حدیث نمبر: 5293
عَنْ ( أَبِي ) رَائِطَةَ بْنِ كَرَامَةَ الْمَذْحِجِيِّ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِقَوْمٍ سَفْرٍ : " لَا يَصْحَبَنَّكُمْ خِلَالٌ مِنْ هَذِهِ النَّعَمِ - ( يَعْنِي ) الضَّوَالِّ ، وَلَا يَصْحَبْنَ أَحَدٌ مِنْكُمْ ضَالَّةً ، وَلَا يَرُدَّنَ سَائِلًا إِنْ كُنْتُمْ تُرِيدُونَ الرِّبْحَ وَالسَّلَامَةَ ، وَلَا يَصْحَبَنَّكُمْ مِنَ النَّاسِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ سَاحِرٌ وَلَا سَاحِرَةٌ ، وَلَا كَاهِنٌ وَلَا كَاهِنَةٌ ، وَلَا مُنَجِّمٌ وَلَا مُنَجِّمَةٌ ، وَلَا شَاعِرٌ وَلَا شَاعِرَةٌ ، وَإِنَّ كُلَّ عَذَابٍ يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُعَذِّبَ بِهِ أَحَدًا مِنْ عِبَادِهِ فَإِنَّمَا يُبْعَثُ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَأَنْهَاكُمْ عَنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ عِشَاءً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ اللِّهْبِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورائطہ بن کرامہ مذحجی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، آپ نے سفر کرنے والے لوگوں سے فرمایا تمہارے ساتھ ان جانوروں میں سے کوئی کمزور جانور نہ ہو ، اور نہ ہی تم میں سے کسی ایک کے ساتھ کوئی گمشدہ جانور ہو اور اگر تم منافع اور سلامتی چاہتے ہو ، تو کسی مانگنے والے کو واپس نہ کرنا اور لوگوں میں سے کوئی ایسا شخص تمہارے ساتھ ہرگز نہ رہے ، جو جادوگر ہو ، یا جادوگر عورت ہو ، یا کاہن مرد ہو ، یا کاہن عورت ہو ، یا نجومی مرد ہو ، یا نجومی عورت ہو ، یا شاعر مرد ہو ، یا شاعر عورت ہو اگر تم اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو بے شک ہر وہ عذاب کے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی ایک کو عذاب دینا چاہیئے ، تو اسے آسمان دنیا کی طرف بھیجا جائے گا ، تو میں تمہیں شام کے وقت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے منع کرتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن ابوعلی لہبی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن ابوعلی لہبی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5294
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ ، إِذْ مَرَّتْ بِهِمْ رُفْقَةٌ يَسِيرُونَ ، سَائِقُهُمْ يَقْرَأُ وَقَائِدُهُمْ يَحْدُو ، فَلَمَّا رَآهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يُهَرْوِلُ بِغَيْرِ رِدَاءٍ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَحْنُ نَكْفِيكَ ؟ فَقَالَ : " دَعُونِي أُبَلِّغْهُمْ مَا أُوحِيَ إِلَيَّ فِي أَمْرِهِمْ " . فَلَحِقَهُمْ فَقَالَ : " أَيْنَ تُرِيدُونَ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ ؟ " . قَالُوا : نُرِيدُ الْيَمَنَ . قَالَ : " فَمَا سَيْرُكُمْ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ فَإِنَّ لِلَّهِ فِي السَّمَاءِ سُلْطَانًا عَظِيمًا يُوَجِّهُهُ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَلَا تَسِرُوا وَلَا خُطْوَةً إِلَّا مَا يَجِدُ الرَّجُلُ فِي بَطْنِهِ وَمَثَانَتِهِ مِنَ الْبَوْلِ الَّذِي لَا نَجِدُ مِنْهُ بُدًّا وَلَا خُطْوَةً ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا سَائِقَ الْقَوْمِ فَعَلَيْكَ بِبَعْضِ كَلَامِ الْعَرَبِ مِنْ رَجَزِهَا ، وَإِذَا كُنْتَ رَاكِبًا فَاقْرَأْ ، وَعَلَيْكَ بِالدُّلْجَةِ ; فَإِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَلَائِكَةً مُوَكَّلِينَ يَطْوُونَ الْأَرْضَ لِلْمُسَافِرِ كَمَا تَطْوُونَ الْقَرَاطِيسَ ، وَبَعْدَ الصُّبْحِ يَحْمَدُ الْقَوْمُ السُّرَى ، وَلَا يَصْحَبَنَّكُمْ شَاعِرٌ وَلَا كَاهِنٌ ، وَلَا يَصْحَبَنَّكُمْ ضَالَّةٌ ، وَلَا تَرُدُّنَّ سَائِلًا إِنْ أَرَدْتُمُ الرِّبْحَ وَالسَّلَامَةَ وَحُسْنَ الصَّحَابَةِ ، فَعَجَبٌ لِي كَيْفَ أَنَامُ حِينَ تَنَامُ الْعُيُونُ كُلُّهَا ؟ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْهَاكُمْ عَنِ السَّيْرِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَهُوَ فِي النُّسْخَةِ كَمَا هَاهُنَا ، وَلَكِنَّهَا غَيْرُ مُقَابَلَةٍ ، وَفِيهِ سُلَيْمٌ أَبُو سَلَمَةَ صَاحِبُ الشَّعْبِيِّ وَمَوْلَاهُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَمْ أَرَ لَهُ حَدِيثًا مُنْكَرًا ، وَإِنَّمَا عِيبَ الْأَسَانِيدَ لَا يُتْقِنُهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد تشریف فرما تھے آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب موجود تھے اسی دوران کچھ مسافر چلتے ہوئے وہاں سے گزرے جو شخص انہیں ہانک کے لے جا رہا تھا وہ تلاوت کر رہا تھا جو شخص ان کے آگے چل رہا تھا وہ حدی پڑھ رہا تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو آپ تیزی سے اٹھ کر چادر لئے بغیر بڑھے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم آپ کی جگہ چلے جاتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم رہنے دو میں انہیں اس چیز کی تبلیغ کروں گا ، جو ان کے بارے میں مجھے تبلیغ کی گئی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں تک پہنچے آپ نے ارشاد فرمایا : اس گھڑی میں تم لوگ کہاں جا رہے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : ہم یمن جا رہے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس گھڑی میں تم کیوں سفر کر رہے ہو ؟ بے شک اللہ تعالیٰ کی آسمان میں عظیم بادشاہی ہے ، جسے وہ زمین والوں کی طرف بھیجتا ہے ، تو تم جب سفر کرو گے تو جو بھی قدم اٹھاؤ گے تو اس آدمی کو اپنے پیٹ اور مثانے میں ایسا پیشاب محسوس ہو گا کہ جس کو روکے بغیر نہیں جا سکے گا ، اور اے لوگوں کو ہانک کر لے جانے والے تم پر یہ لازم ہے کہ تم عرب کے کلام میں سے رجز کے طور پر کچھ پڑھ لو اور جب تم سوار ہو اس وقت قرأت کرو اور تم لوگوں پر رات میں سفر کرنا لازم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے فرشتے ہیں ، جو اس بات کے لئے مقرر ہیں کہ وہ مسافر کے لئے زمین کو یوں لپیٹ دیتے ہیں ، جس طرح تم لوگ کاغذ کو لپیٹتے ہو اور صبح ہو جانے کے بعد لوگ رات کے سفر کی تعریف کرتے ہیں ، تمہارے ساتھ کوئی شاعر یا کوئی کاہن نہ رہے ، اور تمہارے ساتھ کوئی گمشدہ جانور نہ ہو ، اور تم کسی مانگنے والے کو واپس نہ کرنا اور تم منافع اور سلامتی اور اچھا ساتھ چاہتے ہو ، اور مجھے حیرت ہوتی ہے کہ میں کیسے سو جاتا ہوں جب تمام آنکھیں سوئی ہوتی ہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو اس گھڑی میں سفر کرنے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور یہ نسخے میں اسی طرح ہے ، جس طرح یہاں ہے ، لیکن یہ مقابلہ کے بغیر ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیم ابوسلمہ ہے ، جو امام شعبی کا شاگرد اور ان کا غلام ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : میں نے ان کے حوالے سے کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی ہے ، لیکن اسانید کا عیب اسے ” معتقن“ نہیں کرتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور یہ نسخے میں اسی طرح ہے ، جس طرح یہاں ہے ، لیکن یہ مقابلہ کے بغیر ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیم ابوسلمہ ہے ، جو امام شعبی کا شاگرد اور ان کا غلام ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : میں نے ان کے حوالے سے کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی ہے ، لیکن اسانید کا عیب اسے ” معتقن“ نہیں کرتا ہے ۔
حدیث نمبر: 5295
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَخْصَبَتِ الْأَرْضُ فَانْزِلُوا عَنْ ظَهْرِكُمْ فَأَعْطُوهُ حَقَّهُ مِنَ الْكَلَأِ ، وَإِذَا أَجْدَبَتِ الْأَرْضُ فَانْجُوا عَلَيْهَا بِنَقْبِهَا ، وَعَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ ; فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَالدَّارَقُطْنِيُّ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا رُوَيْمٍ الْمِعْوَلِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب زمین ہریالی ہو ، تو تم اپنی سواریوں سے اترو اور گھاس پھوس کے حوالے سے انہیں ان کا حق دو اور جب زمین میں خشک سالی ہو ، تو تم تیزی سے وہاں سے گزر جاؤ تم پر رات کے وقت سفر کرنا لازم ہے کیونکہ رات میں زمین کو لپیٹ دیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حمید بن ربیع ہے ۔ امام أحمد اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف رویم معولی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حمید بن ربیع ہے ۔ امام أحمد اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف رویم معولی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 5296
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كُنْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَمْكِنُوا الرُّكُبَ أَسِنَّتَهَا وَلَا تَعْدُو الْمَنَازِلَ ، وَإِذَا كُنْتُمْ فِي الْجَدْبِ فَاسْتَنْجُوا ، وَعَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ ; فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ ، وَإِذَا تَغَوَّلَتِ الْغِيلَانُ فَبَادُوا بِالْأَذَانِ وَلَا تُصَلُّوا عَلَى جَوَادِّ الطَّرِيقِ وَلَا تَنْزِلُوا عَلَيْهَا ، فَإِنَّهَا مَأْوَى الْحَيَّاتِ وَالسِّبَاعِ ، وَلَا تَقْضُوا عَلَيْهَا الْحَوَائِجَ ; فَإِنَّهَا الْمَلَاعِنُ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ . ¤ وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَبَقِيَّةُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فِي الْجِهَادِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم ہریالی میں سفر کر رہے ہو ، تو تم سواریوں کو کھانے پینے کا موقع دو اور پڑاؤ کی جگہ سے آگے نہ گزر جاؤ اور جب تم خشک سالی میں سفر کر رہے ہو ، تو گزر جاؤ اور تم پر رات کے وقت سفر کرنا لازم ہے کیونکہ رات میں زمین کو لپیٹ دیا جاتا ہے ، اور جب غیلان گھوم رہے ہوں تو تم اذان دو اور راستے کے درمیان میں نماز ادا نہ کرو اور وہاں پر پڑاؤ نہ کرو کیونکہ وہ سانپوں اور درندوں کے ٹھکانے ہوتے ہیں وہاں پر پاخانہ یا پیشاب نہ کرو کیونکہ وہ وہاں لعنت کا کام ہو گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے بہت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں اس بارے میں بقیہ احادیث جہاد سے متعلق باب میں آئیں گی ۔
یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے بہت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں اس بارے میں بقیہ احادیث جہاد سے متعلق باب میں آئیں گی ۔
حدیث نمبر: 5297
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُحِبُّهُمُ اللَّهُ : رَجُلٌ نَزَلَ بَيْتًا خَرِبًا ، وَرَجُلٌ نَزَلَ عَلَى طَرِيقِ السُّبُلِ ، وَرَجُلٌ أَرْسَلَ دَابَّتَهُ ثُمَّ جَعَلَ يَدْعُو اللَّهَ أَنْ يَحْبِسَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ ; وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عائذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین افراد ایسے ہیں جن سے اللہ تعالی محبت نہیں کرتا وہ شخص جو کسی کھنڈر گھر میں پڑاؤ کرتا ہے وہ شخص جو راستے میں پڑاؤ کرتا ہے ، اور وہ شخص جو اپنی سواری کو کھلا چھوڑ دیتا ہے ، اور پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ وہ اسے روک لے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے ، جسے دحیم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے ، جسے دحیم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 5298
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَكِبْتُمْ هَذِهِ الْبَهَائِمَ الْعُجْمَ فَإِذَا كَانَتْ سَنَةٌ فَانْجُوا ، وَعَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ فَإِنَّمَا يَطْوِيهَا اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم ان بے زبان جانوروں پر سواری کرو ، تو اگر خشک سالی ہو ، تو جلدی سے سفر کرو اور تم پر رات کے وقت سفر کرنا لازم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس ( زمین ) کو لپیٹ دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5299
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيَرْضَاهُ ، وَيُعِينُ عَلَيْهِ مَا لَا يُعِينُ عَلَى الْعُنْفِ ، فَإِذَا رَكِبْتُمْ هَذِهِ الدَّوَابَّ الْعُجْمَ فَنَزِّلُوهَا مَنَازِلَهَا ، فَإِنْ أَجْدَبَتِ الْأَرْضُ فَانْجُوا عَلَيْهَا ; فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ مَا لَا تُطْوَى بِالنَّهَارِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّعْرِيسَ بِالطَّرِيقِ ; فَإِنَّهُ طَرِيقُ الدَّوَابِّ ، وَمَأْوَى الْحَيَّاتِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
خالد بن معدان نے اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ مہربان ہے ، اور نرمی کو پسند کرتا ہے ، اور اس سے راضی ہوتا ہے ، اور اس پر ایسی مدد کرتا ہے ، جو سختی پر مدد نہیں کرتا ہے ، جب تم ان بے زبان جانوروں پر سواری کرو تو ان کے پڑاؤ کی جگہ پر انہیں ٹھہراؤ اور اگر زمین خشک سالی والی ہو ، تو وہاں سے جلدی گزر جاؤ اور رات کے وقت زمین کو یوں لپیٹ دیا جاتا ہے ، جو دن کو نہیں لپیٹا جاتا اور تم پر لازم ہے کہ تم رات کے وقت راستے میں پڑاؤ کرنے سے بچو کیونکہ وہ جگہ یہ درندوں کا راستہ اور سانپوں کا ٹھکانہ ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔