حدیث نمبر: 5416
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ عَلَى الصَّدَقَةِ ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مُحْرِمِينَ حَتَّى نَزَلُوا عُسْفَانَ ، فَإِذَا هُمْ بِحِمَارِ وَحْشٍ . وَجَاءَ أَبُو قَتَادَةَ ، وَهُوَ حِلٌّ وَنَكَّسُوا رُءُوسَهُمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُبْدُوا أَبْصَارَهُمْ فَيَعْلَمَ ، فَرَآهُ أَبُو قَتَادَةَ فَرَكِبَ فَرَسَهُ وَأَخَذَ الرُّمْحَ فَسَقَطَ مِنْهُ الرُّمْحُ فَقَالَ : نَاوِلُونِيهِ . فَقَالُوا : نَحْنُ مَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ . فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَعَقَرَهُ ، فَجَعَلُوا يَشْوُونَ مِنْهُ ، ثُمَّ قَالُوا : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا . وَكَانَ تَقَدَّمَهُمْ فَلَحِقُوهُ ، فَسَأَلُوهُ فَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا . قَالَ : فَأَحْسَبُهُ قَالَ : " هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ ؟ " . - شَكَّ عُبَيْدُ اللَّهِ - رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کو صدقہ کی وصولی کے لئے بھیجا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب احرام باندھ کر نکلے یہاں تک کہ انہوں نے عسفان کے مقام پر پڑاؤ کیا وہاں ایک زیبرا موجود تھا سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے انہوں نے احرام نہیں باندھا ہوا تھا لوگوں نے اپنے سروں کو جھکا لیا اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ کہیں ان کی نگاہوں کے ذریعے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو ( شکار کے بارے میں ) پتہ چل جائے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے انہوں نے نیزہ لیا ان کا نیزہ نیچے گر گیا انہوں نے فرمایا : تم لوگ یہ مجھے پکڑا دو تو ان لوگوں نے کہا: ہم اس بارے میں آپ کی مدد نہیں کریں گے پھر سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اس پر حملہ کر کے اسے زخمی کر دیا لوگوں نے اس کا گوشت پکانا شروع کیا ، پھر ان لوگوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں ( اور ہم آپ سے پوچھے بغیر اسے استعمال کرنے لگے ہیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں سے کچھ آگے تھے وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کے ملے اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو آپ نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا تھا : کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ ہے ؟ یہ شک عبیداللہ نامی راوی کو ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5416
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح