسُ وَجُنُودُهُ عَلَى جَبَلِ عَرَفَاتٍ ، يَنْظُرُونَ مَا يَصْنَعُ اللَّهُ بِهِمْ ، فَإِذَا نَزَلَتِ الْمَغْفِرَةُ دَعَا هُوَ وَجُنُودُهُ بِالْوَيْلِ ، يَقُولُ : كُنْتُ أَسْتَفِزُّهُمْ حِقَبًا مِنَ الدَّهْرِ ، ثُمَّ جَاءَتِ الْمَغْفِرَةُ فَغَشِيَتْهُمْ ؟ فَيَتَفَرَّقُونَ وَهُمْ يَدْعُونَ بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : عرفہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! بے شک اللہ تعالیٰ نے اس دن میں تم پر کرم کیا اور اس نے تمہاری مغفرت کر دی البتہ تمہارے آپس کے معاملات کا حکم مختلف ہے اس نے تمہارے برے شخص کو تمہارے اچھے کے حوالے کر دیا اور تمہارے اچھے شخص کو وہ چیز عطا کی جو اس نے مانگی تو تم اللہ کا نام لے کر روانہ ہو جاؤ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ پہنچے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے نیک لوگوں کی مغفرت کر دی اور تمہارے نیک لوگوں کی شفاعت کو تمہارے برے لوگوں کے بارے میں قبول کیا رحمت نازل ہوتی ہے اور ان سب کو عام ہوتی ہے پھر مغفرت زمین میں پھیل جاتی ہے اور ہر توبہ کرنے والے شخص پر واقع ہو جاتی ہے ، جو اپنی زبان اور ہاتھ کی حفاظت کرتا ہے ابلیس اور اس کا لشکر عرفات کے پہاڑ پر موجود تھے اور وہ دیکھ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ کیا کر رہا ہے جب مغفرت نازل ہوئی تو ابلیس نے اور اس کے لشکر نے چیخ و پکار شروع کر دی اور یہ کہا: میں ایک عرصہ تک ان لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن مغفرت آئی اور اس نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا پھر وہ شیاطین جب ادھر ادھر پھیلتے ہیں تو وہ تباہی اور بربادی پکار رہے ہوتے ہیں ( یعنی واویلا کر رہے ہوتے ہیں ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ تَطَوَّلَ عَلَى أَهْلِ عَرَفَاتٍ يُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ يَقُولُ : يَا مَلَائِكَتِي انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي شُعْثًا غُبْرًا ، أَقْبَلُوا يَضْرِبُونَ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ، فَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَجَبْتُ دُعَاءَهُمْ ، وَشَفَعْتُ رَعِيَّتَهُمْ ، وَوَهَبْتُ مُسِيئَهُمْ لِمُحْسِنِهِمْ ، وَأَعْطَيْتُ مُحْسِنيهُمْ جَمِيعَ مَا سَأَلُونِي ; غَيْرَ التَّبِعَاتِ الَّتِي بَيْنَهُمْ . فَإِذَا أَفَاضَ الْقَوْمُ إِلَى جَمْعٍ ، وَوَقَفُوا فَعَادُوا فِي الرَّغْبَةِ وَالطَّلَبِ إِلَى اللَّهِ فَيَقُولُ : يَا مَلَائِكَتِي عِبَادِي وَقَفُوا ، فَعَادُوا فِي الرَّغْبَةِ وَالطَّلَبِ ، فَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَجَبْتُ دُعَاءَهُمْ ، وَشَفَعْتُ رَعِيَّتَهُمْ ، وَوَهَبْتُ مُسِيئَهُمْ لِمُحْسِنِهِمْ ، وَأَعْطَيْتُ مُحْسِنَيهُمْ جَمِيعَ مَا سَأَلُونِي ، وَكَفَلْتُ عَنْهُمُ التَّبِعَاتِ الَّتِي بَيْنَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ صَالِحٌ الْمُرِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا بے شک اللہ تعالٰی اہل عرفات کی طرف توجہ فرماتا ہے اور ان کے حوالے سے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتے ہوئے فرماتا ہے : اے فرشتو ! تم میرے بندوں کی طرف دیکھو جو بکھرے ہوئے بالوں کے مالک اور غبار آلود ہیں وہ مختلف علاقوں سے چل کر میری طرف آئے ہیں میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کی دعا کو قبول کیا اور ان کی رعایا کی شفاعت کو قبول کیا اور ان کے برے لوگوں کو ان کے اچھے لوگوں کے حوالے کر دیا اور ان کے اچھے لوگوں کو وہ تمام چیزیں عطا کیں جو انہوں نے مجھ سے مانگیں تھیں البتہ ان کے آپس کے معاملات کا معاملہ مختلف ہے جب لوگ مزدلفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں اور وہاں وقوف کرتے ہیں اور دوبارہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رغبت اور طلب کا اظہار کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے میرے فرشتو میرے بندوں نے وقوف کیا ہوا ہے اور وہ دوبارہ مغفرت اور طلب کا اظہار کر رہے ہیں میں تمہیں گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میں نے ان کی دعا کو قبول کیا اور جس چیز کی یہ دیکھ بھال کر رہے ہیں میں نے اس کے اجر کو زیادہ کر دیا ، اور ان کے برے افراد کو ان کے اچھے افراد کو ہبہ کر دیا ، اور ان کے اچھے افراد کو وہ تمام چیزیں عطا کر دیں جو انہوں نے مجھ سے مانگی تھیں اور میں نے ان کے آپس کے اختلافی معاملات کی بھی کفالت کر دی “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح مری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح مری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔