حدیث نمبر: 5486
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْتِي الرُّكْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مِنْ أَبِي قُبَيْسٍ لَهُ لِسَانٌ وَشَفَتَانِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ : " يَشْهَدُ لِمَنِ اسْتَلَمَهُ بِالْحَقِّ ، وَهُوَ يَمِينُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُصَافِحُ بِهَا خَلْقَهُ " . ¤ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن حجر اسود ، جبل ابوقبیس سے زیادہ بڑا ہو کر آئے گا اس کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” یہ ہر اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے حق کے ہمراہ اس کا استلام کیا ہو گا یہ اللہ تعالیٰ کا دست مبارک ہے ، جس کے ذریعے وہ اپنی مخلوق کے ساتھ مصافحہ کرتا ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مومل ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” یہ ہر اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے حق کے ہمراہ اس کا استلام کیا ہو گا یہ اللہ تعالیٰ کا دست مبارک ہے ، جس کے ذریعے وہ اپنی مخلوق کے ساتھ مصافحہ کرتا ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مومل ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5487
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَشْهِدُوا هَذَا الْحَجَرَ خَيْرًا ; فَإِنَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَافِعٌ مُشَفَّعٌ لَهُ لِسَانٌ وَشَفَتَانِ ، يَشْهَدُ لِمَنِ اسْتَلَمَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس پتھر کے بارے میں بھلائی کی گواہی دو کیونکہ قیامت کے دن یہ شفاعت کرنے والے کے طور پر آئے گا جس کی شفاعت قبول ہو گی اس کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہوں گے یہ ہر اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اس کا استلام کیا ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ولید بن عباد ہے اور وہ مجہول ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ولید بن عباد ہے اور وہ مجہول ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5488
وَعَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنْ حِجَارَةِ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” حجر اسود جنت کے پتھروں میں سے ایک ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابراہیم عبدی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابراہیم عبدی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 5489
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَبْعَثُ اللَّهُ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ وَالرُّكْنَ الْيَمَانِيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَهُمَا عَيْنَانِ وَلِسَانٌ وَشَفَتَانِ ، يَشْهَدَانِ لِمَنِ اسْتَلَمَهُمَا بِالْوَفَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ غَسَّانَ ، وَكِلَاهُمَا لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حجر اسود اور رکن یمانی کو اٹھائے گا ان دونوں کی دو آنکھیں ہوں گی ایک زبان ہو گی دو ہونٹ ہوں گے یہ دونوں اس شخص کے حق میں گواہی دیں گے جس نے مکمل طور پر ان کا استلام کیا ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں بکر بن محمد قرشی کے حوالے سے حارث بن عنسان کے حوالے سے نقل کی ہے ان دونوں راویوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں بکر بن محمد قرشی کے حوالے سے حارث بن عنسان کے حوالے سے نقل کی ہے ان دونوں راویوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 5490
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنْ حِجَارَةِ الْجَنَّةِ ، وَمَا فِي الْأَرْضِ مِنَ الْجَنَّةِ غَيْرُهُ ، وَكَانَ أَبْيَضَ كَالْمَهَا ، وَلَوْلَا مَا مَسَّهُ مِنْ رِجْسِ الْجَاهِلِيَّةِ مَا مَسَّهُ ذُو عَاهَةٍ إِلَّا بَرَأَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” حجر اسود جنت کا پتھر ہے اور زمین میں اس کے علاوہ اور کوئی چیز جنت کی نہیں ہے یہ بالکل سفید تھا اگر اسے جاہلیت کی گندگی نے نہ چھوا ہوتا ، تو اسے جو بھی بیمار شخص چھوتا وہ تندرست ہو جاتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5491
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا مَا طَبَعَ الرُّكْنَ مِنْ أَنْجَاسِ الْجَاهِلِيَّةِ وَأَرْجَاسِهَا وَأَيْدِي الظَّلَمَةِ وَالْأَثَمَةِ ; لَاسْتَشْفَى بِهِ مَنْ كَانَ بِهِ دَاءٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر زمانہ جاہلیت کی گندگی اور ناپاکیوں نے حجر اسود کو نہ چھوا ہوتا اور ظالموں کے اور گناہگاروں کے ہاتھوں نے نہ چھوا ہوتا تو اس کے ذریعے ہر وہ شخص شفاء حاصل کر لیتا جسے کوئی بیماری لاحق ہوتی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ہے میں نے ان کے حالات بیان کرتے ہوئے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ہے میں نے ان کے حالات بیان کرتے ہوئے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 5492
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا مَا طَبَعَ الرُّكْنَ مِنْ أَنْجَاسِ الْجَاهِلِيَّةِ وَأَرْجَاسِهَا ، وَأَيْدِي الظَّلَمَةِ وَالْأَثَمَةِ ; لَاسْتَشْفَى بِهِ مَنْ كَانَ بِهِ عَاهَةٌ وَلَأُلْفِيَ الْيَوْمَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَهُ اللَّهُ ، وَإِنَّمَا غَيَّرَهُ بِالسَّوَادِ ; لِئَلَّا يَنْظُرَ أَهْلُ النَّارِ إِلَى زِينَةِ الْجَنَّةِ وَلَيَصِيرَنَّ إِلَيْهَا ، وَإِنَّهَا لَيَاقُوتَةٌ مِنْ يَاقُوتِ الْجَنَّةِ ، وَضَعَهُ اللَّهُ حِينَ أَنْزَلَ آدَمَ فِي مَوْضِعِ الْكَعْبَةِ ( قَبْلَ أَنْ تَكُونَ الْكَعْبَةُ ) ، وَالْأَرْضُ يَوْمَئِذٍ طَاهِرَةٌ ، وَلَمْ يُعْمَلْ فِيهَا شَيْءٌ مِنَ الْمَعَاصِي ، وَلَيْسَ لَهَا أَهْلٌ يُنَجِّسُونَهَا ، فَوُضِعَ لَهُ صَفٌّ مِنَ الْمَلَائِكَةِ عَلَى أَطْرَافِ الْحَرَمِ يَحْرُسُونَهُ مِنْ سُكَّانِ الْأَرْضِ وَسُكَّانُهَا يَوْمَئِذٍ الْجِنُّ لَا يَنْبَغِي لَهُمْ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَيْهِ ; لِأَنَّهُ شَيْءٌ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَمَنْ نَظَرَ إِلَى شَيْءٍ مِنَ الْجَنَّةِ دَخَلَهَا فَلَيْسَ يَنْبَغِي أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا إِلَّا مَنْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَالْمَلَائِكَةُ يَذُودُونَهُمْ عَنْهُ ، وَهُمْ وُقُوفٌ عَلَى أَطْرَافِ الْحَرَمِ يَقْذِفُونَ بِهِ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ ، وَلِذَلِكَ سُمِّيَ الْحَرَمَ ; لِأَنَّهُمْ يَحُلُّونَ فِيمَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَلَا لَهُ ذِكْرٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” زمانہ جاہلیت کی نجاستوں اور گندگیوں نے اور ظالموں اور گناہگاروں کے ہاتھوں نے اگر حجر اسود کو نہ چھوا ہوتا تو جس شخص کو کوئی تکلیف ہوتی وہ اس کے ذریعے شفاء حاصل کر لیتا اور آج میں اس کو اسی حالت میں پاتا کہ جیسے یہ اس دن تھا جب اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا تھا سیاہی نے اسے متغیر کر دیا ہے تاکہ اہل جہنم جنت کی زینت کو نہ دیکھ سکیں اور اس کی طرف نہ جائیں یہ جنت کا یاقوت تھا اسے اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کی جگہ پر اس وقت رکھا جب اس نے سیدنا آدم علیہ السلام کو ( زمین کی طرف ) نازل کیا یہ خانہ کعبہ کی تعمیر سے پہلے کی بات ہے اس وقت زمین پاک صاف ہوتی تھی اس وقت گناہ کا ارتکاب نہیں کیا جاتا تھا اور اہل زمین نہیں تھے جو اس کو ناپاک کرتے حرم کے اطراف میں فرشتوں کی ایک صف نے اسے رکھا تھا وہ زمین کے رہائشیوں سے اس کی حفاظت کیا کرتے تھے ان دنوں زمین کے رہائشی صرف جنات ہوا کرتے تھے ان کو اس بات کی اجازت نہیں تھی کہ وہ اس کی طرف دیکھ سکیں کیونکہ یہ جنت کی چیز تھی اور جو شخص جنت کی کوئی چیز دیکھے گا وہ جنت میں داخل ہو گا تو انہیں اس بات کا حق نہیں تھا کہ وہ اس کی طرف دیکھیں البتہ اس شخص کو حق تھا جس کے لئے جنت واجب ہو چکی ہو فرشتے جنات کو اس کے پاس آنے سے روکا کرتے تھے اور وہ حرم کے تمام اطراف میں کھڑے رہتے تھے ہر طرف سے آنے والے کو وہ پرے کر دیتے تھے اس وجہ سے اس کا نام حرم رکھا گیا ہے کیونکہ وہ ان لوگوں اور حجر اسود کے درمیان رکاوٹ ڈال دیتے تھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں اور نہ ہی اس کا کوئی تذکرہ ہوا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں اور نہ ہی اس کا کوئی تذکرہ ہوا ہے ۔
حدیث نمبر: 5493
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : نَزَلَ الرُّكْنُ الْأَسْوَدُ مِنَ السَّمَاءِ ، فَوُضِعَ عَلَى أَبِي قُبَيْسٍ كَأَنَّهُ مَهَاةٌ بَيْضَاءُ ، فَمَكَثَ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، ثُمَّ وُضِعَ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجر اسود آسمان سے نازل ہوا تھا اسے جبل ابوقبیس پر رکھا گیا تھا یہ موتی کی مانند سفید تھا یہ چالیس سال اسی طرح رہا پھر اسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں رکھا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔