حدیث نمبر: 5569
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ تَطَوَّلَ عَلَى أَهْلِ عَرَفَاتٍ يُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ يَقُولُ : يَا مَلَائِكَتِي انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي شُعْثًا غُبْرًا ، أَقْبَلُوا يَضْرِبُونَ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ، فَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَجَبْتُ دُعَاءَهُمْ ، وَشَفَعْتُ رَعِيَّتَهُمْ ، وَوَهَبْتُ مُسِيئَهُمْ لِمُحْسِنِهِمْ ، وَأَعْطَيْتُ مُحْسِنيهُمْ جَمِيعَ مَا سَأَلُونِي ; غَيْرَ التَّبِعَاتِ الَّتِي بَيْنَهُمْ . فَإِذَا أَفَاضَ الْقَوْمُ إِلَى جَمْعٍ ، وَوَقَفُوا فَعَادُوا فِي الرَّغْبَةِ وَالطَّلَبِ إِلَى اللَّهِ فَيَقُولُ : يَا مَلَائِكَتِي عِبَادِي وَقَفُوا ، فَعَادُوا فِي الرَّغْبَةِ وَالطَّلَبِ ، فَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَجَبْتُ دُعَاءَهُمْ ، وَشَفَعْتُ رَعِيَّتَهُمْ ، وَوَهَبْتُ مُسِيئَهُمْ لِمُحْسِنِهِمْ ، وَأَعْطَيْتُ مُحْسِنَيهُمْ جَمِيعَ مَا سَأَلُونِي ، وَكَفَلْتُ عَنْهُمُ التَّبِعَاتِ الَّتِي بَيْنَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ صَالِحٌ الْمُرِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا بے شک اللہ تعالٰی اہل عرفات کی طرف توجہ فرماتا ہے اور ان کے حوالے سے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتے ہوئے فرماتا ہے : اے فرشتو ! تم میرے بندوں کی طرف دیکھو جو بکھرے ہوئے بالوں کے مالک اور غبار آلود ہیں وہ مختلف علاقوں سے چل کر میری طرف آئے ہیں میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کی دعا کو قبول کیا اور ان کی رعایا کی شفاعت کو قبول کیا اور ان کے برے لوگوں کو ان کے اچھے لوگوں کے حوالے کر دیا اور ان کے اچھے لوگوں کو وہ تمام چیزیں عطا کیں جو انہوں نے مجھ سے مانگیں تھیں البتہ ان کے آپس کے معاملات کا معاملہ مختلف ہے جب لوگ مزدلفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں اور وہاں وقوف کرتے ہیں اور دوبارہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رغبت اور طلب کا اظہار کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے میرے فرشتو میرے بندوں نے وقوف کیا ہوا ہے اور وہ دوبارہ مغفرت اور طلب کا اظہار کر رہے ہیں میں تمہیں گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میں نے ان کی دعا کو قبول کیا اور جس چیز کی یہ دیکھ بھال کر رہے ہیں میں نے اس کے اجر کو زیادہ کر دیا ، اور ان کے برے افراد کو ان کے اچھے افراد کو ہبہ کر دیا ، اور ان کے اچھے افراد کو وہ تمام چیزیں عطا کر دیں جو انہوں نے مجھ سے مانگی تھیں اور میں نے ان کے آپس کے اختلافی معاملات کی بھی کفالت کر دی “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح مری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5569
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (4106)»