کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: احرام باندھنے کے وقت خوشبو لگانا
حدیث نمبر: 5332
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ وَجَدَ رِيحَ طِيبٍ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَقَالَ : مِمَّنْ هَذِهِ الرِّيحُ ؟ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : مِنِّي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ . فَقَالَ : مِنْكَ لَعَمْرِي . قَالَ : طَيَّبَتْنِي أُمُّ حَبِيبَةَ وَزَعَمَتْ أَنَّهَا طَيَّبَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ . قَالَ : اذْهَبْ فَأَقْسِمْ عَلَيْهَا لَمَا غَسَلَتْهُ فَرَجَعَ إِلَيْهَا فَغَسَلَتْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَزَادَ بَعْدَ الْأَمْرِ بِغَسْلِهِ : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الْحَاجَّ الشَّعِثُ التَّفِلُ " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . إِلَّا أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ مُتَّصِلٌ إِلَّا أَنَّ فِيهِ إِبْرَاهِيمَ بْنَ يَزِيدَ الْخُوزِيَّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے ذوالحلیفہ میں خوشبو محسوس کی ، تو فرمایا یہ خوشبو کہاں سے آ رہی ہے ؟ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنین یہ خوشبو مجھ سے آ رہی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے تم سے ہی آ رہی ہے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہ نے مجھے خوشبو لگائی ہے ان کا یہ کہنا تھا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھنے کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی تھی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم جاؤ اور انہیں تاکید کرو کہ وہ اس کو دھو دیں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس واپس گئے تو انہوں نے اسے دھو دیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دھونے کا حکم دیا تو اس کے بعد یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” حاجی بکھرے ہوئے بالوں والا اور خوشبو کے بغیر ہوتا ہے “ ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں البتہ سلیمان بن یسار نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔ امام بزار کی سند متصل ہے ، البتہ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید خوزی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5332
درجۂ حدیث محدثین: منقطع
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (325/6) اخرجه البزار فى المسند (1099)»
حدیث نمبر: 5333
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : تَطَيَّبْ قَبْلَ أَنْ تُحْرِمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں تم احرام باندھنے سے پہلے خوشبوں لگا لو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5333
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11433)»
حدیث نمبر: 5334
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَطَيَّبِي وَأَنْتِ مُحْرِمَةٌ ، وَلَا تَمَسِّي الْحِنَّاءَ ; فَإِنَّهُ طِيبٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اس وقت خوشبو نہ لگاؤ جب تم احرام باندھے ہوئے ہو اور تم مہندی نہ لگاؤ کیونکہ یہ بھی خوشبو ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5334
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (418/23)»