کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کون سے دن سفر کرنا مستحب ہے ؟
حدیث نمبر: 5290
عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا خَرَجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ الْعُقَيْلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تھے تو آپ جمعرات کے دن روانہ ہوتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین عقیلی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5290
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 5291
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِلَى سَفَرٍ أَوْ يَبْعَثُ بَعْثًا إِلَّا يَوْمَ الْخَمِيسِ . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ غَيْرِ حَصْرٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سفر کے لئے نکلتے تھے یا جب بھی کوئی مہم روانہ کرتے تھے تو جمعرات کے دن کرتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ایک حدیث منقول ہے ، جو حصر کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5291
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 5292
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُسَافِرَ يَوْمَ الْخَمِيسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِيَاسٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ فِيمَا يَتَعَلَّقُ بِالسَّفَرِ فِي الْخِصْبِ وَالْجَدْبِ وَالْمُرَافَقَةِ فِي الْجِهَادِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعرات کے دن سفر کے لئے روانہ ہونے کو پسند کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن ایاس ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ہریالی اور خشک سالی کے دوران سفر کرنے اور ساتھ دینے سے متعلق ، جہاد سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5292
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدا
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (259/23)»