کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: احرام باندھنے والا شخص کیا پہنے گا ؟
حدیث نمبر: 5335
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا بَأْسَ أَنْ يُحْرِمَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ مَصْبُوغٍ بِزَعْفَرَانٍ قَدْ غُسِلَ ، فَلَيْسَ لَهُ نَفْضٌ وَلَا رَدْعٌ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ کوئی شخص ایسے کپڑے میں احرام باندھ لے ، جسے زعفران کے ذریعے رنگا گیا ہو ، لیکن اسے دھو لیا گیا ہو ، اور اس میں سے نشان جسم کی طرف سرایت نہ کرے ، یا خوشبو کا نشان موجود نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن عبیداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5335
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (2579) اخرجه احمد فى المسند (3314 و3418) اخرجه البزار فى المسند (1087)»
حدیث نمبر: 5336
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا ، وَهُوَ مُحْرِمٌ فَوَجَدَ سَرَاوِيلَ فَلْيَلْبَسْهُ ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص تہبند کو نہیں پاتا اور اس نے احرام باندھا ہوا ہو وہ شلوار کو پا لیتا ہے ، تو وہ اس کو پہن لے اور جو شخص جوتے نہیں پاتا وہ موزے پہن لے ، لیکن وہ ٹخنوں کے نیچے سے انہیں کاٹ لے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5336
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 5337
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ صَوْتَ ابْنِ الْمُغْتَرِفِ - أَوِ الْغَرِفِ - الْحَادِي فِي جَوْفِ اللَّيْلِ وَنَحْنُ مُنْطَلِقُونَ إِلَى مَكَّةَ فَأَوْضَعَ عُمَرُ رَاحِلَتَهُ حَتَّى دَخَلَ ( مَعَ الْقَوْمِ ) ، فَإِذَا هُوَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، فَلَمَّا طَلَعَ الْفَجْرُ قَالَ عُمَرُ : هَيْءَ الْآنَ اسْكُتِ الْآنَ قَدْ طَلَعَ الْفَجْرُ اذْكُرُوا اللَّهَ . قَالَ : ثُمَّ أَبْصَرَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ خُفَّيْنِ قَالَ : وَخُفَّانِ ؟ قَالَ : قَدْ لَبِسْتُهُمَا مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ أَوْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ( فَقَالَ عُمَرُ : عَزَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا نَزَعْتُهُمَا ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَنْظُرَ النَّاسُ إِلَيْكَ فَيَقْتَدُونَ بِكَ ) . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نصف رات کے وقت ابن مغترف ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ابن غرف نے یہ آواز سنی جو حدی پڑھ رہا تھا ہم اس وقت مکہ میں جا رہے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی سواری کو بٹھایا اور لوگوں کے ساتھ آ کے شامل ہوئے وہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، جب صبح صادق ہو گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اب تو تم ( حدی پڑھنے سے ) خاموش ہو جاؤ صبح صادق ہو گئی ہے تم لوگ اللہ کا ذکر کرو راوی بیان کرتے ہیں : پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو موزے پہنے ہوئے دیکھا تو دریافت کیا : کیا آپ نے موزے پہنے ہوئے ہیں ؟ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے ان دونوں کو اس ہستی کے ساتھ پہنا تھا جو آپ سے زیادہ بہتر ہیں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہنا تھا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں آپ کو تاکید کرتا ہوں کہ آپ انہیں اتار دیں کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ لوگ آپ کی طرف دیکھیں گے اور پھر آپ کی پیروی کریں گے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5337
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (1668)»
حدیث نمبر: 5338
وَفِي رِوَايَةٍ : قَدْ لَبِسْتُهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . مِنْ غَيْرِ شَكٍّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” میں نے ان دونوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہنا تھا “ یعنی یہ الفاظ کسی شک کے بغیر ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5338
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (1669)»