کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جو میقات سے پہلے احرام باندھ لیتا ہے
حدیث نمبر: 5320
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحْرَمَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ دَخَلَ مَغْفُورًا لَهُ " . ¤ قُلْتُ : هَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي نُسْخَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ غَالِبُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعُقَيْلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص بیت المقدس سے احرام باندھتا ہے وہ ایسی حالت میں داخل ہو گا کہ اس کی مغفرت ہو چکی ہو گی “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : دو نسخوں میں ، میں نے
یہ روایت اسی طرح پائی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی غالب بن عبیداللہ عقیلی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت اسی طرح پائی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی غالب بن عبیداللہ عقیلی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 5321
وَعَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ أَحْرَمَ مِنَ الْبَصْرَةِ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ - وَكَانَ قَدْ بَلَغَهُ ذَلِكَ - أَغْلَظَ لَهُ وَقَالَ : يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ مِنْ مِصْرٍ مِنَ الْأَمْصَارِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ . ¤
محمد محی الدین
حسن بصری بیان کرتے ہیں : سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے بصرہ سے احرام باندھا وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں اطلاع دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا ، اور فرمایا : لوگ یہ بات چیت کریں گے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ایک اور شہر سے احرام باندھ لیا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں البتہ حسن نامی راوی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں البتہ حسن نامی راوی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5322
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْهَادِيَةِ قَالَ : لَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ فَقَالَ لِي : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : مِنْ أَهْلِ عُمَانَ . قَالَ : مِنْ أَهْلِ عُمَانَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ! قَالَ : أَفَلَا أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ( قُلْتُ بَلَى ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ) يَقُولُ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ أَرْضًا - يُقَالُ لَهَا : عُمَانُ - يَنْضَحُ بِنَاحِيَتِهَا أَوْ بِجَانِبَيْهَا الْبَحْرُ ، الْحَجَّةُ مِنْهَا أَفْضَلُ مِنْ حَجَّتَيْنِ مِنْ غَيْرِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
حسن بن ہادیہ بیان کرتے ہیں : میری ملاقات سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہوئی انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ میں نے جواب دیا اہل عمان سے انہوں نے دریافت کیا : اہل عمان سے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ انہوں نے فرمایا : کیا میں تمہیں وہ حدیث بیان نہ کروں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں ایک ایسی سرزمین کے بارے میں جانتا ہوں جس کا نام عمان ہے اس کے دونوں طرف سمندر ہے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) وہاں سے حج کرنا اس کے علاوہ کسی اور جگہ سے دو مرتبہ حج کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔