کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: طواف کرنا رمل کرنا اور استلام کرنا
حدیث نمبر: 5465
عَنْ نَافِعٍ قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا دَخَلَ أَدْنَى الْحَرَمِ أَمْسَكَ عَنِ التَّلْبِيَةِ ، فَإِذَا انْتَهَى إِلَى ذِي طُوًى بَاتَ بِهَا حَتَّى يُصْبِحَ ، ثُمَّ يُصَلِّي الْغَدَاةَ وَيَغْتَسِلُ ، وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ . ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَّةَ ضُحًى فَيَأْتِي الْبَيْتَ فَيَسْتَلِمُ الْحَجَرَ وَيَقُولُ : بِاسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ . ثُمَّ يَرْمُلُ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ يَمْشِي مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ فَإِذَا أَتَى عَلَى الْحَجَرِ اسْتَلَمَهُ وَكَبَّرَ أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ مَشْيًا ، ثُمَّ يَأْتِي الْمَقَامَ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْحَجَرِ فَيَسْتَلِمُهُ ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّفَا مِنَ الْبَابِ الْأَعْظَمِ ، فَيَقُومُ عَلَيْهِ فَيُكَبِّرُ سَبْعَ مَرَّاتٍ ثَلَاثًا يُكَبِّرُ ثُمَّ يَقُولُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب حرم کے قریب پہنچ جاتے تھے تو تلبیہ پڑھنے سے رک جاتے تھے پھر جب وہ ذی طوئی کے مقام پر پہنچ جاتے تھے تو وہاں رات بسر کرتے تھے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی تھی تو وہ صبح کی نماز پڑھنے کے بعد غسل کرتے تھے اور یہ بات بیان کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ہے پھر وہ چاشت کے وقت مکہ میں داخل ہو کے بیت اللہ آتے تھے حجر اسود کا استلام کرتے تھے اور یہ کہتے تھے : اللہ تعالیٰ کے اسم سے برکت حاصل کرتے ہوئے اللہ تعالی سب سے بڑا ہے پھر وہ طواف کے تین چکروں میں رمل کرتے تھے وہ دونوں رکنوں کے درمیان عام رفتار سے پیدل چلتے تھے جب وہ حجر اسود کے پاس آتے تھے تو استلام کرتے تھے اور تکبیر کہتے تھے اور طواف کے چار چکر وہ عام رفتار سے چل کر پورے کرتے تھے پھر وہ مقام ابراہیم کے پاس آ کر دو رکعت ادا کرتے تھے پھر واپس حجر اسود کے پاس جا کر اس کا استلام کرتے تھے پھر بڑے دروازے کی طرف سے صفا کی طرف چلے جاتے تھے وہ اس پر کھڑے ہو کر سات مرتبہ تکبیر کہتے تھے پھر یہ پڑھتے تھے : ” اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے بادشاہی اس کے لئے مخصوص ہے حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اس سے زیادہ اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے جال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5465
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (4628)»
حدیث نمبر: 5466
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَدَّاحُ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ابوزیاد قداح ہے ، جسے امام أحمد اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5466
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (901) اخرجه احمد فى المسند (455/5456)»
حدیث نمبر: 5467
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّ عَنِ الرَّمَلِ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ فَاسْعَوْا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمُفَضَّلُ بْنُ صَدَقَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حج کے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رمل کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے تم پر دوڑنا لازم قرار دیا ہے ، تو تم لوگ دوڑو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مفضل بن صدقہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5467
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (148 مجمع البحرين) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11437)»
حدیث نمبر: 5468
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا اعْتَمَرَ وَكَانَ فِي الطَّرِيقِ قَالَ : " لَوْ أَنَّا نَظَرْنَا إِلَى بَعِيرٍ سَمِينٍ فَنَحَرْنَاهُ فَأَكَلْنَاهُ حَتَّى يَرَوْا قُوَّتَنَا " . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ بِأَزْوَادِ الْقَوْمِ ، ثُمَّ ادْعُ فِيهَا فَإِنَّ اللَّهَ سَيُبَارِكُ فِيهَا . فَفَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَدِمْتُمْ فَارْمُلُوا الثَّلَاثَةَ الْأَشْوَاطَ ( الْأُوَّلَ ) حَتَّى تُرُوا قُوَّتَكُمْ " . وَيَوْمَئِذٍ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَشِّرُوا النَّاسَ أَنَّهُ مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا ، تو آپ راستے میں تھے آپ نے ارشاد فرمایا : اگر ہم کسی موٹے تازے اونٹ کو دیکھیں گے تو اسے ذبح کر لیں گے اور اسے کھا لیں گے تاکہ لوگ ہماری قوت کو دیکھ لیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ لوگوں کے پاس موجود زادراہ منگوائیں اور پھر اس کے بارے میں دعا کریں تو اللہ تعالیٰ اس میں برکت رکھ دے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ ( مکہ ) آؤ تو پہلے تین چکروں میں رمل کرنا تاکہ تم اپنی قوت کو دکھا دو اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں کو یہ خوشخبری دے دو کہ جو شخص «لا اله الا الله» پڑھ لے گا اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5468
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5555 ، 12282)»
حدیث نمبر: 5469
وَعَنْ هِلَالِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فِي السَّعْيِ حَوْلَ الْبَيْتِ فِي الطَّوَافِ الثَّلَاثَةِ يَمْشِي مَا بَيْنَ الرُّكْنِ الْيَمَانِيِّ إِلَى الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ . ثُمَّ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ هِلَالُ بْنُ زَيْدِ بْنِ بُولَا ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ہلال بن زید بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو بیت اللہ کے گرد تین چکروں میں دوڑتے ہوئے دیکھا ہے وہ حج اور عمرہ میں رکن یمانی سے لے کے رکن اسود تک کے درمیان کے حصے میں عام رفتار سے چلتے تھے ۔ انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہلال بن زید بن بولا: ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5469
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (723)»
حدیث نمبر: 5470
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ إِذَا اسْتَلَمَ الْحَجَرَ قَالَ : اللَّهُمَّ إِيمَانًا بِكَ ، وَتَصْدِيقًا بِكِتَابِكَ ، وَاتِّبَاعَ سُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے جب انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا ، تو یہ کہا: ” اے اللہ ! تجھ پر ایمان رکھتے ہوئے تیری کتاب کی تصدیق کرتے ہوئے اور تیرے نبی کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے ( میں ایسا کر رہا ہوں ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5470
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (496)»
حدیث نمبر: 5471
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا اسْتَلَمَ الْحَجَرَ قَالَ : اللَّهُمَّ إِيمَانًا بِكَ ، وَتَصْدِيقًا بِكِتَابِكَ وَسُنَّةِ نَبِيِّكَ . ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب حجر اسود کا استلام کرتے تھے تو یہ پڑھا کرتے تھے : ” اے اللہ ! میں تجھ پر ایمان رکھتے ہوئے تیری کتاب کی تصدیق کرتے ہوئے تیرے نبی کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے ( اس کو بوسہ دے رہا ہوں ) “ اس کے بعد وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5471
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (5617 ، 5971)»
حدیث نمبر: 5472
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ : طُفْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ الرُّكْنِ الَّذِي يَلِي الْبَابَ مِمَّا يَلِي الْحَجَرَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ لِيَسْتَلِمَ فَقَالَ : أَمَا طُفْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : بَلَى . قَالَ : فَهَلْ رَأَيْتَهُ يَسْتَلِمُهُ ؟ قُلْتُ : قَالَ : فَانْفُذْ عَنْكَ ، فَإِنَّ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةً حَسَنَةً . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَرَوَاهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کیا جب میں اس رکن کے پاس موجود تھا جو حجر اسود والی طرف میں دروازے کے پاس ہے ، تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑا تاکہ وہ استلام کریں ، تو انہوں نے فرمایا : کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طواف نہیں کیا ہے میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے فرمایا کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ میں نے کہا: : جی نہیں ! انہوں نے کہا: پھر تم اس سے گزر جاؤ کیونکہ تمہارے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طریقے میں بہترین نمونہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ انہوں نے اسے ایک اور سند کے ساتھ نقل کیا ہے ، جس میں ایک شخص ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5472
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (182) اخرجه احمد فى المسند (2533 ، 13512)»
حدیث نمبر: 5473
وَعَنْ يَعْلَى قَالَ : طُفْتُ مَعَ عُثْمَانَ فَاسْتَلَمْنَا الرُّكْنَ . قَالَ يَعْلَى : فَكُنْتُ مِمَّا يَلِي الْبَيْتَ فَلَمَّا بَلَغْنَا الرُّكْنَ الْغَرْبِيَّ الَّذِي يَلِي الْأَسْوَدَ جَرَرْتُ بِيَدِهِ لِيَسْتَلِمَ قَالَ : مَا شَأْنُكَ ؟ فَقُلْتُ : أَلَا تَسْتَلِمُ ؟ قَالَ : فَقَالَ : أَلَمْ تَطُفْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : بَلَى . قَالَ : وَرَأَيْتَهُ يَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْغَرْبِيَّيْنِ ؟ قُلْتُ : لَا . قَالَ : أَفَلَيْسَ لَكَ فِيهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ؟ ! قُلْتُ : بَلَى . قَالَ : فَانْفُذْ عَنْكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَلَهُ عِنْدَ أَبِي يَعْلَى إِسْنَادَانِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کیا ہم نے رکن یمانی کا استلام کیا سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ان افراد میں سے تھا جو بیت اللہ کی طرف تھے جب ہم رکن مغربی کے پاس پہنچے جو حجر اسود کے ساتھ آتا ہے ، تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا تاکہ وہ استلام کریں ۔ انہوں نے دریافت کیا : کیا ہوا ہے ؟ میں نے کہا: : کیا آپ استلام نہیں کریں گے ؟ انہوں نے دریافت کیا : کیا تم نے اللہ کے رسول کے ساتھ طواف نہیں کیا میں نے کہا: جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دو مغربی رکنوں کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! انہوں نے فرمایا : کیا تمہارے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں بہترین نمونہ نہیں ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے فرمایا پھر تم اس سے آگے گزر جاؤ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس روایت کو دو اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں امام أحمد کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5473
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 5474
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : قَدِمَ مُعَاوِيَةُ وَابْنُ عَبَّاسٍ ، فَاسْتَلَمَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْأَرْكَانَ كُلَّهَا فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : إِنَّمَا اسْتَلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَّيْنِ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَيْسَ مِنْ أَرْكَانِهِ شَيْءٌ مَهْجُورٌ . ¤ قَالَ شُعْبَةُ : النَّاسُ يَخْتَلِفُونَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ . يَقُولُونَ : مُعَاوِيَةُ هُوَ الَّذِي قَالَ لَيْسَ شَيْءٌ مِنَ الْبَيْتِ مَهْجُورٌ . وَلَكِنَّهُ حَفِظَهُ مِنْ قَتَادَةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما آئے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ( خانہ کعبہ کے ) تمام ارکان کا استلام کیا ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یمانی رکنوں کا استلام کیا تھا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا اس کے ارکان میں سے کسی کو چھوڑا نہیں جائے گا ۔ شعبہ نامی راوی کہتے ہیں : لوگوں نے اس روایت میں اختلاف کیا ہے بعض راویوں نے یہ کہا: ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: تھا کہ بیت اللہ کے کسی حصے کو چھوڑا نہیں جائے گا تاہم انہوں نے یہ بات قتادہ کے حوالے سے یاد رکھی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5474
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10631) اخرجه احمد (2210 ، 3074)»
حدیث نمبر: 5475
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ لِابْنِ عُمَرَ : مَا لِي لَا أَرَاكَ تَسْتَلِمُ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ : الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ وَالرُّكْنَ الْيَمَانِيَّ ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : إِنْ أَفْعَلْ فَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اسْتِلَامَهُمَا يَحُطُّ الْخَطَايَا " . ¤ قَالَ : وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : مَنْ طَافَ أُسْبُوعًا يُحْصِيهِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَانَ لَهُ كَعِدْلِ رَقَبَةٍ " . ¤ قَالَ : وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَا رَفَعَ رَجُلٌ قَدَمًا وَلَا وَضَعَهَا إِلَّا كُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ ، وَحُطَّ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ ، وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں : انہوں نے اپنے والد کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ کہتے ہوئے سنا : کیا وجہ ہے ؟ کہ میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ صرف ان دو ارکان یعنی حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام کرتے ہیں ؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا میں ایسا کرتا ہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ان دونوں کا استلام گناہوں کو ختم کر دیتا ہے “ ۔ انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص گنتی کر کے سات چکر لگاتا ہے اور پھر دو رکعت ادا کرتا ہے ، تو یہ اس کے لئے غلام آزاد کرنے کی مانند ہے “ ۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ، جو شخص ایک قدم اٹھاتا ہے اور ایک قدم رکھتا ہے ، تو اس کے عوض میں اسے دس نیکیاں ملتی ہیں اور اس کے دس گناہ ختم ہوتے ہیں اور اس کے دس درجات بلند ہوتے ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5475
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5688 ، 5689)، اخرجه احمد فى المسند (4462)»
حدیث نمبر: 5476
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " يَا عُمَرُ إِنَّكَ رَجُلٌ قَوِيٌّ لَا تُزَاحِمْ عَلَى الْحَجَرِ فَتُؤْذِي الضَّعِيفَ ، إِنْ وَجَدْتَ خَلْوَةً فَاسْتَلِمْهُ ، وَإِلَّا فَاسْتَقْبِلْهُ وَهَلِّلْ وَكَبِّرْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے عمر ! تم ایک طاقتور شخص ہو تم حجر اسود کے پاس اگر ہجوم میں داخل ہو گے تو کمزور شخص کو اذیت پہنچاؤ گے اگر تمہیں جگہ خالی ملے تو تم اس کا استلام کر لینا ورنہ اس کی طرف رُخ کر کے «لا اله الا الله» پڑھ لینا اور تکبیر کہہ لینا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5476
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (190)»
حدیث نمبر: 5477
وَعَنْ أَبِي يَعْفُورٍ الْعَبْدِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا مُنْصَرَفَ الْحُجَّاجِ عَنْ مَكَّةَ يَقُولُ : إِنَّ عُمَرَ كَانَ يُزَاحِمُ عَلَى الرُّكْنِ . ¤ فَذَكَرَ نَحْوَهُ مُرْسَلًا ، فَإِنَّ هَذَا أَبَا يَعْفُورٍ الصَّغِيرَ ، وَلَمْ يُدْرِكِ الصَّحَابَةَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
ابویعفور عبدی بیان کرتے ہیں : مکہ سے حج کر کے واپس آنے والے افراد میں سے ایک شخص کو میں نے یہ بیان کرتے ہوئے سنا : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رکن کے پاس ہجوم میں شامل تھے ۔
انہوں نے اس کی مانند روایت ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے کیونکہ یہ صاحب ابویعفور صغیر ہیں ۔ انہوں نے صحابہ کرام کا زمانہ نہیں پایا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5477
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
حدیث نمبر: 5478
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا الرُّكْنَ الْيَمَانِيَّ وَالْأَسْوَدَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارکان میں سے صرف رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5478
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5479
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ فَعَلْتَ فِي اسْتِلَامِ الرُّكْنَيْنِ ؟ " . قُلْتُ : كُلُّ ذَلِكَ قَدْ فَعَلْتُ اسْتَلَمْتُ وَتَرَكْتُ . فَقَالَ : " أَصَبْتَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ مُتَّصِلًا ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ - أَيْضًا - فِي الْكَبِيرِ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُ الْمُرْسَلِ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَشَيْخُ الْبَزَّارِ فِي الْمَرْفُوعِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْمَاطِيُّ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دو رکنوں کا استلام کرتے ہوئے تم نے کیا کیا ؟ میں نے جواب دیا میں نے دونوں طرح سے کیا ان کا استلام کیا بھی اور ترک بھی کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے ٹھیک کیا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں متصل سند کے ساتھ نقل کی ہے اسے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں ” مرسل “ روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ” مرسل “ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ” مرفوع “ روایت میں امام بزار کے استاد أحمد بن محمد بن سعید انماطی ہیں میں نے کسی کو ان کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5479
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (650) اخرجه البزار فى المسند (1113) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1450) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير 257»
حدیث نمبر: 5480
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَبَّلَ الْحَجَرَ وَسَجَدَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ عَادَ فَقَبَّلَهُ وَسَجَدَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادَيْنِ ، وَفِي أَحَدِهِمَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَخْزُومِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنَ الطَّرِيقِ الْجَيِّدِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے حجر اسود کا بوسہ لیا اور اس پر ماتھا لگایا پھر وہ دوبارہ آئے تو انہوں نے اسے بوسہ دیا اور اس پر ماتھا لگایا پھر یہ بات بیان کی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں ایک راوی جعفر بن محمد مخزومی ہے وہ ثقہ ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں امام بزار نے
یہ روایت عمدہ سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5480
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «ابو يعلى فى المسند (219220)»
حدیث نمبر: 5481
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ الرُّكْنَ ( الْيَمَانِيَّ ) ، وَيَضَعُ خَدَّهُ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکن یمانی کو بوسہ دیتے تھے اور اپنا رخسار اس پر رکھ دیتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مسلم بن ہرمز ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5481
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2605)»
حدیث نمبر: 5482
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَإِذَا ازْدَحَمَ النَّاسُ عَلَى الْحَجَرِ اسْتَلَمَهُ بِمِحْجَنٍ بِيَدِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قُدَامَةَ قَالَ الْبُخَارِيُّ : فِيهِ نَظَرٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سعد بن طارق اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا جب حجر اسود کے پاس لوگوں کا ہجوم ہوتا تھا تو آپ اپنے دست مبارک میں موجود چھڑی کے ذریعے اس کا استلام کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن قدامہ ہے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5482
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8187)»
حدیث نمبر: 5483
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا ذَكَرَ لِابْنِ عُمَرَ الْحَجَرَ وَمَسْحَهُ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَلَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَمْسَحَهُ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : كُنَّا نَقْرَعُهُ بِالْعِصِيِّ إِذَا لَمْ نَسْتَطِعْ مَسْحَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ ، وَبَعْضُهَا رِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
زید بن جبیر بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے حجر اسود کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات بیان کی کہ اگر اس پر ہاتھ پھیرنے کے حوالے سے میرے اور اس کے درمیان رکاوٹ آ جاتی ہے اور ہم اس پر ہاتھ نہیں پھیر پاتے ہیں ( تو اس کا کیا حکم ہو گا ؟ ) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اگر ہم اس پر ہاتھ پھیرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں تو ہم چھڑی کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اس کے بعض رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5483
درجۂ حدیث محدثین: بعض اسانید کے راوی ثقہ ہیں۔
حدیث نمبر: 5484
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : طُوفُوا بِهَذَا الْبَيْتِ ، وَاسْتَلِمُوا هَذَا الْحَجَرَ ، فَإِنَّهُمَا كَانَا حَجَرَيْنِ أُهْبِطَا مِنَ الْجَنَّةِ ; فَرُفِعَ أَحَدُهُمَا ، وَسَيُرْفَعُ الْآخَرُ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ كَمَا قُلْتُ فَمَنْ مَرَّ بِقَبْرِي فَلْيَقُلْ : هَذَا قَبْرُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْكَذَّابِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس گھر کا طواف کرو حجر اسود کا استلام کرو کیونکہ یہ دو پتھر تھے ، جنہیں جنت سے نازل کیا گیا ان میں سے ایک کو اٹھا لیا گیا اور عنقریب دوسرے کو بھی اٹھا لیا جائے گا اگر اس طرح نہ ہوا جس طرح میں نے کہا: ہے تو جو شخص میری قبر کے پاس سے گزرے گا تو وہ یہ کہے : یہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کذاب کی قبر ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5484
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 5485
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَيْضًا قَالَ : نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِهَذَا الْحَجَرِ مِنَ الْجَنَّةِ فَتَمَتَّعُوا بِهِ ، فَإِنَّكُمْ لَا تَزَالُونَ بِخَيْرٍ مَا دَامَ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ، فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ فَيَرْجِعُ بِهِ مِنْ حَيْثُ جَاءَ بِهِ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام جنت سے اس پتھر کو لے کے نازل ہوئے تھے تم اس سے نفع حاصل کر لو کیونکہ تم لوگ اس وقت تک بھلائی پر گامزن رہو گے جب تک یہ تمہارے درمیان موجود رہے گا عنقریب ایسا وقت آئے گا یہ وہاں واپس چلا جائے گا جہاں سے یہ آیا تھا ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5485
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح