حدیث نمبر: 5556
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ أَنَّهُ حَجَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُدْرِكِ النَّاسَ إِلَّا لَيْلًا ، وَهُوَ بِجَمْعٍ فَانْطَلَقَ إِلَى عَرَفَاتٍ ، فَأَفَاضَ مِنْهَا ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَتَى جَمْعًا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْمَلْتُ نَفْسِي ، وَأَنْضَيْتُ رَاحِلَتِي ، فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ ؟ فَقَالَ : " مَنْ صَلَّى مَعَنَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِجَمْعٍ ، وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّى نُفِيضَ ، وَقَدْ أَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا ; فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ ، وَقَضَى تَفَثَهُ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي السُّنَنِ خَلَا رُجُوعِهِ إِلَى عَرَفَةَ وَمَجِيئِهِ مِنْهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُ جَبَلًا مِنَ الْجِبَالِ وَقَفْتُمْ عَلَيْهِ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عروہ بن مضرس بن اوس بن حارثہ بن لام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ، حج کے لئے وہ رات کے وقت لوگوں کے پاس پہنچے جب وہ مزدلفہ میں تھے پھر وہ وہاں سے عرفات چلے گئے پھر وہ واپس آئے تو مزدلفہ آ گئے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ میں نے اپنے آپ کو مصروف رکھا اپنی سواری کو تھکا دیا کیا میرا حج ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے ہمارے ساتھ مزدلفہ میں صبح کی نماز ادا کی اور اس نے ہمارے ساتھ وقوف کیا یہاں تک کہ ہم روانہ ہو گئے وہ اس سے پہلے دن کے وقت یا رات کے وقت عرفات میں سے آ چکا ہو ، تو اس کا حج مکمل ہو گیا اور اس نے اپنے ذمہ لازم چیز کو ادا کر دیا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” سنن “ میں بھی مذکور ہے تاہم اس میں عرفہ کی طرف واپس جانے اور وہاں سے آنے کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” اللہ کی قسم میں نے کوئی بھی پہاڑ نہیں چھوڑا مگر یہ کہ میں اس پر ٹھہرا جس پر بھی آپ لوگ ٹھہرے تھے “ ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت ” سنن “ میں بھی مذکور ہے تاہم اس میں عرفہ کی طرف واپس جانے اور وہاں سے آنے کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” اللہ کی قسم میں نے کوئی بھی پہاڑ نہیں چھوڑا مگر یہ کہ میں اس پر ٹھہرا جس پر بھی آپ لوگ ٹھہرے تھے “ ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5557
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَمْعٍ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، طَوَيْتُ الْجَبَلَيْنِ وَلَقِيتُ شِدَّةً . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَدْرَكَ إِفَاضَتَنَا أَدْرَكَ الْحَجَّ " . ¤ زَادَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ فِي حَدِيثِهِ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْرِخْ رَوْعَكَ ; مَنْ أَدْرَكَ إِفَاضَتَنَا هَذِهِ فَقَدَ أَدْرَكَ الْحَجَّ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي السُّنَنِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . وَقَوْلُهُ : أَفْرِخْ رَوْعَكَ : إِذَا ذَهَبَ عَنْهُ الْحُزْنُ . هَذَا مَعْنَى مَا فِي النِّهَايَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَمْ أَرَ لَهُ حَدِيثًا مُنْكَرًا جَاوَزَ الْحَدَّ إِذَا رَوَى عَنْهُ ثِقَةٌ . وَرَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
معجم کبیر میں امام طبرانی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ مزدلفہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس سے پہلے کہ آپ روانہ ہوتے جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے دونوں پہاڑوں کو لپیٹ دیا اور میں نے شدت کا سامنا کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص ہماری روانگی کو پا لے اس نے حج کو پا لیا ۔ عبداللہ بن أحمد نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنی پریشانی ختم کرو جس شخص نے ہماری اس روانگی کو پا لیا اس نے حج کو پا لیا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” سنن“ میں اس سیاق کے بغیر منقول ہے اور روایت کے یہ الفاظ ” تم اپنی پریشانی ختم کرو “ اس سے مراد یہ ہے کہ جب غم اس سے چلا جائے یہ وہ مفہوم ہے ، جو النہایہ میں بیان ہوا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن یزیداؤدی ہے ابن عدی کہتے ہیں : میں نے اس کے حوالے سے کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی ہے ، جو حد سے تجاوز کرتی ہو جبکہ ثقہ راوی نے اس سے روایت نقل کی ہو اس سے شعبہ اور سفیان نے روایات نقل کی ہیں ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت ” سنن“ میں اس سیاق کے بغیر منقول ہے اور روایت کے یہ الفاظ ” تم اپنی پریشانی ختم کرو “ اس سے مراد یہ ہے کہ جب غم اس سے چلا جائے یہ وہ مفہوم ہے ، جو النہایہ میں بیان ہوا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن یزیداؤدی ہے ابن عدی کہتے ہیں : میں نے اس کے حوالے سے کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی ہے ، جو حد سے تجاوز کرتی ہو جبکہ ثقہ راوی نے اس سے روایت نقل کی ہو اس سے شعبہ اور سفیان نے روایات نقل کی ہیں ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5558
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَكِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ فِي الْأَوْسَطِ : " قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ " . وَلَكِنَّ النُّسْخَةَ سَقِيمَةٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ : " الْحَجُّ عَرَفَاتٍ " . فِي بَابِ الْوُقُوفِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص صبح صادق ہونے سے پہلے عرفہ کو پا لیے اس نے حج کو پا لیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن قیس مکی ہے اور وہ ضعیف اور متروک ہے ۔ معجم اوسط میں ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” سورج طلوع ہونے سے پہلے “ لیکن وہ نسخہ سقم والا ہے ۔ اس سے پہلے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے
یہ روایت گزر چکی ہے ” حج عرفات میں وقوف کا نام ہے “ یہ وقوف سے متعلق باب میں گزری ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن قیس مکی ہے اور وہ ضعیف اور متروک ہے ۔ معجم اوسط میں ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” سورج طلوع ہونے سے پہلے “ لیکن وہ نسخہ سقم والا ہے ۔ اس سے پہلے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے
یہ روایت گزر چکی ہے ” حج عرفات میں وقوف کا نام ہے “ یہ وقوف سے متعلق باب میں گزری ہے ۔