حدیث نمبر: 5535
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ قَالَ : شَهِدْتُ خُطْبَةَ ابْنِ الزُّبَيْرِ بِالْمَوْسِمِ قَالَ : مَا شَعَرْنَا حَتَّى خَرَجَ - عَلَيْنَا قَبْلَ يَوْمِ التَّرْوِيَةِ بِيَوْمٍ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ - رَجُلٌ كَهَيْئَةِ كَهْلٍ جَمِيلٍ ، فَأَقْبَلَ فَقَالُوا : هَذَا - يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - فَرَقِيَ الْمِنْبَرَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ ، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَرَدُّوا عَلَيْهِ السَّلَامَ ثُمَّ لَبَّى بِأَحْسَنِ تَلْبِيَةٍ سَمِعْتُهَا قَطُّ ، ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّكُمْ جِئْتُمْ مِنْ آفَاقٍ شَتَّى وُفُودًا عَلَى اللَّهِ تَعَالَى فَحَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكْرِمَ وَفْدَهُ ، فَمَنْ جَاءَ يَطْلُبُ مَا عِنْدَ اللَّهِ فَإِنَّ طَالِبَ اللَّهِ لَا يَخِيبُ ، فَصَدِّقُوا قَوْلَكُمْ بِفِعْلٍ ، فَإِنَّ مِلَاكَ الْقَوْلِ الْفِعْلُ وَالنِّيَّةَ النِّيَّةَ الْقُلُوبَ ، اللَّهَ اللَّهَ فِي أَيَّامِكُمْ هَذِهِ فَإِنَّهَا أَيَّامٌ يُغْفَرُ فِيهَا الذُّنُوبُ ، جِئْتُمْ مِنْ آفَاقٍ شَتَّى فِي غَيْرِ تِجَارَةٍ وَلَا طَلَبِ مَالٍ وَلَا دُنْيَا تَرْجُونَ هَاهُنَا . ثُمَّ لَبَّى وَلَبَّى النَّاسُ وَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ كَثِيرٍ . ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فِي كِتَابِهِ : الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ قَالَ : وَهِيَ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ : شَوَّالٌ وَذُو الْقَعْدَةِ وَعَشْرٌ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ ( فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ ) لَا جِمَاعَ ( وَلَا فُسُوقَ ) لَا سِبَابَ ( وَلَا جِدَالَ ) لَا مِرَاءَ ( وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى ) . وَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ : لَا جُنَاحٌ عَلَيْكُمْ ( أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ ) فَأَحَلَّ لَهُمُ التِّجَارَةَ . ثُمَّ قَالَ : فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ ، وَهُوَ الْمَوْقِفُ الَّذِي يَقِفُونَ عِنْدَهُ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ ، ثُمَّ يُفِيضُونَ مِنْهُ : فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ قَالَ : وَهِيَ الْجِبَالُ الَّتِي يَقِفُونَ عِنْدَ الْمُزْدَلِفَةَ فَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ قَالَ : لَيْسَ هَذَا يَوْمُ ، هَذَا لِأَهْلِ الْبَلَدِ كَانُوا يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ ، وَيُفِيضُ النَّاسُ مِنْ عَرَفَاتٍ ، فَأَبَى اللَّهُ لَهُمْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ : ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ إِلَى ( مَنَاسِكِكُمْ ) . قَالُوا : وَكَانُوا إِذَا فَرَغُوا مِنْ حَجَّتِهِمْ تَفَاخَرُوا بِالْآبَاءِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعَامٍّ : فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ قَالَ : يَعْمَلُونَ فِي دُنْيَاهُمْ لِآخِرَتِهِمْ زِمَّتَهُمْ وَدُنْيَاهُمْ . قَالَ : ثُمَّ قَرَأَ حَتَّى بَلَغَ وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ ، قَالَ : وَهِيَ أَيَّامُ التَّشْرِيقِ فَذِكْرُ اللَّهِ فِيهِنَّ بِتَسْبِيحٍ وَتَحْمِيدٍ وَتَهْلِيلٍ وَتَكْبِيرٍ وَتَمْجِيدٍ . قَالَ : ثُمَّ ذَكَرَ مَهَلَّ النَّاسِ . قَالَ : مَهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ، وَمَهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنَ الْعَقِيقِ ، وَمَهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ وَأَهْلِ الطَّائِفِ مِنْ قَرْنٍ ، وَأَهْلِ الْيَمَنِ مَنْ يَلَمْلَمَ . قَالَ : ثُمَّ دَعَا عَلَى كَفَرَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقَالَ : اللَّهُمَّ عَذِّبْ كَفَرَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ الَّذِينَ يَجْحَدُونَ بِآيَاتِكَ وَيُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ اللَّهُمَّ عَذِّبْهُمْ ، وَاجْعَلْ قُلُوبَهُمْ قُلُوبَ نِسَاءٍ فَوَاجِرَ - فِي دُعَاءٍ كَثِيرٍ - ثُمَّ قَالَ : إِنَّ هَاهُنَا رِجَالًا قَدْ أَعْمَى اللَّهُ قُلُوبَهُمْ كَمَا أَعْمَى أَبْصَارَهُمْ يُفْتُونَ بِالْمُتْعَةِ بِأَنْ يَقْدِمَ الرَّجُلُ مِنْ خُرَاسَانَ مُهِلًّا بِالْحَجِّ حَتَّى إِذَا قَدِمَ قَالُوا : أَحِلَّ مِنْ حَجِّكَ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ أَهِلَّ بِحَجٍّ مِنْ هَاهُنَا وَاللَّهِ مَا كَانَتِ الْمُتْعَةُ إِلَّا لِمُحْصَرٍ ، ثُمَّ لَبَّى وَلَبَّى النَّاسُ ، فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ كَانَ أَكْثَرَ بَاكِيًا مِنْ يَوْمِئِذٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَفِيهِ غَيْرُهُ مِمَّنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عبداللہ ثقفی بیان کرتے ہیں : حج کے موقع پر میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے خطبہ میں موجود تھا راوی بیان کرتے ہیں : ہمیں پتہ نہیں چلا وہ ترویہ کے دن سے ایک دن پہلے ہمارے پاس تشریف لائے ۔ انہوں نے احرام باندھا ہوا تھا اور وہ خوبصورت ادھیڑ عمر شخص تھے وہ تشریف لائے تو لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین ! وہ منبر پر چڑھے ۔ انہوں نے دو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے ۔ انہوں نے لوگوں کو سلام کیا لوگوں نے انہیں سلام کا جواب دیا پھر انہوں نے تلبیہ پڑھا تو میں نے وہ سب سے زیادہ خوبصورت تلبیہ سنا تھا پھر اس کے بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر یہ ارشاد فرمایا : اما بعد : تم لوگ دور دراز کے علاقوں سے وفد کی شکل میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ہو ، تو یہ بات اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے کہ وہ اپنے مہمانوں کی عزت افزائی کرے جو شخص اس چیز کو حاصل کرنے کے لئے آیا ہے ، جو اللہ تعالیٰ کے پاس موجود ہے ، تو اللہ تعالی سے کوئی چیز مانگنے والا رسوائی کا شکار نہیں ہوتا تم فعل کے ذریعے اپنے قول کی تصدیق کرو کیونکہ قول کی اصل فعل ہے اور نیت کا دھیان رکھو اور نیت کا دھیان رکھو دل کا دھیان رکھو اپنے ان دنوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو اللہ سے ڈرتے رہو کیونکہ یہ ایسے دن ہیں جن میں گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے تم مختلف علاقوں سے آئے ہو اور کسی تجارت کے سلسلے میں یا مال حاصل کرنے کے لئے یا دنیا کے حصول کے لئے یہاں نہیں آئے ہو پھر انہوں نے تلبیہ پڑھا اور لوگوں نے بھی تلبیہ پڑھا پھر انہوں نے بہت سا کلام کیا پھر انہوں نے یہ بات ارشاد فرمائی : اما بعد ! بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ ارشاد فرمایا ہے : ” حج کے متعین مہینے ہیں “ ۔ تو یہ تین مہینے ہیں شوال ، ذوالقعدہ اور ذوالج کے دس دن جو شخص ان میں حج کو فرض قرار دیدے اور رفث نہ کرے ( یعنی صحبت نہ کرے ) اور فسوق نہ کرے یعنی گالی گلوچ نہ کرے اور جدال نہ کرے یعنی جھگڑا نہ کرے اور تم زاد سفر اختیار کرو بے شک سب سے بہتر زاد سفر تقویٰ ہے اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے تم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر تم اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرتے ہو ، تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے تجارت کو حلال قرار دیا ہے پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی : ” جب تم عمرفات سے واپس جاؤ “ ۔ یہ وقوف کی جگہ ہے ، جس کے پاس لوگ اس وقت تک ٹھہرے رہیں گے جب تک سورج غروب نہیں ہو جاتا پھر وہ وہاں سے روانہ ہو جائیں گے تو تم لوگ مشعر حرام کے نزدیک اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اس سے مراد وہ پہاڑ ہیں کہ مزدلفہ کے پاس جس کے پاس لوگ وقوف کرتے ہیں تو تم اس کا اس طرح ذکر کرو جس طرح اس نے تمہیں ہدایت کی ہے ۔ انہوں نے فرمایا : یہ دن وہ نہیں ہے یہ شہر والوں کے لئے جو مزدلفہ سے واپس آ جاتے تھے اور باقی لوگ عرفات سے واپس آیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ہے اس چیز کو باقی نہیں رکھا اور یہ آیت نازل کی : ” پھر تم وہاں سے واپس آؤ جہاں سے لوگ واپس آتے ہیں “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” تمہارے مناسک“ ۔ لوگ جب حج سے فارغ ہوتے تھے تو اپنے آباء اجداد پر فخر کا اظہار کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی تم اللہ تعالیٰ کا یوں ذکر کرو جس طرح تم اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے ہو یا اس سے بھی زیادہ اس کا ذکر کرو لوگوں میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو یہ کہتے ہیں : اے ہمارے پروردگار تو ہمیں دنیا عطا کر دے تو ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا اور ان میں سے کوئی یہ کہتا ہے : اے ہمارے پروردگار تو ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور تو ہمیں آخرت کے عذاب سے بچا لے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا وہ لوگ دنیا میں اپنی آخرت کے لئے عمل کرتے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر انہوں نے آیت تلاوت کی یہاں تک کہ یہ آیت تلاوت کی : ” متعین دنوں میں ، اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو “ ۔ انہوں نے فرمایا : اس سے مراد ایام تشریق ہیں اور ان دنوں میں اللہ تعالیٰ کا ذکر تسبیح کی شکل میں ہو گا الحمدللہ پڑھنے کی شکل میں لا الہ الا اللہ پڑھنے کی شکل میں اللہ اکبر پڑھنے کی شکل میں اور تمجید پڑھنے کی شکل میں ہو گا راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے لوگوں کے مواقیت کا ذکر کیا اور فرمایا : اہل مدینہ کے لئے میقات ذوالحلیفہ ہے اہل عراق کے لئے میقات ، عقیق ہے ۔ اہل نجد اور اہل طائف کے لئے میقات قرن ، اہل یمن کے لئے یلملم ہے راوی بیان کرتے ہیں : پھر انہوں نے اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے کافروں کے خلاف دعا کی اور یہ کہا: اے اللہ ! اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے کافروں پر عذاب نازل فرما جنہوں نے تیری آیات کا انکار کیا تیرے رسولوں کی تکذیب کی اور وہ تیرے راستے سے روکتے ہیں اے اللہ ! تو انہیں عذاب دے اور ان لوگوں کو فاجر عورتوں کے دلوں جیسا کر دے ۔ انہوں نے اس بارے میں بہت دعا کی پھر یہ کہا: یہاں کچھ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے نابینا کر دیا ہے ، جس طرح ان کی بینائی کو ختم کیا ہے وہ حج تمتع کے بارے میں فتوی دیتے ہیں کہ کوئی شخص خراسان سے حج کا احرام باندھ کر آئے یہاں تک کہ جب وہ مکہ آ جائے تو یہ لوگ کہتے ہیں : تم اپنے حج کو عمرہ بنا کر احرام کھول دو اور پھر یہاں سے حج کا احرام باندھ لینا اللہ کی قسم حج تمتع کا حکم اس شخص کے لئے ہے ، جسے محصور کر دیا گیا ہو پھر انہوں نے تلبیہ پڑھا اور لوگوں نے بھی تلبیہ پڑھا راوی کہتے ہیں : میں نے اس دن سے زیادہ رونے والے افراد کبھی نہیں دیکھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن مرزبان ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے اس روایت کی سند میں اس کے علاوہ اور ایسے راوی بھی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن مرزبان ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے اس روایت کی سند میں اس کے علاوہ اور ایسے راوی بھی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔