حدیث نمبر: 5520
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاشِفًا عَنْ ثَوْبِهِ حَتَّى بَلَغَ رُكْبَتَيْهِ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سعی کرتے ہوئے ) کپڑا ہٹایا ہوا تھا یہاں تک کہ وہ آپ کے گھٹنوں تک پہنچ رہا تھا ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5521
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشَى عَامًا وَسَعَى عَامًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سال عام رفتار سے چلے تھے اور ایک سال دوڑے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5522
وَعَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي تَجْراةَ قَالَتْ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَالنَّاسُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَهُوَ وَرَاءَهُمْ ، وَهُوَ يَسْعَى حَتَّى أَرَى رُكْبَتَيْهِ مِنْ شِدَّةِ السَّعْيِ يَدُورُ بِهِ إِزَارُهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : " اسْعَوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ : وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ مِنْ شِدَّةِ السَّعْيِ يَدُورُ الْإِزَارُ حَوْلَ بَطْنِهِ وَفَخِذَيْهِ ، حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ فَخِذَيْهِ . وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ . وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ حبیبہ بنت ابوتجراۃ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرتے ہوئے دیکھا لوگ آپ سے آگے تھے اور آپ لوگوں سے پیچھے تھے اور آپ دوڑ رہے تھے یہاں تک کہ دوڑنے کی شدت کی وجہ سے میں نے آپ کے گھٹنوں کو دیکھا کہ آپ تہبند ان کے گرد پھڑ پھڑا رہا تھا اور آپ یہ فرما رہے تھے : تم لوگ دوڑو ! بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر دوڑنا لازم قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں نے آپ کو دیکھا کہ دوڑنے کی شدت کی وجہ سے آپ کا تہبند آپ کے پیٹ اور آپ کے زانوں کے گرد ہو رہا تھا یہاں تک کہ میں نے آپ کے زانوں کی سفیدی دیکھ لی اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مومل ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں نے آپ کو دیکھا کہ دوڑنے کی شدت کی وجہ سے آپ کا تہبند آپ کے پیٹ اور آپ کے زانوں کے گرد ہو رہا تھا یہاں تک کہ میں نے آپ کے زانوں کی سفیدی دیکھ لی اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مومل ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5523
وَعَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ أَنَّ امْرَأَةً أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ يَقُولُ : " كُتِبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيُ فَاسْعَوْا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
صفیہ بنت شیبہ بیان کرتی ہیں : انہیں ایک خاتون یہ بتایا : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صفا اور مروہ کے درمیان یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : تم پر سعی کو لازم قرار دیا گیا ہے ، تو تم سعی کرو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5524
وَعَنْ تَمْلِكَ قَالَتْ : نَظَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي غُرْفَةٍ لِي بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ فَاسْعَوْا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده تملک رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا میں اس وقت اپنے بالا خانے میں موجود تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفا اور مروہ کے درمیان تھے اور ارشاد فرما رہے تھے بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی کو لازم قرار دیا ہے ، تو تم سعی کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، جسے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، جسے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 5525
وَعَنْ أُمِّ وَلَدِ شَيْبَةَ أَنَّهَا رَأَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَيَقُولُ : " لَا يُقْطَعُ الْأَبْطَحُ إِلَّا شَدًّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
شیبہ کی اُمّم ولد بیان کرتی ہیں اس خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے اور یہ ارشاد فرماتے ہوئے دیکھا ۔ نشیبی حصے کو صرف بھاگ کر پار کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5526
وَعَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْعَوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم سعی کرو ! کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی لازم قرار دی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، جسے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، جسے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 5527
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ فَاسْعَوْا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْمُفَضَّلُ بْنُ صَدَقَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی کو لازم قرار دیا ہے ، تو تم سعی کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مفضل بن صدقہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مفضل بن صدقہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 5528
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : قَامَ عَبْدُ اللَّهِ عَلَى الصَّفَا عِنْدَ صَدْعٍ فِيهِ فَقَالَ : هَاهُنَا - وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ - مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ الْوَلِيدِ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
علقمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ صفا پہاڑ میں موجود ایک پہاڑی پر اس میں موجود ایک شگاف میں کھڑے ہوئے تھے ، انہوں نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، یہاں اس مقام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ولید ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ولید ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 5529
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ إِلَى الصَّفَا مِنْ بَابِ بَنِي مَخْزُومٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو الْقَاسِمِ الْعُمَرِيُّ قَالَ أَحْمَدُ : كَانَ كَذَّابًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باب بنو مخزوم کی طرف سے مسجد میں سے نکل کر صفا پہاڑی کی طرف گئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ ابوالقاسم عمری ہے امام أحمد کہتے ہیں وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ ابوالقاسم عمری ہے امام أحمد کہتے ہیں وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 5530
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَتِ الْأَنْصَارُ : إِنَّ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ جُمَيْعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انصار نے کہا: صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا زمانہ جاہلیت کا کام ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں جو شخص بیت اللہ کا حج کرتا ہے یا عمرہ کرتا ہے ، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر وہ ان دونوں کا طواف کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حفص بن جمیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حفص بن جمیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5531
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا مُنَفَّلَةً ، فَمَنْ تَرَكَ فَلَا بَأْسَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر وہ نفلی طور پر ان دونوں کا طواف کر لیتا ہے اور اگر کوئی اسے ترک کر دے تو کوئی حرج بھی نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباس بن فضل انصاری ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباس بن فضل انصاری ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 5532
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ ؟ قَالَ : صَدَقُوا إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا أُمِرَ بِالْمَنَاسِكِ اعْتَرَضَ عَلَيْهِ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَسْعَى فَسَابَقَهُ فَسَبَقَهُ إِبْرَاهِيمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ - يَأْتِي فِي رَمْيِ الْجِمَارِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ - ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوطفیل بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کی قوم کا یہ کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی تھی اور یہ چیز سنت ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا انہوں نے ٹھیک کہا: ہے جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو مناسک کا حکم دیا گیا تو سعی والی جگہ پر شیطان ان کے سامنے آیا اس نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ دوڑ لگانے کی کوشش کی ، تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام اس سے سبقت لے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو آگے چل کر جمرات کو کنکریاں مارنے سے متعلق باب میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو آگے چل کر جمرات کو کنکریاں مارنے سے متعلق باب میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5533
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَعَى فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادی کے نشیبی حصے میں سعی کر رہے تھے تو آپ یہ دعا کر رہے تھے : ” اے اللہ ! تو مغفرت کر دے اور تو رحم کر دے بے شک تو سب سے زیادہ غلبے والا اور سب سے زیادہ معزز ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حدیث نمبر: 5534
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَارِقِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَمِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَاءَ مَكَانًا مِنْ دَارِ يَعْلَى - نَسَبَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ - اسْتَقْبَلَ الْبَيْتَ فَدَعَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرَوَاهُ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَارِقٍ عَنْ أَبِيهِ . وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَارِقٍ عَنْ أُمِّهِ . وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ هَذَا لَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ وَلَا جَرَّحَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن طارق بن علقمہ نے اپنے چچا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دارابویعلی میں ایک مخصوص مقام پر پہنچے عبیداللہ نامی راوی نے اس کی نسبت بیان کی ہے ( کہ وہ کون سی جگہ تھی ) تو آپ نے بیت اللہ کی طرف رخ کیا اور دعا کی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، انہوں نے اسے عبدالرحمن بن عبداللہ بن طارق کے حوالے سے ان کے والد سے بھی نقل کیا ہے ۔ امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اسے عبدالرحمن بن طارق کے حوالے سے ان کی والدہ سے نقل کیا ہے عبدالرحمن نامی اس راوی کے بارے میں ، میں نے کسی کو نہیں پایا کہ کسی نے اس کی توثیق کی ہو یا اس پر جرح کی ہو اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، انہوں نے اسے عبدالرحمن بن عبداللہ بن طارق کے حوالے سے ان کے والد سے بھی نقل کیا ہے ۔ امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اسے عبدالرحمن بن طارق کے حوالے سے ان کی والدہ سے نقل کیا ہے عبدالرحمن نامی اس راوی کے بارے میں ، میں نے کسی کو نہیں پایا کہ کسی نے اس کی توثیق کی ہو یا اس پر جرح کی ہو اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔