کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: خواتین کے لئے ( کیا پہننے کی ) اجازت ہے ، اور کیا چیز انہیں پہننے کا حق نہیں ہے ؟
حدیث نمبر: 5339
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الْمَرْأَةِ حِرْمٌ إِلَّا فِي وَجْهِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عورت کے لئے صرف اپنے چہرے پر احرام نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن محمد یمامی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5339
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5340
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَنْتَقِبُ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ وَلَا تَلْبَسُ الْقُفَّازَيْنِ وَلَا الْبُرْقُعَ ، فَإِنْ أَرَادَتْ أَنْ تُحْرِمَ وَهِيَ حَائِضٌ فَلْتُحْرِمْ وَلْتَقِفِ الْمَوَاقِفَ إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ صُهْبَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” احرام والی عورت نقاب نہیں پہنے گی دستانے نہیں پہنے گی برقعہ نہیں پہنے گی ، اگر وہ حیض کی حالت میں احرام باندھنا چاہتی ہے ، تو وہ احرام باندھ لے گی وہ تمام مواقف میں وقوف کرے گی ۔ صرف بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گی ، اور صفا و مروہ کی سعی نہیں کرے گی “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صھبان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5340
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 5341
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْتَضِبْنَ بِالْحِنَّاءِ وَهُنَّ مُحْرِمَاتٌ ، وَيَلْبَسْنَ الْمُعَصْفَرَ وَهُنَّ مُحْرِمَاتٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ عَطَاءٍ ; وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مہندی لگا لیتی تھیں ، جبکہ انہوں نے احرام باندھا ہوا ہوتا تھا اور معصفر کپڑا پہن لیتی تھیں ، جبکہ انہوں نے احرام باندھا ہوا ہوتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن عطاء ہے ۔ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5341
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11186)»
حدیث نمبر: 5342
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ يَطُفْنَ بِالْبَيْتِ وَعَلَيْهِنَّ مَلَاحِفُ حُمْرٌ ، وَلَيْسَتْ بِالْمُسْبَغَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج بیت اللہ کا طواف کر رہی ہوتی تھیں اور انہوں نے سرخ رنگ کی چادر لی ہوتی تھی جو لٹکی ہوئی نہیں ہوتی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5342
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12410)»
حدیث نمبر: 5343
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ يَلْبَسْنَ الدُّرُوعَ الْمُعَصْفَرَاتِ وَهُنَّ مُحْرِمَاتٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج معصفر قمیصیں پہن لیتی تھیں ، جبکہ وہ احرام میں ہوتی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5343
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (85/24)»
حدیث نمبر: 5344
وَعَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ ، أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ يَجْعَلْنَ عَصَائِبَ فِيهَا الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ ، فَيَعْصِبْنَ بِهَا أَسَافِلَ شُعُورِهِنَّ عَنْ جِبَاهِهِنَّ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمْنَ ، ثُمَّ يُحْرِمْنَ كَذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حُكَيْمَةُ بِنْتُ أُمَيْمَةَ ; رَوَى عَنْهَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَلَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهَا أَحَدٌ ، وَاحْتَجَّ بِرِوَايَتِهَا أَبُو دَاوُدَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواج ایسی پٹیاں باندھ لیتی تھیں جن پر ورس یا زعفران لگا ہوا ہوتا تھا وہ اپنے بالوں کے نیچے ( والے حصے میں ) انہیں باندھ لیتی تھیں اور احرام باندھنے سے پہلے باندھتی تھیں پھر وہ اسی حالت میں احرام باندھ لیتی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خاتون حکیمہ بنت امیمہ ہے ، جن سے ابن جریج نے روایت نقل کی ہے ۔ اس خاتون کے بارے میں کسی نے کلام نہیں کیا ہے ۔ امام ابوداؤد نے اس خاتون کی روایت سے استدلال کیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5344
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (189/24)»
حدیث نمبر: 5345
وَعَنْ حَبَّةَ بِنْتِ عَمْرٍو - وَكَانَتْ قَدْ صَلَّتْ إِلَى الْقِبْلَتَيْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا أَرَادَتْ أَنْ تُحْرِمَ وَضَعَتْ عَيْنَيْهَا فِي حِجْرِهَا ، وَلَبِسَتْ مِنْ ثِيَابِهَا مَا تَشَاءُ وَالْمُعَصْفَرَ فَتُهِلُّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیده حبه بنت عمرو رضی اللہ عنہما جنہیں دونوں قبلوں کی طرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرنے کا شرف حاصل ہے ان کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب وہ احرام باندھنے کا ارادہ کرتی تھیں تو وہ تھیلی اپنی گود میں رکھتی تھیں ، اور جو لباس چاہتی تھیں وہ لباس پہن لیتی تھیں اور معصفر لباس بھی پہن لیتی تھیں پھر احرام باندھتی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5345
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (215/24 و216)»
حدیث نمبر: 5346
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : كُنَّا نَكُونُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ مُحْرِمَاتٌ ، فَيَمُرُّ بِنَا الرَّاكِبُ فَتُسْدِلُ إِحْدَانَا الثَّوْبَ عَلَى وَجْهِهَا مِنْ فَوْقِ رَأْسِهَا . وَرُبَّمَا قَالَتْ : مِنْ فَوْقِ الْخِمَارِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ; وَثَّقَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں ہم نے احرام باندھا ہوا تھا جب کوئی سوار ہمارے پاس سے گزرتا تو ہم اپنا کپڑا سر کے اوپر سے چہرے کی طرف لٹکا لیتی تھیں بعض اوقات انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : اوڑھنی کو چہرے پر ڈال لیتی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، جسے عبداللہ بن مبارک اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5346
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (280/23 و391)»