کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: عرفہ کے دن خطبہ دینا
حدیث نمبر: 5555
عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ : انْطَلَقْنَا حُجَّاجًا لَيَالِيَ خَرَجَ يَزِيدُ بْنُ الْمُهَلَّبِ ، وَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ مَاءً بِالْعَالِيَةِ يُقَالُ لَهُ : الزَّجِيحُ ، فَلَمَّا قَضَيْنَا مَنَاسِكَنَا جِئْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الزَّجِيجَ فَأَنَخْنَا رَوَاحِلَنَا ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى بِئْرٍ عَلَيْهَا أَشْيَاخٌ مَخْضُوبُونَ يَتَحَدَّثُونَ ، قُلْنَا : هَذَا الَّذِي صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ بَيْتُهُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ صَحِبَهُ وَهَكَذَا بَيْتُهُ وَأَوْمَئُوا هَذَاكَ بَيْتُهُ . قَالَ : فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الْبَيْتَ فَسَلَّمْنَا ، فَأَذِنَ لَنَا ، فَإِذَا شَيْخٌ كَبِيرٌ مُضْطَجِعٌ يُقَالُ لَهُ : الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدٍ الْكِلَابِيُّ قُلْتُ : أَنْتَ الَّذِي صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَلَوْلَا هُوَ اللَّيْلُ لَأَقْرَأْتُكُمْ كِتَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ فَمَنْ أَنْتُمْ ؟ قُلْنَا : مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ . قَالَ : مَرْحَبًا بِكُمْ مَا فَعَلَ يَزِيدُ بْنُ الْمُهَلَّبِ ؟ قُلْنَا : هُوَ هُنَاكَ يَدْعُو إِلَى كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَسُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : فِيمَا وَهُوَ مِنْ ذَاكَ ؟ قُلْنَا : أَيًّا نَتَّبِعُ هَؤُلَاءِ أَوْ هَؤُلَاءِ - يَعْنِي أَهْلَ الشَّامِ أَوْ يَزِيدَ ؟ - قَالَ : إِنْ تَقْعُدُوا تُفْلِحُوا وَتَرْشُدُوا . وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ ، وَهُوَ قَائِمٌ فِي الرِّكَابَيْنِ يُنَادِي بِأَعْلَى صَوْتِهِ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَيُّ يَوْمٍ يَوْمُكُمْ هَذَا ؟ " . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : أَيُّ شَهْرٍ شَهْرُكُمْ هَذَا ؟ قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " فَأَيُّ بَلَدٍ بَلَدُكُمْ هَذَا ؟ " . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " يَوْمُكُمْ يَوْمٌ حَرَامٌ وَشَهْرُكُمْ شَهْرٌ حَرَامٌ " . قَالَ : فَقَالَ : " أَلَا إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ ; كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ " قَالَ : ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ قَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ " . ذَكَرَ مِرَارًا . فَلَا أَدْرِي كَمْ ذَكَرَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا فِي الرِّكَابَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : بِمَاءٍ يُقَالُ لَهُ : الرَّجِيعُ . وَقَالَ : " أَلَيْسَ هَذَا شَهْرٌ حَرَامٌ وَبَلَدٌ حَرَامٌ وَيَوْمٌ حَرَامٌ ؟ " . وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ مُوَثَّقُونَ . قُلْتُ : وَتَأْتِي بَقِيَّةُ الْخُطَبِ بَعْدَ هَذَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
عبدالمجید عقیلی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حج کرنے کے لئے روانہ ہوئے یزید بن مہلب ( جو ان دنوں گورنر تھے ) وہ بھی تشریف لائے ہمارے سامنے یہ بات بیان کی گئی کہ بالائی علاقے میں ایک چشمہ ہے ، جس کا نام زجیج ہے جب ہم نے مناسک حج ادا کر لیے تو ہم آئے اور زجیج پہنچ گئے وہاں ہم نے اپنی سواریاں بٹھا لیں راوی کہتے ہیں : ہم روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم ایک کنویں کے پاس آئے جس کے پاس کچھ بزرگ موجود تھے جنہوں نے خضاب لگائے ہوئے تھے اور وہ بات چیت کر رہے تھے ہم نے دریافت کیا : وہ صاحب جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ان کا گھر کہاں ہے ان لوگوں نے بتایا جی ہاں ! وہ صاحب جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ان کا گھر وہ ہے ۔ انہوں نے ایک گھر کی طرف اشارہ کر کے یہ بات بیان کی ہم وہاں سے روانہ ہوئے اور اس گھر تک آئے ہم نے سلام کیا انہوں نے ہمیں اندر آنے کی اجازت دی وہ ایک بوڑھے اور عمر رسیدہ شخص تھے اور لیٹے ہوئے تھے ان کا نام سیدنا عداء بن خالد کلابی رضی اللہ عنہ تھا میں نے دریافت کیا : کیا آپ ہی وہ صاحب ہیں جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اگر رات کا وقت نہ ہوتا تو میں تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ مکتوب پڑھاتا جو آپ نے میری طرف بھیجا تھا تم لوگ کون ہو ؟ ہم نے جواب دیا ہم اہل بصرہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا : تم لوگوں کو خوش آمدید ہے یزید بن مہلب کا کیا حال ہے ہم نے جواب دیا وہ یہاں ہے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب اور نبی کی سنت کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا : اس صورت حال میں وہ یہ کام کر رہے ہیں ہم نے کہا: ہمیں کن کی پیروی کرنی چاہیے ان کی یا ان کی یعنی اہل شام کی یا یزید کی ۔ انہوں نے فرمایا : اگر تم بیٹھے رہو گے تو کامیاب ہو گے اور رہنمائی پا لو گے راوی کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق انہوں نے تین مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی عرفہ کے دن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ رکابین میں کھڑے ہوئے تھے اور بلند آواز میں یہ ارشاد فرما رہے تھے : ” اے لوگو ! آج کا دن کون سا دن ہے لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں آپ نے فرمایا : یہ مہینہ کون سا مہینہ ہے لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ شہر کون سا شہر ہے لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا یہ دن حرمت والا دن ہے تمہارا یہ مہینہ حرمت والا مہینہ ہے راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : خبردار تمہاری جانیں اور تمہارے مال ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح تمہارے اس دن کی حرمت اس مہینے میں اس شہر میں ہے اور یہ اس وقت تک قابل احترام رہیں گے جب تک تم پروردگار کی بارگاہ میں حاضر نہیں ہو جاتے تو وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں حساب لے گا راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے اور یہ کہا: اے اللہ ! تو ان لوگوں پر گواہ ہو جا یہ بات آپ نے کئی مرتبہ ارشاد فرمائی مجھے نہیں معلوم آپ نے کتنی مرتبہ یہ ارشاد فرمائی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے یہ حصہ نقل کیا ہے ” میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ رکابین میں کھڑے ہوئے تھے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ پانی جس کا نام رجیع تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا یہ حرمت والا مہینہ اور حرمت والا شہر اور حرمت والا دن نہیں ہے ؟ امام طبرانی کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : خطبے کے بقیہ کلمات آگے چل کر آئیں گے اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5555
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (30/5)»