حدیث نمبر: 5559
عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ أَهْلَ الشِّرْكِ وَالْأَوْثَانِ كَانُوا يَدْفَعُونَ مِنْ هَذَا الْمَوْضِعِ إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ عَلَى رُءُوسِ الْجِبَالِ ، كَأَنَّهَا عَمَائِمُ الرِّجَالِ فِي وُجُوهِهَا ، وَإِنَّا نَدْفَعُ بَعْدَ أَنْ تَغِيبَ " . وَكَانُوا يَدْفَعُونَ مِنَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مُنْبَسِطَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں ہمیں خطبہ دیا آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ” اما بعد ! مشرکین اور بت پرست اس جگہ سے واپس چلے جاتے تھے جب سورج پہاڑوں کے سروں پر ہوتا تھا یوں جیسے آدمیوں کے عمامے ہوتے ہیں لیکن ہم اس کے غائب ہونے کے بعد روانہ ہوں گے وہ لوگ مشعر حرام سے جایا کرتے تھے جب سورج ( کی روشنی ) پھیلی ہوئی ہوتی تھی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5560
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ بِعَرَفَةَ أَفَاضَ وَمِنَ الْمُزْدَلِفَةِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرفہ میں جب سورج غروب ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہو گئے اور مزدلفہ سے سورج نکلنے سے پہلے روانہ ہو گئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5561
وَعَنْ مَيْسَرَةَ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ حَجَّ مَعَهُ حَتَّى وَقَفَ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ لَهُ : يَا مَيْسَرَةُ اسْنِدْ فِي الْجَبَلِ . قَالَ : فَفَعَلْتُ . فَلَمَّا أَفَاضَ النَّاسُ ذَهَبْتُ لِأَدْفَعَ نَاقَتِي فَقَالَ لِي : مَهْ عَنَقًا بَيْنَ الْعَنَقَيْنِ . فَلَمَّا قَطَعْتُ الْجَبَلَ قُلْتُ : انْزِلْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : سيْرًا يَا مَيْسَرَةُ . فَلَمَّا دَفَعْنَا إِلَى جَمْعٍ قَامَ فَأَذَّنَ ، ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ، ثُمَّ أَصْبَحْنَا فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ فِي الْمَشْعَرِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ : كَانَ الْمُشْرِكُونَ لَا يُفِيضُونَ مِنْ عَرَفَاتٍ حَتَّى تُعَمَّمَ الشَّمْسُ فِي الْجِبَالِ ، فَيصِيرُ فِي رُءُوسِهَا كَعَمَائِمِ الرِّجَالِ فِي وُجُوهِهِمْ . وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُفِيضُ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ . وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ لَا يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّى يَقُولُونَ : أَشْرَقَ ثُبَيْرٌ . فَلَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَصِيرَ الشَّمْسُ فِي رُءُوسِ الْجِبَالِ كَعَمَائِمِ الرِّجَالِ فِي وُجُوهِهِمْ . وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُفِيضُ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ مَيْسَرَةَ الْأَشْجَعِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
میسرہ اشجعی نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے ۔ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ حج کیا یہاں تک کہ انہوں نے عرفات میں وقوف کیا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میسرہ ! پہاڑ کے ساتھ ٹیک لگا لو میں نے ایسا ہی کیا جب لوگ روانہ ہوئے تو میں بھی اپنی سواری کو روانہ کرنے لگا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا ابھی ٹھہر جاؤ درمیانی رفتار سے چلو جب میں نے پہاڑ پار کر لیا تو میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن آپ اتر جائیں ۔ انہوں نے کہا: اے میسرہ چلتے رہو جب ہم روانہ ہوئے اور مزدلفہ آ گئے تو وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اذان دی پھر انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی اور مغرب کی نماز ادا کی پھر انہوں نے اقامت کہی اور عشاء کی نماز ادا کی پھر جب صبح ہوئی تو انہوں نے اسی طرح کیا جس طرح پہلے مشعر میں کیا تھا پھر انہوں نے یہ بات بیان کی مشرکین عرفات سے اس وقت تک روانہ نہیں ہوتے تھے جب تک سورج پہاڑ کی چوٹی پر نہیں آ جاتا تھا اور وہ پہاڑ کے سرے پر یوں ہوتا تھا جس طرح مردوں کے چہروں پر ان کے عمامے ہوتے ہیں جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک روانہ نہیں ہوتے تھے جب تک یہ غروب نہیں ہو جاتا تھا اور مشرکین مزدلفہ سے اس وقت تک روانہ نہیں ہوتے تھے جب تک وہ یہ نہیں کہ دیتے تھے کہ ثبیر نامی پہاڑ روشن ہو گیا ہے وہ لوگ اس وقت تک روانہ نہیں ہوتے تھے جب تک سورج پہاڑ پر یوں نہیں ہو جاتا تھا جس طرح مردوں کے چہروں پر ان کے عمامے ہوتے ہیں جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی روانہ ہو جاتے تھے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن میسرہ اشجعی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن میسرہ اشجعی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5562
وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَدْفَعُوا يَوْمَ عَرَفَةَ حَتَّى يَدْفَعَ الْإِمَامُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عرفہ کے دن اس وقت تک روانہ نہیں ہونا ، جب تک امام روانہ نہیں ہو جاتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5563
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : حَجَجْنَا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ . قَالَ : فَلَمَّا وَقَفْنَا بِعَرَفَةَ قُلْنَا : غَابَتِ الشَّمْسُ ؟ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : لَوْ أَنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَفَاضَ الْآنَ كَانَ قَدْ أَصَابَ . قَالَ : فَلَا أَدْرِي كَلِمَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ كَانَتْ أَسْرَعَ أَوْ إِفَاضَةُ عُثْمَانَ ؟ قَالَ : فَأَوْضَعَ النَّاسُ ، وَلَمْ يَرِدِ ابْنُ مَسْعُودٍ عَلَى الْعَنَقِ ، حَتَّى أَتَيْنَا جَمْعًا - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں : ہم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں حج کیا راوی کہتے ہیں : جب ہم نے وقوف عرفہ کیا ہوا تھا تو ہم نے دریافت کیا : کیا سورج غروب ہو گیا ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضٰ اللہ عنہ نے فرمایا اگر امیر المؤمنین اس وقت روانہ ہو جائیں تو پھر وہ ٹھیک کریں گے راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ کلمہ زیادہ جلدی تھا یا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی روانگی زیادہ جلدی تھی راوی کہتے ہیں : لوگوں نے اپنی سواریوں کو تیز کیا لیکن سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ درمیانی رفتار سے چلتے رہے یہاں تک کہ ہم مزدلفہ آ گئے “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5564
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ بَدْءُ الْإِيضَاعِ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ; كَانُوا يَقِفُونَ حَافَّتَيِ النَّاسِ حَتَّى يُعَلِّقُوا الْعِصِيَّ وَالْجِعَابَ وَالْقِعَابَ ، فَإِذَا نَفَرُوا تَقَعْقَعَتْ تِلْكَ فَنَفَرُوا بِالنَّاسِ . قَالَ : وَلَقَدْ رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ ذِفْرَئِ نَاقَتِهِ لَتَمَسُّ حَارِكَهَا ، وَهُوَ يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ . يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : تیز رفتاری سے چلنے کا آغاز دیہاتیوں نے کیا تھا وہ لوگوں کے دونوں طرف وقوف کیے ہوئے تھے یہاں تک کہ انہوں نے ترکش اور بڑے پیالے لٹکائے ہوئے تھے ، جب وہ لوگ روانہ ہوئے تو بھگدڑ مچ گئی لوگ بھی روانہ ہو گئے اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا گیا کہ آپ کی اونٹنی کا کان گردن کو چھو رہا تھا اور آپ یہ فرما رہے تھے : اے لوگو ! آرام سے چلو ! اے لوگو ! آرام سے چلو !
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5565
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ ، وَهُوَ يَقُولُ : إِلَيْكَ تَغْدُو قَلِقًا وَضِينُهَا مُخَالِفًا دِينَ النَّصَارَى دِينُهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : وَهُمْ عِنْدِي أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ فِي رَفْعِ هَذَا الْحَدِيثِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّ الْمَشْهُورُ فِي الرِّوَايَةِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّهُ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ ، وَهُوَ يَقُولُ : إِلَيْكَ تَعْدُو قَلِقًا وَضِينُهَا مُخَالِفًا دِينَ النَّصَارَى دِينُهَا
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے روانہ ہوئے تو آپ یہ فرما رہے تھے : ” سنبھل کے ، یہ اس حال میں چل رہی ہے کہ یہ تھک چکی ہے ، اور اس کا دین عیسائیوں کے دین کے برخلاف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے امام طبرانی کہتے ہیں : میرے نزدیک اس روایت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک ” مرفوع “ کرنے میں ابوربیع سمان نامی راوی کو وہم ہوا ہے کیونکہ مشہور روایت جو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے وہ یہ ہے کہ آپ عرفات سے روانہ ہوئے تھے اس وقت آپ یہ کہہ رہے تھے : ” سنبھل کے ، یہ اس حال میں چل رہی ہے کہ یہ تھک چکی ہے ، اور اس کا دین عیسائیوں کے دین کے برخلاف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے امام طبرانی کہتے ہیں : میرے نزدیک اس روایت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک ” مرفوع “ کرنے میں ابوربیع سمان نامی راوی کو وہم ہوا ہے کیونکہ مشہور روایت جو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے وہ یہ ہے کہ آپ عرفات سے روانہ ہوئے تھے اس وقت آپ یہ کہہ رہے تھے : ” سنبھل کے ، یہ اس حال میں چل رہی ہے کہ یہ تھک چکی ہے ، اور اس کا دین عیسائیوں کے دین کے برخلاف ہے “ ۔
حدیث نمبر: 5566
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : أَفَضْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ مِنْ عَرَفَةَ . فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ وَقَفَ - يَعْنِي عُثْمَانَ - فَلَمَّا أَسْفَرَ قَالَ : - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - إِنْ أَصَابَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ دَفَعَ الْآنَ . فَمَا فَرَغَ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ كَلَامِهِ حَتَّى دَفَعَ عُثْمَانُ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ وَهَذَا لَفْظُهُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ عرفات سے روانہ ہوا جب وہ مزدلفہ آئے تو انہوں نے یعنی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے وقوف کیا جب صبح ہو گئی تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر امیر المؤمنین اب روانہ ہو جائیں تو وہ ٹھیک کام کریں گے ابھی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی بات ختم ہی ہوئی تھی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ روانہ ہو گئے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5567
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ بِجَمْعٍ فَلَمَّا أَضَاءَ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَفَاضَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَّالِحِ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں وقوف کیا ہوا تھا سورج کے طلوع ہونے سے پہلے جب ہر چیز آپ کے سامنے روشن ہو گئی تو آپ روانہ ہو گئے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔